کیا گرے لسٹ میں رہنا پاکستان کی کامیابی ہے؟

1,385

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ، دہشتگردی سے متعلق مالیاتی نیٹ ورکس سمیت عالمی معاشی نظام کو درپیش خطرات سے نمٹنے کا بین الاقوامی ادارہ ہے جس کے ذمے عالمگیر تجارتی نظام کو شفاف انداز میں جاری رکھنے کیلئے قوانین پر عملدرآمد کروانا بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے وائٹ، گرے اور بلیک لسٹ کی درجہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر پوری طرح عمل کرنے والے وائٹ، جزوی تعمیل کرنے والے ممالک گرے اور عدم تعاون پر ممالک کو بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔ جو ممالک بلیک لسٹ ہو جاتے ہیں، عالمی معاشی ادارے اور رکن ممالک کے بینکوں کو ان سے لین دین سے روک دیا جاتا ہے اور یوں عالمی سطح پر وہ تنہائی کا شکار ہونے لگتے ہیں یہاں تک کہ وہ پھر سے ایف اے ٹی ایف کی طے کردہ سفارشات پر پوری طرح عملدرآمد کرنے لگیں۔

گزشتہ ہفتے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پیرس میں ہونیوالے اجلاس کے بعد صدر ژیانگ من لیو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے آنے کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں لیکن پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا پاکستان کو فروری 2020ء کی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے۔ تب تک پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فروری 2020ء تک خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جائے گا لیکن اگر فروری 2020ء تک پاکستان نے اس حوالے سے تمام شعبہ جات میں مثبت اقدامات نہ کیے تو ایکشن لیا جائے گا۔ اس ایکشن کے تحت ایف اے ٹی ایف اپنے ممبر ممالک کو کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے مالیاتی اداروں کو پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات کا جائزہ لینے کا کہیں۔

علاوہ ازیں اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب فروری 2020ء تک پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر کڑی نظر رکھی جائے گی جس کے بعد ایک بار پھر جائزہ لیا جائے گا کہ اِسے کس فہرست میں جگہ دی جائے۔ پاکستان اس وقت گرے لسٹ میں ہے اور اگر گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھا جاتا ہے تو اِسے پاکستان میں کسی حد تک کامیابی سے تعبیر کیا جائے گا۔

ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا گرے لسٹ میں نہ ڈالے جانا پاکستان کی کامیابی ہے یا ناکامی؟ اس سلسلے میں متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ مثلا حکومت کے حمایتی اسے پاکستان کی کامیابی گردانتے ہیں کیونکہ پاکستان اپنی کوششوں سے بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا ہے۔ لیکن حکومت مخالف آوازیں اسے پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی بتارہی ہیں۔ مثلا امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے ٹویٹ کیا کہ اب کی بار چین جو کہ ایف اے ٹی ایف کا سربراہ ہے، نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا ہے۔ حسین حقانی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ ایک وقت تھا جب گرے لسٹ سے نکلنا مقصود تھا مگر اب یہ وقت ہے کہ گرے لسٹ میں ٹھہرے رہنے پر شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔

ایک اور انٹی سٹیٹ گردانی جانے والی لبرل آواز گلالئی اسمائیل نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان سے ڈومورکا مطالبہ کرتے ہوئے فوری ایکشن کا کہا ہے لیکن اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کے قوانین پر عمل پیرا ہونے کی بجائے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمات درج کرے گا تو یقینا پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں 2015ء میں پاکستان کو گرے/بلیک لسٹ سے ہٹا کر وائٹ لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے اور ساتھ ہی وارننگ اور چار ماہ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے کہ پاکستان اپنا گھر ٹھیک کرے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی ٹویٹ جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ پاکستان کو گرے لسٹ میں فروری 2018 میں ڈالا گیا تھا جب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ بعد ازاں ایف اے ٹی ایف نے جون 2018 میں یہ نامزدگی کنفرم کردی تھی۔ بھارت ایک عرصہ سے دعوی کرتا چلا آ رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو تنہا کر دیا ہے لیکن ایف اے ٹی ایف کا حالیہ فیصلہ اس بات کی غماضی کرتا ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہوچکا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس اعلامیے میں پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا جاتا مگر پاکستان اپنے دوست ممالک مثلا ترکی، ملائشیا اور موجودہ ایف اے ٹی ایف کے صدر چین کی حمایت سے باآسانی بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی طر ف سے جو وارننگ جاری ہوئی ہے کہ اگر پاکستان نے ایکشن پلان پر عمل نہ کیا تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ یہ بھی صرف دھمکی ہی نظر آتی ہے کیونکہ پاکستان پہلے بھی 2012 سے 2015 تک تین سال گرے لسٹ میں رہ چکا ہے تب بھی اسکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تھا۔ اب کی بار پاکستان کو گرے لسٹ میں آئے ہوئے ابھی تقریبا ڈیڑھ سال ہوا ہے کیونکہ گرے لسٹ کی حالیہ نامزدگی جون 2018 سے کنفرم ہوئی تھی۔

ایف اے ٹی ایف چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروپوں اور انکے امدادی نیٹ ورک کا خاتمہ کرے لیکن پاکستان اور انڈیا کے درمیان جاری سرد جنگ کی بدولت یہ ممکن نہیں کہ ان دہشت گرد گروپوں کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے۔ بھارت ان گروپوں کو مسلسل مالی امداد دے رہا ہے جو پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے عمل سے سب سے زیادہ مایوسی بھارتیوں کو ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی سوشل میڈیا پر واویلا کررہے ہیں کہ پاکستان چین کی وجہ سے بلیک لسٹ میں جانے سے بچ گیا ہے کیوں کہ چین اس وقت ایف اے ٹی ایف کا صدر ہے۔ بھارتی جو بھی کہیں، حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کی زیرقیاد ت حکومت پاکستان اپنی بھر پور کوشش کررہی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے کیونکہ اگر ایف اے ٹی ایف پاکستان کو وائٹ لسٹ میں ڈالتی ہے تو اس سے پاکستان کا امیج ہی بہتر ہوگا جوکہ کمزور معیشت کے لئے تریاق ثابت ہوگا۔ یہ حقیقت ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے دئیے گئے اہداف پر عمل پیرا ہونے میں ہی پاکستان کی بہتری ہے اور حکومت وقت بھی انہیں کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.