لیہ میں سنگین سیکورٹی خدشات میں گھرا بچیوں کا ایک اسکول

2,849

دسمبر 2014 میں جب آرمی پبلک سکول کے بچوں کو سفاک درندوں نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور میری قوم نے ایک ہی دن بچوں اور اساتذہ سمیت 145 لاشے اٹھائے تو یہ وہ وقت تھے جب کھلے عام اسکولوں پر حملوں کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ قابل دید تھے وہ دن کہ میری قوم کی ماؤں نے ان دنوں بھی اپنے جان سے زیادہ عزیز بچوں کو سکول بھیجا۔ہر ماں سکول بھیجتے وقت اپنے بچے کا ماتھا چومتی تھی کہ کیا پتہ حالات یکسر نہ رہیں۔ یقینا تعلیم کے لیے پاکستان کے شہریوں کا شعور اور جذبہ ان دنوں قابل دید تھا۔ یہ وہ دن تھے جب ہر طرف خوف و ہراس تھا اور پورے پاکستان میں نیشل ایکشن پلان کے تحت سکولوں کی چاردیواری 8 فٹ اونچی کرنے اور سکیورٹی اصلاحات پر زور دیا جا رہا تھا۔ تب ضلع لیہ کی عوام نے معروف کاروباری شہر چوک اعظم میں موجود گورنمنٹ گرلز سکول و کالج کے سکیورٹی حالات پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

چوک اعظم میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، گرلز کالج اور بوائز ہائی سکول ایک ہی جگہ پر واقع ہیں، ان تینوں اداروں میں لگ بھگ 6 ہزار طالبعلم روز اکٹھے ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج اور سکول کے طرف جانے والے دونوں راستے صرف اتنے کشادہ ہیں کہ ایک رکشہ بمشکل گزر سکتا ہے۔ سکیورٹی حالات خراب ہونے پر مقامی سماجی رہنما سردار اظہر خان کھتران نے انتظامیہ کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کروائی کہ خدانخواستہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ہم بچیوں کی کثیر تعداد کو سکول کی بلڈنگ سےکیسے باہر نکال سکتے ہیں ؟کیوں کہ نہ تو وہاں آسانی سے ایمبولنسز پہنچ سکیں گی اور نہ ہی فائر برگیڈاور ایسے حالات میںتو ہم بری طرح پھنس جائیں گے اور زیادہ نقصان کا خدشہ ہے۔ متبادل راستہ بنانے کے لیے سرکاری جگہ موجود نہ تھی تو انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست مہر حبیب اللہ ڈلو سے جگہ بطور عطیہ مانگی تاکہ شہر کی بیٹیوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ اس وقت کے ڈپٹی کمیشنر رانا گلزار جوکہ بعد میں کمشنر ڈیرہ غازی خان بھی رہے نے اے ڈی سی میڈم لبنی نذیر جوکہ آج کل ڈپٹی سیکرٹری ایجوکیشن لاہور ہیں کو موقع ملاحظہ کرنے کے لیے بھیجا۔ سب ممبران اسمبلی اور اعلی حکام رضا مند تھے کہ بچیوں کی آمدورفت کے لیے متبادل راستہ بننا چاہیے لیکن مقامی مضبوط سیاست دان چوہدری بشارت علی رندھاوا جوکہ آج کل لیہ میں پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر ہیں نے اس پروجیکٹ کی مخالفت کی جس کی وجہ سے راستہ فوری نہ کھل سکا۔ اس کے بعد سید واجد علی شاہ، رفاقت علی نسوانہ، بابر بشیر اور ذیشان جاوید سمیت متعدد ڈپٹی کمیشنر آئے اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا گیا۔ ہر بیوروکریٹ نے مفاہمت کا راستہ نکالنے پر زور دیا لیکن سب ناکام رہے اور اس طرح قوم کی سانجھی بیٹیوں کی تعلیم میں آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے اس پر سیاست ہوتی رہی۔

اس معاملے پر سردار اظہر خان کھتران نے بتایا کہ وہ 2015 سے اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں، اس اہم مسئلے پر تمام متعلقہ دفاتر میں درخواست گزاری لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں صرف میری بیٹیاں نہیں بلکہ اس شہر اور ملحقہ دیہاتوں کی بیٹیاں بھی تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں اورکیوں کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اس لیے ہم نے قوم کی بیٹیوں کی تعلیم کو سہل بنانے کے لیے راستے کے مسئلے کو حل کرنے کوشش کی ،ہمارے دوست نے ہمیں اپنی کروڑوں روپے مالیت کی زمین سے 20 فٹ چوڑا راستہ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن ہم بارہا کوشش کے باوجود ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف چوہدری بشارت علی رندھاوا کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکے۔ ہم نے ہمت نہیں ہاری، ایک دن آئے گا جب ہم یہ کام انجام دیں گے۔

ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف چوہدری بشارت علی رندھاوا نے اس تنازعہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سے راستہ کھلوانے پر سب لوگ بضد ہیں وہاں دو ایکڑ کا پارک بھی موجود ہے اگر وہ راستہ کھولتے ہیں تو پارک دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا جو کہ نا قابل قبول ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ گزشتہ 40 سال سے موجود راستے کو کھولا جائے ،سکول و کالج کی طرف جانے والے راستے کشادہ ہیں لیکن لوگوں نے کچی آبادیاں قائم کر کے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ چوک اعظم میں تجاوزات کے خلاف بڑے آپریشن کی اجازت مل جائے۔ سارا کام مکمل کیا جا چکا ہے جلد ناجائز تعمیرات کو گرا کر راستے گشادہ کئے جائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر لیہ ذیشان جاوید کا کہنا ہے کہ مجھے لیہ میں تعینات ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ یہ مسئلہ مختلف تقریبات میں بھی زیر بحث رہ چکا ہے، میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سب سیاستدانوں کو متفق کر سکوں ،میڈیا نمائندگان سے گزارش ہے کہ مجھے چند دن کا وقت دیں تاکہ میں کسی نتیجے پر پہنچ سکوں، امید رکھیں اس تنازعہ کا حل ضرور نکلے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.