سب سے خطرناک تنازعہ کشمیر

2,067

کنٹرول لائن کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری 27 اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں بھارتی فوج نے سرینگر پر اترتے ہی بے گناہ کشمیریوں پر مظالم، قتل عام اور جبری قبضے کا آغاز کیا تھا جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اس دن پوری دنیا میں کشمیری اپنے وطن پر بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مقبوضہ وادی کشمیر میں جہاں صورتحال روز بروز خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے، 5 اگست سے نافذ کرفیو نے پوری وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے۔ گزشتہ 82 روزہ کرفیو کی وجہ سے کشمیر کا رابطہ بیرونی دنیا سے کٹ چکا ہے کیونکہ تمام ذرائع ابلاغ انٹرنیٹ، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن اور اخبارات بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی بندش کے سبب وادی میں اشیاء خورونوش کی کمی کے باعث قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، شیر خوار بچے دودھ کیلئے بلک رہے ہیں، مریض دوائیوں کیلئے سرگرداں ہیں، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

انڈیا کشمیر کی جغرافیائی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی بھی کر رہا ہے۔ سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، نہتے کشمیریوں کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں وہ ممنوعہ ہتھیار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جن پر اسرائیل بھی پابندی لگا چکا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال کیوجہ سے ہزاروں کشمیری بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ مسلمانوں کی املاک و باغات کو تباہ کیا جا رہا ہے ، کشمیریوں کی تیار فصلوں اور جنگلات کو جلایا جا رہا ہے۔

بھارتی فوجی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈے کشمیری ماؤں بیٹیوں کی عصمت دری کر رہے ہیں، مساجد بند ہیں مسلمانوں کو مساجد میں نماز کی ادائیگی تک کی اجازت نہیں۔ کشمیری اپنے مرحومین کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں لیکن ان سب ظالمانہ اقدامات کے باوجود عالمی ضمیر جاگنے کا نام نہیں لے رہا اور بھارت کے قاتل ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔

اس صورتحال پر دنیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ مقبوضہ کشمیر کے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کر رہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظر آ رہی ہے۔

مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی، آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی آزادی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کشمیر کے معاملے پر حکومت پاکستان نے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے بھارت پر زور دیا گیا ۔

آخر کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کروانے میں بے بس ہے۔ لاکھوں کشمیری عوام حق خود اردایت کے حصول کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم کے بہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لئے کئی فارمولے اور معاہدے ہو چکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں کبھی مخلص نہیں رہا بلکہ جب بھی اس مسئلے کے بارے میں مذاکرات شروع ہوئے وہ کوئی نہ کوئی نیا محاذ کھڑا کر دیتا ہے جس سے کشمیر کا معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے اور پیشرفت رک جاتی ہے۔

مسئلہ کشمیر ڈیڑھ کروڑ سے زائد انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا مسئلہ ہے، آٹھ لاکھ بھارتی فوج وحشیانہ کارروائیوں کی مدد سے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ بھارت کا مسلسل غیر ذمہ دارانہ رویہ ایشیاء میں کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے، کنٹرول لائن پر روز بروز بڑھتی بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کسی بڑے تنازع میں تبدیل ہو گئی تو خطے میں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلانے لگیں گے جس کی آگ نہ صرف اس خطے کو لپیٹ میں لے گی بلکہ اس کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔ لہذا مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد حل ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان حالات میں ضروری ہے کہ عالمی برادری نہتے کشمیری مسلمانوں پر بھارت کے بدترین مظالم کا سلسلہ رکوانے میں کردار ادا کرے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے تاکہ مظلوم کشمیری مسلمان آزادی کی زندگی بسر کر سکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.