چار نئے عناصر کی دریافت اور ان کے نام

0 613

سائنس کے طالب علم یقیناً واقف ہوں گے کہ حال ہی میں چار نئے دریافت شدہ عناصر کے نام تجویز کیے گیے ہیں۔ گو کہ فی الحال یہ نام پانچ ماہ کے لیے آزمائشی بنیاد پر رکھیں گئے ہیں، اس بات کا قوی امکان ہے کہ نومبر 2016 میں ختم ہونے والے آزمائشی دور کے اختتام پر ان ناموں کو رسمی طور پر عناصر کے ٹیبل (پیراڈک ٹیبل) میں شامل کر لیا جائے گا۔

ان عناصر کو پہلے ان کے ایٹمی نمبرز سے جانا جاتا تھا۔ اور انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کے ایٹمی نمبر کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے طریقے کے مطابق ان عناصر کو عارضی طور پر نام دیے گئے تھے۔ عارضی ناموں کو اس وقت تک استعمال کیا جاتا ہے جب تک کہ ان عناصر کی دریافت اور وجود کے پختہ ثبوت نہ مل جائیں۔ جن سائنسدانوں نے نئے عنصر کی دریافت کا دعوٰی کیا ہوتا ہے،  وہ اس عرصے میں انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کو اپنی دریافت کے تجرباتی ثبوت فراہم کرتے ہیں اور اگر مہیا کیے گئے ثبوت تسلی بخش ہوں تو ان اس نئے دریافت شدہ عنصر کو باقاعدہ نام دے کر عناصر کے ٹیبل کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔

ان چار نئے عناصر کا ایٹمی نمبر 113،  115،  117،  118ہیں۔ اس حساب سے پیراڈک ٹیبل میں ان کی جگہ ساتویں افقی قطار میں ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری کے چند اصول ہیں، جن کی بنیاد پر نئے عناصر کے نام تجویز کیے جاتے۔ ان کے مطابق نام کسی پورانیک کردار یا تصور بشمول کوئی فلکیاتی اشیاء پر مبنی ہو سکتا ہے۔ معدنیات اور ان جیسی اور اشیاء پر مبنی ہو سکتا ہے، جگہ یا جغرافیائی خطے کا نام ہو سکتا ہے، سائنسدان کا نام ہو سکتا ہے، عنصر کی خصوصیات پر مبنی ہو سکتا ہے۔

ان اصولوں کی بنیاد پر ایٹمی نمبر 113 والے عنصر کا نام “نی ہون”  رکھا گیا۔ نی ہون جاپانی زبان میں جاپان کا نام ہے۔ اس عنصر کو جاپان کے ادارے(RIKEN) نیشنل سنٹر کے سائنسدانوں نے دریافت کیا۔  اس عنصر کی دریافت کا دعوٰی روس کے شہر دوبنیا میں موجود جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ نے بھی کیا تھا مگر انٹرنیشنل یونین آف پیور اینڈ ایپلائیڈ کیمسٹری نے اس عنصر کی دریافت کا اعزاز جاپانی سائنسدانوں کو بخشا۔

دوسرے اور تیسرے عنصر جن کے ایٹمی نمبر 115 اور 117  ہیں،  ان کا نام موسکوویم اور ٹینیسینی رکھا گیا ہے۔ ان کی دریافت جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ، دوبنیا، روس اور اوک رج نیشنل لیبارٹری، ٹینیسی، امریکہ میں موجود سائنسدانوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔ اسی بنیاد پر ان کے نام موسکوویم جو کہ ماسکو کی مناسبت سے رکھا گیا، اور ٹینیسینی جو کہ ٹینیسی سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔

چوتھے اور آخری عنصر کی دریافت جوائنٹ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ، دوبنیا، روس اور لیورمور نیشنل لیبارٹری، کیلیفورنیا، امریکہ کے محققین نے کی۔ اس کا ایٹمی نمبر 118 ہے۔ اس کا نام روسی ماہر طبیعیات یوری اوگانسیان کے نام کی مناسبت سے “اوگانیسون” رکھا گیا ہے۔

ان عناصر کو بہت بھاری عناصر کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے۔ رترفورڈیم (ایٹمی نمبر 104) سے بھاری تمام عناصر کو بہت بھاری یعنی سپر ہیوی عنصر کہا جاتا ہے۔ یہ عنصر قدرتی ماحول میں نہیں پائے جاتے، کیونکہ یہ تابکار کشی کے تحت اپنے آپ کو ہلکے عناصر میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ درحقیقت ایٹمی نمبر کسی بھی عنصر کے نیوکلس میں موجود پروٹون کو ظاہر کرتے ہیں اور اتنی زیادہ تعداد میں پروٹون کی موجودگی ایٹم کو غیر مستحکم کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے یہ بھاری عناصر تابکارکشی کے ذریعے اپنے آپ کو ہلکے عناصر میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ اس بنیاد پر ان عناصر کو مصنوعی یا ساختہ دستِ بشر بھی کہا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر پایا جانے والا بھاری ترین اور مستحکم عنصر یورینیم ہے (ایٹمی نمبر 92)۔

ایسے عناصر کو بنانے کا اولین مقصد تحقیقی ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ہمارے سیارے یعنی زمین کے ماحول میں یہ قدرتی طور پر پنپ نہیں سکتے مگر کائنات میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں ایسے عناصر کی موجودگی ممکن ہے اور اگر ہمیں کائنات کے مخفی رازوں کو پانا ہے تو ضروری ہے کہ ہم وہاں کے ماحول سے آشنا ہوں۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ وہاں موجود ماحول کو آپ مصنوعی طریقے سے زمین پر پیدا کریں۔ ان بھاری عناصر کی دریافت اور ان پر تحقیق اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ کہ اب ہمارے پیراڈک ٹیبل کی ساتویں افقی قطار مکمل ہے۔ ہمارے پاکستانی بک بورڈ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی  کیمیا کی کتابوں کی تجدید شدہ اشاعت شائع کر دیں۔ محققین آجکل ایسے عناصر پر کام کر رہے ہیں جن کا ایٹمی نمبر 118 سے زیادہ بھی ہو گا اور یہ قدرے مستحکم بھی ہوں گے۔ اس نظریے کو (island of stability) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ غیر مستحکم عناصر کے سمندر میں ایک ایسا خطہ یا جزیرہ ہے جہاں بہت بھاری عنصر بھی مستحکم ہوں گے۔ مراد یہ ہے کہ اس جزیرے پر موجود عناصر کی ہاف لائف سمندر میں موجود عناصر سے زیادہ ہو گی (جزیرہ اور سمندر کو لغوی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ یہ صرف وضاحت کے لیے ہے)

یقیناً ایسے عناصر کی دریافت تحقیق کے نئے باب کھولے گی اور انسانی زندگی کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.