سانحہ ساہیوال- انصاف پر ملال!

4,497

ساہیوال سانحے کے تمام ملزمان عدم شواہد پر رہا! .’عدم شواہد”یہ لفظ اس کیس میں مقتولوں ، انکے کمسن معصوموں اور اس مُلک کے عوام کیساتھ سنگین مذاق ہے ۔ کیسا عدم شواہد؟ ساری دنیا نے کالی وردی میں ملبوس طاقت اور اختیار رکھنے والے سنگدلوں کی بربریت پر مبنی فلم دیکھی پھر بھی عدم شواہد؟

جس ادارے کے یہ لوگ تھے، جنہوں نے انہیں بھیجا تھا کیا انکے پاس اپنے ان کارندوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے نام نہاد آپریشن کرکے دہشت پھیلانے والے کون کون تھے؟ پھر بھی عدم شواہد؟

اس واقعے میں دیکھا گیا کہ سی ٹی ڈی اہلکار مقتولین کی گاڑی کو روک لینے میں کامیاب ہوگئے تھے، گاڑی میں سوار افراد نے اندر سے اپنے عام شہری ہونے ، بے ضرر ہونے کے باوجود سرینڈر کرنے کی دہائی بھی دی مگر شکار پر نکلے رکھوالوں ،جن کے سر پر خون سوارتھا نے ایک نہ سنی اور گاڑی میں موجود افراد جن میں بچے بھی شامل تھے پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ یہی نہیں بلکہ بربریت کے ان مناظر میں قیامت ڈھانے کے بعد، کاروائی انجام تک پہنچانے کے لیے، مردہ و نیم مردہ اجسام پر انتہائی قریب سے دوبارہ گولیاں برسائیں گئیں ۔ پھر بھی عدم شواہد؟

چلیے مان لیا کہ یہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن تھا ، خفیہ اطلاع پر تھا اور خفیہ اطلاع کبھی مکمل ہوتی ہے اور کبھی محض ایک لیڈ، تو سوال یہ بنتا ہے کہ جنھیں آپ کی انٹیلی جنس نے دہشت گرد بتایا تھا انہیں مارنا ہی کیوں ضروری سمجھا گیا؟ مارنے والوں کی زبردست ٹریننگ کی حقیقت یہی ہے کہ بس جس پر شک ہو اسکو مار دو ، پھڑکا دو اور زندہ پکڑنے کی نہ کوشش کرو، نہ ضرورت محسوس کرو؟

کیا کسی بھی کاروائی کے لیے ہمارے محافظ اداروں کے یہی ایس او پیز ہیں؟ کیا یہی انکی تربیت ہے؟

کیا ایسا ہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ کاروائی کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا انفرادی فعل تھا؟ ایسا ہے تو پھر اُن اہلکاروں کیخلاف کاروائی کرنا ادارے کی ذمہ داری نہیں تھی؟

اور اگر یہی اصول ہیں ، ایس او پیز ہیں، کسی کاروائی کے تو پھر شاباش ہے ہمارے اداروں کو اور تُف ہے قانون پر، عدالت پراور انصاف پر!۔

سوال یہ ہے کہ بھاری بجٹ سے چلنےوالے قانون کے محافظ اداروں میں باز پرس کے خوف اور جھنجھٹ سے آزاد، محافظوں کی وردی میں قاتل کیوں بنائے اور پالے جارہےہیں؟ ۔

کیا سی ٹی ڈی کے ذمہ داران افسران سے اس آپریشن اور اس میں حصہ لینے والے اہلکاروں اور اُنکے طرز عمل بارے اور اُنکے خلاف کاروائی بارے کوئی باز پرس نہیں ہونی چاہیے تھی؟

کیا وردی سے ملنے والے اختیار اور بندوق سے ملنے والی طاقت کے باعث اپنی ذمہ داری پس پشت ڈال کر اور انسانیت بُھلا کر بربریت ڈھانے والے اہلکاروں کی کوئی سزا نہیں بنتی؟

کوئی ذی شعور کیونکر مان لے کہ یہ مقدمہ عدم شواہد نہیں بلکہ لاقانونیت کی بنیاد پر ختم کیا گیا ہے؟

کیا ہم بیوقوف ہیں؟

عمر فاروق دنیا نیوز سے وابستہ ہیں۔ کتب بینی کا شوق رکھتے ہیں اور سیاسی و سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

فیس بُک پر یہ اس ایڈریس پر موجود ہیں
https://www.facebook.com/umer731

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.