جنوبی ایشیاء کا پہلا انسداد تشدد مرکز

2,270

صنف نازک پر گھریلو تشدد اور ظلم و ستم ہمارے معاشرے کا انتہائی دردناک المیہ ہے اور یہاں خواتین کے مسائل کے حل، ان پر گھریلو تشدد، زیادتی و سنگین جرائم اور دیگر غیرمناسب معاشرتی رویوں سے نمٹنے کے لیے علیحدہ سے ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جب قوم کی بیٹیاں اپنے مسائل کے حل کے لیے پولیس سٹیشن، میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ کے لیے ہسپتال یا دیگر اداروں کا رخ کرتی ہیں تو انہیں مردوں کے معاشرے میں روایتی اور انتہائی غیر مناسب رویئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ معمولی نوعیت کے سماجی مسائل کے حل کے لیے بھی خواتین کو مناسب پلیٹ فارم میسر نہیں جسکی وجہ سے اکثر خواتین کہیں خاندانی رنجشوں تو کہیں اپنوں کے امتیازی رویوں کے باعث زندگی کے اہم فیصلوں پر آزادی سے اپنی مرضی کا اظہار نہیں کر پاتیں۔

خواتین کے ان ہی جیسے بے شمار مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے پہلی بار 2016ء میں وائلنس اگینسٹ ویمن سنٹرز ( انسداد تشدد مرکز برائے خواتین) کے قیام کے لیے ایک علیحدہ اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔ صوبائی وزیر قانون پنجاب کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی میں سپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم، آئی جی پنجاب، سیکرٹری قانون، ہوم سیکرٹری، سوشل ویلفیئر اور ویمن ڈویلپمنٹ کے نمائندے شامل تھے۔

اس کمیٹی کی سفارشات پر وائلنس اگینسٹ ویمن ایکٹ 2016ء اسمبلی سے پاس کروایا گیا جس کے تحت ہر ضلع میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر اہتمام ایک وائلنس اگینسٹ ویمن سنٹر ( انسداد تشدد مرکز برائے خواتین) قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس ایکٹ کے تحت مارچ 2017ء میں ملتان میں پہلا انسداد تشدد مرکز برائے خواتین  قائم ہوا جو کہ نہ صرف پورے پاکستان بلکہ ساؤتھ ایشیاء میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ ہے۔ جہاں زیادتی، ظلم و تشدد کی شکار خواتین کو عالیشان عمارت اور شفاف ترین ماحول میں خواتین سٹاف پر مشتمل پولیس، پراسیکیوشن، ماہر نفسیات، مصالحتی کمیٹی اور طبی معائنے کی سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کر دی گئی ہیں۔

ان سنٹرز میں خواتین کو گھریلو تشدد اور دیگر نامناسب رویوں سے بچانے کیلئے قانونی، طبی اور کونسلنگ سمیت دیگر ضروری مدد فراہم کی جاتی ہے، میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ بھی یہیں سے جاری کیا جاتا ہے جو کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کمیشن سے منظور شدہ اور ملک کے تمام اداروں اور عدالتوں میں بطور ثبوت تسلیم شدہ ہے۔

اس ادارے کی سربراہ منیجر( انسداد تشدد مرکز برائے خواتین) ہے جو کہ ادارے میں موجود تمام شعبہ جات کی کوارڈی نیشن اور مانیٹرنگ کی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ ان کے اختیارات مجسٹریٹ کے برابر ہیں اور انہیں یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کوئی آرڈر پاس کریں یا کسی کی گرفتاری کا حکم صادر فرمائیں۔ عام طور پر پولیس سٹیشن کی حدود ایک علاقے تک محدود ہوتی ہے جبکہ اس ( انسداد تشدد مرکز برائے خواتین) کی حدود پورے ضلع تک ہے۔

گزشتہ دنوں وائلنس ایگینسٹ ویمن سنٹر( انسداد تشدد مرکز برائے خواتین) ملتان کے وزٹ کے دوران ادارے کی محترمہ ثناء جاوید سے ان کے ادارے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی تاکہ اس منفرد نوعیت کے ادارے کی خدمات کو اجاگر اور مظلوم خواتین تک اس ادارے کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا سکے۔

محترمہ ثناء جاوید نے بتایا کہ یہ ادارہ خواتین کو انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، ظلم و تشدد کی شکار خواتین اس ادارے سے مکمل احساس تحفظ اور اعتماد کیساتھ رابطہ کرتی ہیں۔ جس دن یہ ادارہ قائم ہوا پہلا کیس اسی دن رجسٹرڈ ہو گیا تھا۔ انسداد تشدد مرکز برائے خواتین ملتان میں اب تک 3500 سے زائد کیس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں زیادہ تر کیس گھریلو تشدد کے آتے ہیں، اس کے علاوہ سائبر کرائم، نفسیاتی مسائل، خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر دوسری جگہ منتقل کرنا، ذہنی و جسمانی ٹارچر اور ریپ وغیرہ کے کیس آتے ہیں۔ یہ ادارہ سنگین نوعیت کے کیسز کی تقریباً 83 ایف آئی آر درج کروا چکا ہے جبکہ ادارے کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ عام نوعیت کے کیسز میں خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے خاندانی مسائل کو مصالحتی کمیٹی کے ذریعے سلجھایا جائے، مصالحتی طریقہ کار کے تحت فریقین میں صلح کروائی جاتی ہے کیونکہ اس ادارے کے قیام کا مقصد گھروں کو جوڑنا ہے انہیں توڑنا نہیں۔

یہی وجہ ہے یہاں آنے والی مظلوم خواتین انتہائی مطمئن اور دعائیں دیتی جاتی ہیں۔ حکومت پنجاب کی خصوصی دلچسپی سے وائلنس ایگینسٹ ویمن ایکٹ 2016ء کے تحت قائم منفرد نوعیت کے اس ادارے میں ایک ڈی ایس پی، ایک ایس ایچ او، 6 انویسٹی گیشن افسران کی ٹیم کے علاوہ پولیس کی علیحدہ نفری بھی موجود ہوتی ہے۔ یہاں سنگین نوعیت کے کیسز میں ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر حوالات میں رکھا جاتا ہے اور ملزمان کو پابند سلاسل رکھنے کے لیے مرد و خواتین کے لیے دو علیحدہ حوالات موجود ہیں۔

ادارے میں ذہنی و نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے نفسیات کا شعبہ اور ماہر نفسیات کی سہولت موجود ہے۔ وائلینس  اگینسٹ ویمن سنٹر متی تل روڈ ملتان کے لیے دو ججز نوٹیفائیڈ ہیں اور ان کی عدالتیں اسی سنٹر میں ہی موجود ہیں۔ خواتین کو محفوظ رہائش گاہ فراہم کرنے کیلئے عمارت بنائی جا رہی ہے، تعمیر مکمل ہونے کے بعد دارالامان کو بھی یہاں شفٹ کر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ادارے کی اپنی ایمبولینس ہے جو کہ زخمی خواتین کو ہسپتال پہنچانے کے لیے 24 گھنٹے موجود  رہتی ہے۔ وائلینس ایگینسٹ ویمن سنٹر کی مانیٹرنگ اور خدمات میں بہتری کے لیے بورڈ آف گورنرز قائم ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے افراد شامل ہیں۔ اس ادارے کی انتہائی عمدہ کارکردگی کا چرچا سن کر پاکستان میں موجود تقریباً تمام ممالک کے سفیر یہاں وزٹ کر چکے ہیں۔

اس ادارے کی بڑھتی مقبولیت اور خواتین کی سہولت کے لیے حکومت نے مزید 4 شہروں میں وائلینس اگینسٹ ویمن سنٹرز کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا بجٹ 20-2019ء میں فنڈ مختص کیا ہے جوکہ لاہور، راولپنڈی ، فیصل آباد اور بہاولپور میں قائم ہوں گے۔ بلاشبہ ان مثالی اداروں کے قیام سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں کمی آئے گی اور خواتین جو کہ پاکستان کی کل آبادی کا نصف ہیں، ان میں احساس تحفظ پیدا ہو گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.