اپنا ٹائم آئے گا؟

3,017

سچ کہوں تو ظلم و ستم دیکھ کر ہم سب تھک چکے ہیں۔۔ کچھ بدلنے کی کوشش، غلط کی نشاندہی اور مظلوموں کے حق میں لکھنا مجھے لاحاصل سعی محسوس ہونے لگا ہے مگر مجبور ہوں کہ ‍ظلم و جبر کو چپ چاپ برداشت کرنا بھی قابل مذمت جرم ہی ہے۔۔ اس مخدوش بے جان وجود کی تصویر دوسرے بہت سے بچوں کی تصویروں کے ساتھ میرے ذہن کے دریچوں میں ہمیشہ رہے گی۔۔ مجھے یاد رہے گا کہ پندرہ ،سولہ سال کے کم عمر لڑکے کی ہزاروں خواہشیں، بے شمار خواب اور ڈھیروں ارمان جب سانس کی ڈور کے ساتھ ٹوٹ کے مٹی ہوئے تو اس کی کالی ٹی شرٹ پہ سفید حرو‍ف میں “اپنا ٹائم آئے گا” لکھا ہوا تھا۔۔ اور وہ مجھے سوچنے پہ مجبور کر گیا کہ “اپنا ٹائم کب آئے گا”۔؟

ہمیں توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی اتنی عادت کیوں پڑ چکی ہے۔؟ سگنل توڑا، قانون توڑا، قطار توڑی، وعدہ توڑا یہاں تک کہ بے جھجک دل توڑے اور جب زبان کی تیزی سے توڑ پھوڑ کر کے دل بھر جاتا ہے تو ہاتھ کی تیزی زور پکڑ لیتی ہے اور پھر جو جس کے ہتھے چڑھا وہ تو گیا۔۔ نا ہی بے لگام انسان نما حیوان کسی کی جان لیتے ہوئے ڈرتے ہیں اور نا ہی ہڈیاں پسلیاں ایک کرتے ہوئے۔۔ یہ کیسا ستم ہے کہ انسانیت کی تذلیل تغمہ جان کر بخوبی ریکارڈ بھی کی جاتی اور صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر بھی۔۔ اچھے کام کے لیے گھر سے نکلنا پڑے تو چھتیس سو بہانے راه روکتے ہیں پرغل غباڑہ اور قومی و ذاتی املاک کو برباد کرنے کے لیے لوگ جوک در جوک کیوں کھنچے چلے آتے ہیں۔؟

ہم ایسے دوغلے، مفاد پرست اور ہٹ دھرم لوگوں کے نام نہاد معاشرے کا حصہ ہیں جہاں سارا غم و غصہ، لعن طعن اور سزا غریب، مسکین اور کمزور طبقے کے حصے میں آتی ہے۔۔ جہاں اور جب موقع ملنے پر ہر شے میں بے ایمانی کرنے والے افراد بھی چند سو روپوں کی چوری کے شبہ میں کسی بھی انسان کو چور گردانتے ہوئے مار مار کر اس بے کس کی جان ہی لے لیتے ہیں۔۔

مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ منافقت، عدم برداشت اور ہمارے رویوں کی شدت پسندی انسانیت اور امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔۔ دین اسلام تو صبر، برداشت اور درگزر کی تلقین کرتا ہے اور ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ حقوق اللہ سے پہلے حقوق العباد کے بارے میں سوال پوچھا جائے گا۔۔ سزا و جزا، اللہ اور بندے کے بیچ کے معاملہ میں دخل تو ہم بخوشی دیتے ہیں مگرایک بندہ دوسرے بندےکے ساتھ معاملے میں ذرا سی نرمی بھی نہیں برتتا۔ آئے دن دلخراش واقعات ہوتے ہیں، ان پہ زور شور سے تبصرے پیش کیے جاتے ہیں، بریکنگ نیوز نشر کی جاتی ہیں مگر سبق پھر بھی نہیں سیکھا جاتا۔۔ اتنی بے حسی کیوں۔؟ سب کچھ مٹی میں رلنے میں کچھ پل ہی لگتے ہیں۔۔ یہ ہے زندگی کی اصل حقیقت اور اتنی سی ہے ہماری اوقات پھر بھی روئے زمین پہ فانی انسان نڈر اور بے خوف ہو کے کیسے فرعون بنا پھرتا ہے۔؟

کیسا کھلا تضاد ہے کہ امراء اور صاحب اثرو رسوخ کی اربوں کھربوں کی نظر آنے والے کرپشن اور چوری کو بچانے کے لیے بے شمار ہتھکنڈے اور حکمت عملی بروئے کار لائی جاتی ہے مگر ایک عام انسان پہ چوری کا صرف شبہ بھی اس کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔۔ دن دیہاڑے اتنا ظلم کہ جیتے جاگتے انسان کو بے رحمی سے پیٹ کر میت ہی بنا ڈالتے ہیں ،یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ بھی کسی کا لخت جگر ہے اور اسے بھی اپنی صفائی پیش کرنے کا حق ہے۔۔ چلیں مان لیا کہ مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھنے والے چور اچکے ہوتے ہیں مگر بے دردی اور غیر انسانی طور پہ مار پیٹ کر کے ان کا بھرکس نکالنے اور انھیں اگلے جہاں سدھارنے کا پرمٹ ہجوم کو کیسے حاصل ہو گیا۔؟ عوام کی خود ساختہ عدالت کو قانون ہاتھ میں لینے اور سرعام من پسند فیصلے بے کسوں اور کمزوروں پہ صادر کرنے کا حق کس نے دیا ہے۔؟

معذرت کے ساتھ، بحیثیت قوم ہماری سوچ آلودہ، تعفن زدہ اور دل گھٹن زدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اپنا غصہ، بغض اور گھٹن ہم مختلف حیلوں بہانوں سے نکالتے رہتے ہیں۔۔ جیسا کہ مر‍‌ضی کے خلاف کچھ ہو جانے پہ کسی نے اپنی بائیک جلا دی تو کسی نے رکشہ اور جب اپنا کچھ برباد کرنے کو من نہ ہو تو دوسروں کی شامت آگئی۔۔ اپنا نقصان تو کیا مگر اپنے ہم وطنوں کا جانی و مالی نقصان کرنے کا حق کسی بھی صورت میں کسی کو حاصل نہیں. بلڈنگز، دفاتر، معصوم جانیں، گاڑیاں، بسیں اور امن و سکون کب تک شدت پسندی اور آتش زدگی کی نظر ہوتی رہیں گی۔؟

کیا “اپنا ٹائم آئے گا” کی امید ہمارے زنگ آلود دلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔؟

“کیا ہماری سوچ اور ہم خود بدلیں گے ؟”۔؟ عدل و انصاف، برداشت، درگزر، حب الوطنی، قوت ایمانی، نظم و ضبط اور بڑی بڑی تبدیلیوں کی باتیں کرنے والے ہر فرد کو پہلے خود اور اپنے غلط رویوں کو بدلنا ہو گا ورنہ اپنا ٹائم کبھی نہیں آئے گا۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.