یکساں نظام ِ تعلیم ایک ادھورا خواب!

613

کوئی ملک مادی وسائل سے نہیں بلکہ تعلیم سے ترقی کرتا ہے۔ علم ہمیشہ مہذب قوموں کی اولین ترجیح رہی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں وہاں کے تعلیم یافتہ طبقے کا سب سے زیادہ حصہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں تعلیم کا معاملہ بڑا عجیب و غریب ہے۔ یہاں تعلیمی بجٹ سے زیادہ اہم سڑکیں اور ریلوے ٹریک ہیں جن پر تعلیم کے مقابلے میں کئی زیادہ بجٹ رکھا جاتا ہے۔ معیار تعلیم اور نظام تعلیم دونوں کا معاملہ انتہائی مخدوش ہے۔

ہمارا مسئلہ وہی یکساں نظام تعلیم، معیار تعلیم اور نظام تعلیم کا ہے۔ سب سے پہلے جو چیز قومی سطح پر طے کرنے کی چیز ہے وہ نظام تعلیم ہے، یکساں نظام تعلیم کے تحت ہی معاشرہ ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کرسکتا ہے۔ ورنہ طبقاتی نظام تعلیم معاشرے کی وحدت کو پارہ پارہ کردیتا ہے۔ جس سے تعمیر و ترقی نہیں بلکہ نفرت و حقارت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ اعلیٰ طبقے کے لوگ نچلے طبقے کے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، انہیں کم تر سمجھتے ہیں۔

پاکستان کے تعلیمی نظام میں سب سے بڑی خامی نظام تعلیم میں ہے، جہاں شہری، دیہاتی، میٹرک، کیمبرج، مدرسہ کتنے ہی طرز کی تعلیم رائج ہے، پھر دیہات میں اُردو ذریعہ تعلیم ہے۔ شہروں میں اور مہنگے نجی تعلیمی ادارے انگریزی میں تعلیم دیتے ہیں۔ دیہات سے بچے تعلیم پا کر شہر میں مزید تعلیم کے لیے آتے ہیں تو نصاب میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر ان کے اتنے سال کی تعلیم پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے، طالب علم دلبرداشتہ ہو کر کامیابی کی منازل طے کرنے کے بجائے ناکامی کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں، اکثر اوقات تعلیمی سفر کو یکسر خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ معیار تعلیم کا یہ حال ہے کہ ملک کے بعض علاقوں کے سرکاری اور نجی اسکول کے پانچویں جماعت کے طلبہ میں سے 48 فی صد لکھی ہوئی اُردو تک نہیں پڑھ سکتے۔تو دوسری طرف ماسٹرز ڈگری والوں سے اظہار خیال یا ایک اچھی درخواست نہیں لکھی جاتی۔

دُنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت پاکستان شعبہ تعلیم میں اہداف کے حصول میں کئی دہائیاں پیچھے ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان بنیادی تعلیم کے میدان میں اہداف کے حصول میں پچاس سال، جب کہ ثانوی تعلیم کے میدان میں ساٹھ سال پیچھے ہے۔ ہماری آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یعنی کل آبادی میں گیارہ کروڑ 30 لاکھ نوجوان ہیں جو کل آبادی کا 65 فی صد بنتا ہے۔

پاکستان میں اتنی بڑی نوجوانوں کی آبادی ہونے کے باوجود ان سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ اس کی وجوہات میں اسکولوں میں بچوں کا داخلہ نہ ہونا، ناقص بنیادی تعلیم اور نظام تعلیم اور فنی تربیت کا فقدان ہے۔ اس وقت ملک میں اسکول جانے والے بچوں کی عمر کے دو کروڑ بیس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جب یہ دو کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہوں گے تو بڑے ہو کر یہ صرف محنت اور مزدوری کرنے والے کام ہی کرسکیں گے۔ اس طرح آبادی کے ایک بڑے حصے کی صلاحیت قومی سطح پر ضائع ہوجائے گی۔

پاکستان کی نصابی مقصدیت کو ملکی اور بین الاقوامی ضرورتوں کے مطابق ڈھال کر ہی ہم ترقی کرتی دُنیا کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔ہمیں قرآن پاک اور سنت رسولؐ سے راہ نمائی بھی لینا ہو گی۔ ایک نظام ِ تعلیم ہمیں بتاتا ہے کہ طالب علم کس عمر سے کیا، کیسے، اور کس حد تک پڑھے گا وغیرہ وغیرہ؟ ہمارے ہاں اکثر برٹش، امریکن یا مجموعی طور پر مغربی تعلیمی نظاموں پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ یہ تمام نظام ہائے تعلیم اپنی اپنی جگہ بہت اچھے اور معیاری ہیں۔ مگر اسلامی نقطہء نظر ان سے کئی گنابہتر راہنمائی کرتا ہے۔

آج جب دُنیا چاند پر پہنچ چکی ہے اکیسویں صدی میں بھی ہمارا اعلی مقصدیت کا فقدان اولین نقص ہے۔ قابل ِ توجہ ہے کہ طالب علم نے اگر میٹرک کیا ہے تو ایف اے کرنے کے لئے، ایف اے کیا ہے تو بی اے کرنے کے لئے، بے اے کیا ہے تو ایم اے کر نے کے لئے، ایم اے کیا ہے تو ایم فل کرنے کے لئے اور اگر ایم فل کیا ہے تو پی ایچ ڈی کر نے کے لئے، بالآخر ان ڈگریوں کا حصول محض ایک اچھا پے سکیل ہے یا نمبروں کی دوڑ یا پھر اچھی نوکری، اس سے زیادہ ہماری تعلیم کا مقصد نہیں رہا۔

اپنے ذاتی کسب اور محنت سے قرآن ِ مجید، حدیث نبویؐ اور علماء کی بصیرت سے استفادہ کر نے کے بعد علم کی مقصدیت اور معرفت کے کسی مقام پر متمکن ہونا ایک مختلف چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شعوری سطح پر ہمیں کسی اعلی مقصد کے ساتھ تعلیم نہیں دی جاتی رہی یا یہ کہ ہم خود ہی کسی اعلی مقصد کے ساتھ تعلیم حاصل نہیں کرتے رہے۔ یہ دونوں باتیں ہی اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ ملکی سطح پر پورے کے پورے تعلیمی نظام (ایڈمنسٹریشن، نصاب اور طالب علم) میں کہیں نہ کہیں اعلی مقصد کا فقدان ہے۔

مقاصد کا تعلیمی پالیسی میں صرف رکھ دینا کافی نہیں۔ ان مقاصد کا پورے کے پورے تعلیمی نظام اور مشینری کے ساتھ عملی طور پر ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے۔

نصابی مقصدیت کی تبدیلی کے لئے تعلیم کی نئی تعریف کی جائے گی۔ تعلیم دراصل ایسی مہارتوں کو طلباء میں منتقل کرنے کا نام ہو گا جو اسے آئندہ اپنی ذاتی اور قومی زندگی میں مسائل کو اللہ کے دئیے ہوئے علم کے تحت بہترین طریقے سے حل کر نے میں مدد دے سکیں جبکہ تربیت ان مہارتوں کا تخلیقی اور عملی اطلاق ہے۔ لکھنا اور پڑھنا بنیادی علمی مہارتیں ہیں، انہیں سیکھنے پر علم کا دروازہ گویا ایک طالب علم پر کھلنے کو تیار ہوگا۔ انہیںBasic Cognitive Skills کہا جائے گا۔ ان کے سیکھنے کے بعد کوئی طالب علم باقاعدہ طالب علم کہلانے کا مستحق ہو گا۔ یہ مہارتیں آگے چل کر ایک طالب علم کوPractical Skills سیکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ غور و فکر، صبر، ایمانداری، انصاف اور اختراع ایسی پانچ Practical Skills ہیں جن کے بغیر کوئی ذاتی اور قومی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام نظام ہائے تعلیم میں ان تمام مہارتوں کا اطلاق انسانی جبلتوں اور مفادات کے ماتحت کر دیا جاتا ہے جبکہ زیر بحث نصابی مقصدیت کے لئے ان مہارتوں کا اطلاق اللہ تعالی کے خوف کے ماتحت ہو گا۔ تعلیم کا بنیادی مقصد طلباء کے ذہنوں میں مذکورہ بالا پانچ مہارتوں کا شعوری درس اور اطلاق، ان کی ذاتی اور قومی زندگیوں میں اس طرح متعین کرنا ہے کہ وہ کائنات میں اللہ تعالی کی علمی اور تکنیکی دسترس کے قائل ہو کر اس کی عبادت میں بہترین معیار حاصل کر سکیں۔

غور و فکر یا تحقیق کا قرآن مجید میں جگہ جگہ ذکر ہے۔ غورو فکر کا مطلب علم اور معلومات حاصل کرنا بھی ہے۔ انصاف میں، صبر اور ایمانداری شامل ہے۔ ایماندارانہ روش، اللہ تعالی اور آخرت کے خوف کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ وہ صفات ہیں جن کے لئے قرآن مجید میں جگہ جگہ تعلیم ملتی ہے۔ جبکہ اختراع غورو فکر کا حتمی نتیجہ ہے۔ حضرت یوسفؑ کے قصے میں گندم کو خوشوں میں ہی محفوظ رکھنے، حضرت نوحؑ کو کشتی بنانے میں، یاجوج ماجوج سے محفوظ رکھنے کے لئے لوہے کی دیوار کے بنانے وغیرہ میں، اللہ تعالی کی طرف سے معاملات کو تکنیکی اختراع کے ذریعے حل کرنے کا اشارہ ملتا ہے۔ جبکہ تکنیکی علوم میں اختراع کا نتیجہ ٹیکنالوجی کی صورت میں سامنے آتا ہے جو ملکی سلامتی اور ترقی کا باعث ہوتی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ﷺ نمبر 1099 ہے اور اس کے راوی طلحہ ابن عبیداللہؓ ہیں۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور آپ ﷺ ایک دفعہ کجھوروں کے درختوں کے قریب کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ے۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ ًانہوں نے جواب میں کہا کہ ہم پیوند کاری کر رہے ہیں یعنی نر اور مادہ کو ملا رہے ہیں اس سے پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔اس پر آپ ﷺ نے فرمایا مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فائدہ ہو۔مطلع ہونے پر ان لوگوں نے وہ کام چھوڑ دیا۔حضور پاک ﷺ کو بعد میں بتایا گیا کہ کھجوروں کی پیداوار میں کمی آگئی تھی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس میں کچھ فائدہ ہے تو انہیں ضرور وہ کام کر لینا چاہئے۔ وہ تو میری ذاتی رائے تھی۔ میری ذاتی رائے پر مت جایا کرو، ہاں جو کچھ میں اللہ کی طرف سے کہوں وہ قبول کر لیا کرو کیونکہ میں اس بڑی شان والے عظیم اللہ کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کرتا۔ اس حدیث نبویؐ سے معلوم ہو تا ہے کہ حضور پاک ﷺ نے کسی تکنیکی علم کو استعمال کرنے سے نہیں روکا بلکہ اس کے اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔ بشرط کہ اس کا استعمال انسانیت کی فلاح کے لئے ہو۔

علم کیا ہے؟
مجوزہ تعلیمی نصاب کی مقصدیت کے تناظر میں علم کا اصل سرچشمہ اللہ تعالی کی ذات اقدس ہے۔ اللہ تعالی کی ذات ہمارے لئے ایک عظیم علمی اور تکنیکی کسوٹی ہے۔ سائنس کی تعریف کے بغیر تجویز شدہ نصابی مقصدیت کا حصول نا مکمل ہے۔اسلام میں سائنس کی تعریف کیا ہے؟

قرآنِ مجید سے سائنس کی تعریف کچھ یوں اخذ کی جا سکتی ہے۔

سائنس دراصل باقاعدہ طریقے سے یہ جاننے کا علم ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی تخلیقات کو کس قدر منظم بنایا ہے۔

قرآن مجید کی جس آیتِ مبارکہ سے یہ تعریف اخذ کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے: پارہ نمبر27، آیت نمبر49، سورہ نمبر54، سورہ القمر
’’بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے سے پیدا کیا ہے‘‘

قرآن و حدیث نبویؐ اور مادہ علم کے وہ بنیادی مظاہر ہیں جن میں اللہ تعالی کی علمی دسترس پنہاں ہے۔ جوں جوں ہمارے طلباء ان پر غور کریں گے، ان کے ایمان و عمل میں پختگی اور ٹیکنالوجی کی صورت میں ملکی ترقی میں اضافہ ہو گا۔ یہی اس تعلیمی نظام کا مقصد ہے۔ حکومت وقت نے اس نصابی مقصدیت کے لئے احکامات جاری کرنے ہیں اور آئندہ اپنی نصابی کتب میں مجوزہ سائنس کی تعریف اور نصابی مقصدیت کے تحت اپنے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اللہ تعالی کی ذات کو وہ اہمیت دینی ہے جو اس کا حق ہے۔

ہمارے پاس قرآن و سنت کی صورت میں بہترین راہبر ہیں۔ ہمیں بس مساوات کو اپنا اصول بنانا ہے۔ مطلب یہ کہ یکساں نظام تعلیم کا رائج۔ یقیناً یکساں تعلیمی نظام کا نہ ہونا تعلیمی میدان میں ناکامی کے سوائے کچھ نہیں۔لیکن! فی حال ہمارے لیے یکساں نظام ِ تعلیم ایسا ہی ہے جیسے ایک ادھورا خواب۔۔۔۔

دنیا نیوز پیپر کے علاوہ کئی دوسرے نجی نیوز پیپرز میں قلمکاری کرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ کشمیر کے لوکل ، یوٹیوب اورٹی وی چینلز میں تجزیہ نگاری بھی کرتے ہیں جو ہفتے کے تین سے چار دن چلتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.