مظبوط معیشت کی ضرورت اور ڈیم کی اہمیت !

1,609

ملک کی خودمختاری، دفاع، عوام کی صحت و تعلیم وغیرہ معاشی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں

اس کا حل:

قرض لینے اور بیرون ملک سے بددیانتی کی رقم کی واپسی سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ حل یہ ہے کہ اپنے ملک کی پیداوار زیادہ کریںتاکہ اشیاء کی فراوانی سے عوام کو سستی چیزیں ملیںاور برآمدات زیادہ ہوںاور درآمدات کم ہوںاور قرض لینے کےبجائے قرض اتارنے کے قابل ہوں۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

پانی پانی کرگئی مجھے قلندر کی یہ بات

توجھکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن

اس کا طریقہ کیا ہو؟

پیداوار زیادہ کرنے کے لئے زراعت اور صنعت کو ترقی دینا ہوگی۔ موجودہ زرعی زمین کے علاوہ بنجر زمین آباد کرنے کے لئے پانی زخیرہ کرنے کی ضرورت ہے یعنی ڈیم کی۔

صرف صوبہ KPKمیں ڈی آئی خان میں 8لاکھ ایکڑ بنجر زمین آباد ہوگی یعنی 32000 مربع زمین۔ اس سے کم از کم 6400 خاندان آباد ہوں گے۔ یہ تو صرف کاشتکار خاندان ہیں۔ کتنے گائوں آباد ہوںگے؟ ہر گائوں میں کاشتکار خاندانوں کے ساتھ دوسرے لوگ (لوہار، ترکھان، دکاندار وغیرہ) بھی آباد ہوں گے۔ پھر محکمہ انہار اور مالیات میں بہت آسامیاں پیدا ہوں گی۔ دوسرے صوبوں کی بنجر زمین آباد کرکے کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا۔ تھر میں بچے غذائی قلت سے بچ جائیں گے۔ زرعی اشیاء ملک میں سستی دستیاب ہوں گی اور وہ اشیاء برآمد بھی کی جاسکیں گی۔

صنعت:

ڈیم سے زراعت کے فائدے کے علاوہ بجلی بطور بائی پروڈکٹ پیدا ہوگی۔ یہ سستی بجلی وافر مقدار میں صنعت کو ملے گی تو صنعتی پیداوار زیادہ اور سستی ہوگی۔ عوام کو سستی اشیاء بھی ملیں گی اور یہ برآمد بھی کی جا سکیں گی ۔

تھر میں بجلی پیدا کرنے کے لئے جو خرچ ہوتا ہے اس سے نجات ملے گی۔ مرحوم ڈاکٹر محمد یعقوب بھٹی صاحب کی ڈیم کی اہمیت کتاب Another 200 letters (2009-2013) for Kalabagh Damمیں صفحہ نمبر 24 بحوالہ ڈان لاہور مورخہ 9 مئی 2013 میں لکھا ہے کہ تھرمل پاور کے لئے سالانہ 7 ارب ڈالر رکا تیل درآمد کرنا پڑتا ہے اور صفحہ نمبر15 پر بجلی کی کمی پوری کرنے کے لئے تقریباً 2 ارب ڈالر کے ایک کروڑ یو پی ایس اور آٹھ سو کروڑ بیٹری پر خرچ ہوتے ہیں۔ صنعت کو کم بجلی کم قیمت پر ملتی ہے۔ پن بجلی کی قیمت زیادہ سے زیادہ 2.5 روپیہ ہے(بحوالہ ماہرین آبی و توانائی)۔

پہلے کون سا ڈیم(یعنی ڈیم کی تعمیر کی ترتیب):

اس کے متعلق ماہرین آبی وتوانائی اور صحافی حضرات کی طرف سے بہت چھپ چکا ہے۔ مثلاً سابق چیئر مین واپڈا جناب شمس الملک، ظفر محمود صاحب، محمد سلیمان خان، چیئرمین سندھ طاس واٹر کونسل جناب کرنل ریٹائرڈ عبدالرزاق بگٹی ،جناب اسداللہ غالب، محمد اسلم خان ، ڈاکٹر سلیم سیف اور مرحوم ڈاکٹر یعقوب بھٹی کی کتاب۔

ڈیم کے لئے ضروری ہے کہ ٹھیک جگہ کا انتخاب ہو، جگہ زلزلے سے محفوظ ہو اور آسان رسائی ہو، تعمیر سے پہلے تعمیر کی ہوئی سڑکوں کی بندش نہ ہو، زراعت کے لئے نہریں بنانا آسان ہو، بجلی کی ترسیل آسان ہو،لائن لاس کم ہو، کم لاگت اور کم وقت درکار ہو۔ ان سب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے کالاباغ کو موضوع قرار دیا۔ ورلڈ بنک نے فزیبلٹی رپورٹ تیار کروائی ہے، تعمیر میں مدد کی یقین دہانی کروائی ہے۔ کالاباغ ڈیم کے لئے سڑکیں اور رہائشی کالونی تک بن چکی ہے۔ اس سے بنجر زمین آباد ہوگی، بجلی کی ترسیل بہت آسان، ڈیم کے لئے یہ جگہ دنیا کی بہترین یعنی بے نظیر بیان کی گئی ہے۔

اس ڈیم کے متعلق سندھ والوں کے خدشات کا جواب کرنل عبدالرزاق بگٹی صاحب آف لاڑکانہ اور KPK والوں کے خدشات کا جواب جناب شمس الملک صاحب دے چکے ہیں۔

اس کے برعکس بھاشا ڈیم زلزلہ کے زون میں ہے جوکہ بہت خطرناک ہے۔ سارا پاکستان زلزلہ آنے کی صورت میں بہہ سکتا ہے۔ زراعت کو فائدہ نہیں ہوگا، بجلی کی لائن بہت لمبی ہوگی، چائنہ سے رابطہ کی سڑک ختم ہوگی۔ اس کی لاگت 12-14 ارب ڈالر ہوگی۔ 3 ارب سڑکوں کے لئے، 2 ارب بجلی کی لائن کے لئے درکار ہوں گے۔ وقت 15 سال کا ہوگا۔ ورلڈ بنک اور کسی بھی اور مالیاتی ادارے نے رقم دینے سے انکار کردیا، یعنی تعمیر ناممکن۔

ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ کی وجہ:

یہ سب ہمارے سیاستدانوں خاص کر سابقہ سیاسی حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔ جناب یوسف رضا گیلانی صاحب سابقہ وزیراعظم کے بقول کالاباغ ڈیم سیاست کی نظر ہوگیا۔ پھر راجا پرویز اشرف صاحب سابقہ وزیراعظم اور سید خورشید صاحب نے کالاباغ ڈیم دفن کردیا۔ جناب احمد مختار صاحب نے اس کے حق میں بیان دیا۔ جناب میاں نوازشریف صاحب نے جناب ظفر محمود صاحب آف واپڈا کو کالاباغ ڈیم کے متعلق سلسلہ وار روزنامہ نوائے وقت میں مضمون لکھنے پر فارغ کردیا۔

مرحوم ڈاکٹر بھٹی صاحب کی کتاب صفحہ نمبر 149 پر Un-Holy Compromise معاہدے کا ذکر ہے جو کہ جناب آغا شاہی صاحب لیڈر عوامی نیشنل پارٹی نے ٹی وی چینل پر بتایا ہے کہ میاں نوازشریف صاحب تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی ختم کروانے کے لئے (18 ترمیم) پاس کروانے کے لئے PML(N)اور ANP کے درمیان معاہدہ کیاکہ 18 ترمیم پاس کروائیں گے۔ صوبہ کا نام KPK رکھا جائے گااور کالاباغ ڈیم نہیں بنے گا۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر میاں صاحب نے قومی مفاد بیچ دیا۔ 2006 اور 2013 میں بھاشا ڈیم کے کام کا افتتاح کرکے سادہ لوح عوام کو سبز باغ دکھایا گیا۔

اب حل کیسے ہو؟

عدالت اور ٹی وی چینل سے حل ممکن ہے۔ اخبارات میں بہت چھپ چکا ہے۔ مرحوم ڈاکٹر بھٹی صاحب نے انگلش اخبارات میں 2009-2013 میں 200 خطوط کو کتابی شکل میں چھاپا ہے۔ ٹی وی کو عوام زیادہ دیکھتے ہیں۔ اس لئے ٹی وی مالکان اللہ کی مخلوق کی خاطر عوام کو حقیقت بتائیں کہ سادہ لوح سیاستدانوں کی باتوں میں نہ آئیں بلکہ ان سے عملی کام کروائیں۔ جلسے جلوس سے ملک کا نقصان ہوتا ہے بلکہ ہر حلقے کے لوگ بغیر کیسی سیاسی وابستگی سے اس حلقہ کے سیاستدانوں کو آگاہ کریں کہ آئندہ ووٹ لینا ہے تو یہ کام کریں ورنہ ہمارے پاس نہ آئیں۔

عدالت:

اللہ تعالیٰ کے بعد لوگوں کی امید زمین پر عدالت ہوتی ہے۔ عدالت کالاباغ ڈیم کے مخالفین اور حامی حضرات اور ماہرین آبی و توانائی کو بلائیں اور ڈیموں کی سائٹ کا معائنہ کی اس ضلع کی عدالت کے اعلیٰ عہدیدار سے رپورٹ منگوائیں اور پھر فیصلہ دیں۔ ازخود نوٹس کا اختیار ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خاطر یہ آپ کا فرض ہے اوراس کو ادا کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور حکمرانوں کو اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں انجام سے آگاہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کی رہنمائی فرمائے۔ آمین۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.