ناقدین۔۔۔ پولیو فری پاکستان کے لیے خطرہ۔۔۔

2,536

لیہ کی صحرائی تحصیل چوبارہ میں مقیم 18خاندان اپنے بچوں کو پولیو ویکسین لگوانے سے انکاری ہیں جس کے بعد ڈاکٹرز نے لیہ میں پولیو پھیلنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے کیوں کہ پولیو وائرس کسی بھی متاثرہ فرد کے پاخانے سے آلودہ ہوجانے والے پانی یا خوراک میں موجود ہوتا ہے اور منہ کے ذریعے صحت مندافراد کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ وائرس کی تعداد جسم میں جا کر کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور یہ متاثرہ فرد کے جسم سے ایسی جگہوں سےخارج ہوتا ہے جہاں سے بہ آسانی کسی دوسرے انسانی جسم میں داخل ہو سکتاہے۔

ہمارے ہاں سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ والدین ہی اپنے بچوں کی صحت کے حوالے سے فکرمند دکھائی نہیں دیتے اور جب معاملہ پولیو جیسی بیماری کا ہو تو حالات اور بھی سنگین ہوجاتے ہیں۔ یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ پاکستانی والدین نہ تو پولیو کو موذی مرض سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لیےپولیو کے قطرے پلوانا لازمی سمجھتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر پولیو غلام مصطفی نے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ لیہ میں کل 18 خاندان ہیں جو اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین لگوانے سے انکاری ہیں ہم ان کے گھر پولیس ہمراہ بھی گئے ہیں لیکن ان خاندانوں نے اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین لگوانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ گزشتہ 18 سال سے لیہ پولیو فری ہے لیکن اکیویٹ فلیکسز پیرالائسز جو کہ معذوری کی ہی ایک بیماری ہے کے 107 کیس رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین پولیو کی وجہ سے لیہ میں پولیو پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔ 2001 میں یونین کونسل مرہان سے ایک پولیو کیس رجسٹرڈ ہوا تھا لیکن اس کے بعد لیہ میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ لیہ میں پولیو کمپین کے وقت کل 859 ٹیمیں حصہ لیتی ہیں جن میں 749 موبائل ٹیمیں ہیں جو گھروں میں جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتی ہیں 69 فکس ٹیمیں ہیں جو ہسپتالوں میں پولیو کاونٹر پر ڈیوٹی دیتی ہیں جبکہ 41 ٹرانزٹ ٹیمیں ہیں جو بس سٹاپس پر مسافر بچوں کو پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے کے لیے موجود رہتی ہیں۔ لیہ میں واڑاں سیہڑاں اور 90 ایم ایل کے علاقے جو ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ہیں وہاں پولیو ورکرز کو ہراساں بھی کیا گیالیکن پھر بھی ہم بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ پولیو کے قطرے پینے سے کوئی بچہ رہ نہ جائے.

پولیو ویکسین لگوانے سے انکاری خدائے رحیم خان، عبدالمنان خان، ظریف خان اور بہاول خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلاوائےہیں اور دوسری بیماریوں کے خلاف ویکسین بھی لگوائی ہے لیکن اس بار شدید گرمی میں جب بچوں کو پولیوکی ویکسین لگائی گئی تو بچے بیمار ہوگئے اس کے بعد ہم نے اپنے بچوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے انکار کیا ،ہم حکومت سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیارہیں لیکن بچوں کی صحت و تندرستی اولین ترجیح ہے۔

ڈاکٹر ناظم زیدی کا کہنا ہےکہ پولیو کے قطرے پینے سے بچے بیمار نہیں تندرست ہوتے ہیں ،البتہ ویکسین انجکٹ کرنے سے بچے کو بخار ہوجاتا ہے جس کے بارے میں پولیو ٹیمیں بروقت آگاہ کرتی ہیں اور دوائی بھی دیتی ہیں، اگر ناقدین پولیو کے خلاف بروقت کاروائی کر کے ان کے بچوں کو پولیو ویکسین نہ لگوائی گئی تو لیہ میں پولیو وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے، انتظامیہ اس کا کوئی مناسب حل نکالے۔

ڈپٹی کمشنر لیہ ذیشان جاوید نے بتایا کہ پولیو فری ضلع لیہ ہمارا مشن ہے، پولیو کوآرڈینیشن کمیٹی بھرپور تعاون کر رہی ہے اور سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ گزشتہ 18 سال سے لیہ میں کوئی بھی پولیو کیس سامنے نہیں آیا جو کہ پولیو کوآرڈینیشن ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے، جو لوگ پولیو ویکسین لگوانے سے انکاری ہیں ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو قائل کرسکیں وگرنہ قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ہیلتھ سپر وائزر رقیہ بانو نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معذوری کے کسی بھی کیس کی صورت میں ہم مریض کے پولیو متعلقہ ٹیسٹ کرواتے ہیں اگر رپورٹس کے مطابق پولیو کی نشاندہی ہو جائے تو اسے درج کیا جاتا ہے۔ تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرپور لگن کے ساتھ سردی گرمی کا خیال کیے بغیر پولیو کمپین مکمل کرتی ہیں ،لیکن ورکرز کو ہراساں کرنا، قتل کرنا اور اغواء کے کیسز ہمارے علمی و عملی شعور پر سوالیہ نشان ہیں، حکومت وقت کو چاہیے کہ سکولوں کے نصاب میں پولیو بارے آگاہی کے اسباق شامل کرے۔

سینئیر قانون دان مرزا عرفان بیگ ایڈووکیٹ نے قانونی مشاورت کے دوران کہا کہ وہ تمام لوگ جو حکومتی رٹ کے خلاف اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلاتے ان کے خلاف قانونی کاروائی لازمی ہونی چاہیے ،ہم روز لیڈی ہیلتھ ورکز کے ساتھ ہراسمنٹ اور تشدد واقعات سنتے ہیں اس حوالے سے بھی حکومت وقت کو واضح حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

سماجی رہنما و مورخ ناصر ملک نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سوشل میڈیا نے لوگوں کو شعور دیا ہے وہاں بہت سارے پراپیگنڈوں نے بھی جنم لیا ہے، پاکستان مخالف قوتوں نے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے پولیو کے قطروں اور ہیلتھ ورکرز کے خلاف جو مہم چلا رکھی ہے اسے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے ،دراصل ہمیں پولیو بارے مکمل آگاہی دی ہی نہیں گئی کہ پولیو کتنا خطرناک ہے ہمیں چاہیے کہ اس بارے عوام کو آگاہی دیں۔

پولیو کیا ہے؟
پولیو مائلائٹس (پولیو) ایک وبائی (تیزی سے پھیلنے والا) مرض ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور ٹانگوں اور جسم کے دوسرے اعضاءکے پٹھوں میں کمزوری کی وجہ بن سکتا ہے یا چند صورتوں میں محض چند گھنٹوں میں موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔پاکستان کبھی بھی پولیو سے پاک نہیں رہا، تاہم 2005 میں کیسز کی تعداد بہت ہی کم (28 تھی اور اس وقت سے اب تک یہ تعداد ہر سال بڑھتی رہی ہے اور 2014 میں زیادہ سے زیادہ (306) تک پہنچ گئی۔ جب کہ 2019 میں ابھی تک 64 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں

پاکستان میں پولیو کیوں پھیل رہا ہے؟
پولیو اس وقت تک پھیلتا رہے گا جب تک ہر جگہ سے اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ بچوں کو ہر جگہ قطرے پلائے جائیں تاکہ جب وائرس ان کے علاقے میں پھیلے تو وہ اس سے محفوظ رہیں۔ ایک مرتبہ جب وائرس کسی علاقے میں اپنی جگہ بنا لیتا ہےتو یہ ان بچوں کو باآسانی متاثر کر سکتا ہے جنہوں نے پولیو ویکسین کے قطرے نہیں پیئے ہوتے۔

پاکستان کے بچوں میں پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے حکومت کیا کر رہی ہے؟

حکومت پاکستان پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کے لئے “قومی مہم برائے انسداد پولیو”(NIDs) کا انعقاد کررہی ہے۔ یونیسف، عالمی ادارہ صحت، روٹری، ریڈ کراس اور ہلال احمر اور انسانی ہمدردی رکھنے والے اور سول سوسائٹی کے دیگر گروپوں سمیت بہت سے غیرملکی اور مقامی ادارے ان مہموں کی منصوبہ بندی اوران پر عمل درآمد کے لئے مدد کر رہے ہیں۔ان بچوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے جو سیکورٹی خدشات، گھر والوں کے انکار یا دیگر وجوہات کی بنا پر ماضی میں قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔ ایسے بچوں میں پولیو کی بیماری ہونے کے سب سے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔یہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پاکستان اور دنیا سے مکمل طور پر پولیو کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

حد سے زیادہ منفی پروپیگنڈا

انسداد پولیو مہم جتنا اچھا پروگرام ہے، بدقسمتی سے وہ اتنے ہی بڑے پروپیگینڈے کا شکار ہے، زیادہ تر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس منفی پروپگنڈے میں ایک مخصوص سوچ کے حامل افراد کی کثرت ہوتی ہے، بعض اشاعتی ادارے یا ان سے وابستہ افراد سمیت ملک کی اہم ترین شخصیات کی جانب سے انسداد پولیو مہم پر کبھی کبھار مختصر ہی سہی مگر منفی حوالے سے کی گئی بات کے بڑے خطرناک نتائج دیکھنے میں آئے ہیں اور لوگ اپنے پسندیدہ اداروں اور افراد کے بیان کو پولیو قطروں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ انسداد پولیو کے خلاف بولنے والے افراد کے بیانات نے جہاں عوام کے دلوں میں پولیو قطروں سے نفرت پیدا کی وہیں ایسے افراد کے بیانات نے پولیو ورکرز کے کام میں بھی مختلف رکاوٹیں کھڑی کی، جس کے باعث 2012 سے اب تک پورے ملک میں 70 سے زائد ورکرز کو جان سے ہاتھ دھوناپڑا۔

حال ہی میں پشاور سے بھی ایک خبر سامنے آئی کہ پولیو ویکسین پینے سے سینکڑوں بچوں کی حالت غیر ہوگئی، بدقسمتی سے مین اسٹریم میڈیا میں یہ خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلی، مگر بعد ازاں محکمہ صحت کے حرکت میں آنے اور تحقیقات ہونے پر جیسے ہی حقائق سے پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کچھ ایک مقامی اسکول کے پرنسپل کی ایما پر رچائے گئے ڈرامے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

نیشنل کنٹرول لیب فار بائیو لوجیکل نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین عالمی معیار کے مطابق ہے۔

پاکستان میں پولیو ویکسین کے معیار پر نیشنل کنٹرول لیب فار بائیو لوجیکل کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ لیبارٹری نے ملک بھر میں انسداد پولیو مہم سے قبل پولیو ویکسین کے معیار کی جانچ پڑتال کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین میں کوئی شک و شبہ نہیں، پاکستان میں بچوں کو دی جانے والی پولیو ویکسین عالمی ادارہ صحت اور ڈریپ کے معیار کے مطابق اور مکمل محفوظ ہے

ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر چوبارہ ڈاکٹر طاہر افتخار چوہدری نےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ناقدین پولیو بچوں کو پولیو ویکسین لگوانے سے مکمل طور پر انکاری ہیں۔ ہم پولیس کے ہمراہ بھی گئے ہیں، ان کو قائل کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے لیکن ناقدین پولیو کسی صورت بھی ویکسین پلانےکے لیے تیار نہیں ہیں۔ ناقدین پولیو کے خلاف کاروائی کا کوئی قانون موجود نہیں ،بہت پہلے سمال پاکس کی ویکسینیشن سے انکاری لوگوں کے خلاف کاروائی کا قانون بنایا گیا تھا لیکن پولیو کے لیے تاحال ایسا کوئی قانون نہیں بنایا گیا۔ جولوگ پولیو ویکسین لگوانے یا قطرے پلانے سے انکاری ہوتے ہیں ان کو ڈپٹی کمشنر اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ضلع بدر کر سکتا ہے. علاقے میں پولیو کےبارے میں انوائرمنٹل ٹیسٹ کےسوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہاں ایسا کوئی ٹیسٹ نہیں کیا گیا لیہ کے پولیو فری ہونے کی اصل وجہ صرف اور صرف ہماری پولیو ٹیم کی لگن اور محنت ہے۔

پولیو کے خلاف جنگ لڑتے پاکستان کو 20سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا لیکن تاحال ناکامیابی کی وجہ یہی لوگ ہیں جو بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلواتے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ جولوگ اس موذی مرض کے خلاف حکومتی رٹ کو نہیں مانتے ان کا شناختی کارڈ بلاک کر کے ان کو ملک بدر کیا جائے اور تعلیمی نصاب میں پولیو سے معذوری بارے اسباق شامل کیے جائیں دوسری صورت میں پولیو کے خلاف 100 سالہ تحریک بھی ناکافی ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.