پاکستان کا اہم ترین اور متنازعہ ترین قانون۔

6,448

خبر دار، ہوشیار! اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پہلی بیوی سے اجازت لینے کےبعد آپ دوسری شادی کر سکتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ یقین نہیں تو اپنے نکاح نامے کے کالم نمبر 21 اور 22 دیکھ لیں۔ یہ نہ ہو کہ آپ کا انجام بھی وہی ہو جو چند روز قبل کشمیری شہری لیاقت علی کا ہوا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کشمیری شہری لیاقت علی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے دی گئی 1 ماہ قید اور 5 ہزار روپیہ جرمانے کی سزا قائم رکھی۔ اس نےپہلی بیوی سے اجازت لی ہوئی تھی مگر مصالحتی کونسل سے اجازت نہ لی تھی، لہذا عدالت نے اپنے فیصلے میں اسے قابل سزا جرم قرار دیا .جبکہ مسلم عائلی قانون 1961 کے تحت شوہر پہلی بیوی کا اجازت نامہ مصالحتی کونسل میں جمع کروائے گا ۔ مصالحتی کونسل دونوں پارٹیوں کو طلب کرے گی اور سنے گی اسکے بعد اگر وہ مناسب سمجھے تو اجازت دے گی ورنہ آدمی دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ اگر کرے گا توپہلے بیوی کہ فوری بقایا مہر، مہر غیر معجل ادا کرے گا۔ سزا کا قانون میں کہیں ذکر نہیں۔ معزز چیف جسٹس صاحب اس فیصلے کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اگر آپ پہلی بیوی سے اجازت نہیں لیتے تو قانون کے مطابق آپکو 1 سال تک کی سزا اور 5 لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جیسا کہ چند روز قبل لاہور کے رہائشی راشد محمود کو ہوا ۔ راشد محمود کی بیوی نے شکایت درج کروائی کہ اسکے شوہر نے اسکی اجازت کے بغیر دوسری شادی کر لی ہے ،عدالت نے الزام ثابت ہونے پر شوہر نامدار کو 11 ماہ قید اور 2 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ یہ فیصلہ تو قانون کے مطابق ہے مگر کیا یہ قانون اسلام اور انصاف کےتقاضوں پر پورا اترتا ہے؟ اس قانون کے بننے کے محرکات جاننے کے لیئے ہمیں ماضی کا سفر کرنا پڑے گا۔

شنید ہے کہ حکمران نے وقت کے کی شادی اپنی سیکرٹری سے۔ تنظیم تھی ایک مستورات کی، بہت مشہور ، نام تھا جسکا اپوا ۔کیا احتجاج انہوں نے محمد علی بوگرہ کے گھر کے سامنے ۔ لگائی جائے پابندی کثیر الازدواجی پر اور لگائی جائے پابندی چھپ کر شادی کرنے پر۔ رفتہ رفتہ اس احتجاج نے ملک گیر حیثیت اختیار کر لی ۔ اس تحریک کے دباؤمیں آ کر حکومت نے 4 اگست 1955 کو شجاع الدین صاحب کی صدارت میں 7 رکنی کمیشن بنایا۔ شجاع صاحب کی وفات کے بعد صدارت کی کرسی پر میاں عبدالرشید متمکن ہوئے ۔ انکے علاوہ کمیشن میں ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم (سیکریٹری)،مولانا احتشام الحق، عنایت الرحمان، بیگم شاہ نواز ( اپوا کی نمائندہ) بیگم شمس النہر محمود ، بیگم انور جی احمد شامل تھے۔اس کمیشن کے ذمے شادی اور خاندانی معاملات کے متعلق اسلام کے مطابق قانون سازی کرنا تھا۔ اس سے پہلے ترکی اور تنزانیہ جیسے مسلم ممالک میں پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی پر مکمل پابندی کا قانون بھی موجود تھا۔ اور یہ مثال کمیشن کے سامنے تھی۔

اس کمیشن نے پہلی رپورٹ تجاویز 20 جون 1956 کو شائع کی۔ مولانا تھانوی کا اختلافی نوٹ 30 اگست 1956 کو الگ شائع کیا گیا۔ مولانا احتشام الحق نے بھی یہ تجاویز مسترد کیں اور مؤقف اپنایا کہ طلاق اور دوسری شادی کے لیے عدالتی اجازت نامہ کی شرط شرعی قوانین کو محدود کرنا اور ایمان اور خاندانی نظام دونوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے بھی بھرپور مخالفت کی ۔ کہا گیا کہ تجاویز شریعت ایکٹ 1937 کے تحت پیش کیا جا رہا ہے نہ کہ اپوا کے دبائو پے۔ سب مخالفتوں کے باوجود مارچ 1961 میں عائلی قوانین مجریہ 1961 منظور اور لاگو ہو گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ 1956 کے آئین کے تناظر میں یہ مملکت خداداد کے قیام کے بعد بننے والا کوئی بھی پہلا قانون ہے جو قرآن و سنت کے مطابق بنایا گیا ہے مگر کیا یہ قانون واقعی قرآن و سنت کے مطابق ہے؟ 1956 کا آئین تو نہ رہا مگر یہ قانون آج بھی لاگو ہے۔

یہ پاکستانی معاشرے کا سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ متنازعہ قانون ہے۔ اس قانون کے تحت علماء کے زیر نگرانی انتظامی اور عدالتی ڈھانچہ قائم ہوا۔ لاہور کے 14 علماء نے متحد ہو کر اسے غیر اسلامی قرار دیا۔ تاہم کراچی کے کچھ علماء نے درمیان کا راستہ نکالااور حکومت کو دعوت دی کہ اگر وہ علماء کو اس سسٹم میں قاضی اور مصالحتی کونسل کا ممبر بناتی ہے تو اس قانون کو قبول کیا جا سکتا۔ مارشل لاء کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل میاں طفیل کو لاہور کے 14 علماء کا فتویٰ چھاپنے کی پاداش میں قید کر دیا گیا اور چھاپا گیا مواد قبضہ میں لے لیا گیا۔ حکومت نے اس قانون کے خلاف کچھ بھی بولنے،لکھنے اور چھاپنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
۔

خواتین کے شادی،ازدواجی اور طلاق کے، معاشی اور معاشرتی حقوق کیلیے اس قانون کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔مگر ایک بڑا طبقہ آج بھی اس قانون کو غیر اسلامی قرار دیتا ہے۔ ایوب خان نے مفتی محمد شفعی کے اعتراض پر کثیرالازدواجی کو اعلٰی درجے کا وحشی تشدد قرار دیا تھا۔ ایوب اور ضیا دور میں علماء اور اسلامی کونسلوں نے کئی بار اس قانون کو ختم کرنے کی سر توڑ کوششیں کی اور اس متعلق حکومت وقت پر بہت دبائو ڈالامگر خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں نے انکی ایک نہ چلنے دی۔ دی وومن ایکشن فورم نے علماء کی مہمات کے خلاف کامیاب دستخط مہم چلائی۔

یہ نہیں کہ یہ پورا قانون ہی اسلامی اصولوں کے خلاف ہے ۔ دوسری شادی، طلاق رجسٹری اور وراثت کی شقوں کے علاوہ باقی تمام شقیں وہ ہیں جن میں اسلام حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ قانون سازی کر سکتی ہے۔ وفات پا چکی اولاد کی اولاد اسلام کے مطابق وراثت کی حقدار نہیں ہے۔ مگر اس قانون کے مطابق بچوں کو اتنا حصہ ہی ملے گا جتنا اگر انکا باپ زندہ ہوتا تو اسکو ملتا۔۔ دیگر اسلامی ممالک جیسے ملائیشیا نے ایسی صورت میں دادا کو پابند بنایا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے مر چکے بچے کے بچوں کو تقریبآ ترکہ کا ایک تہائی حصہ لازمی حبہ کر جائے یا انکے حق میں وصیت کر جائے۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ براہ راست وراثت میں حصہ دینے کے بجائے ملائیشیا ماڈل کو اپنائے ۔

اسلام مرد کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے۔ بے شک ارشاد باری تعالٰی ہے کہ وہ انصاف نہیں کر پائے گا۔ ممانعت پھر بھی نہیں ہے۔ انتخاب دے دیا گیا ہے کہ ایک سے زائد شادیاں کرنی ہیں تو کر لو، توازن قائم رکھنا! نہ رکھ سکے تو باز پرس ہو گی۔ ایسی صورت میں حکومت زبردستی مردوں کو بازپرس سے نہیں بچا سکتی۔ بلکہ ایسی پابندیاں چوردروازوں کا راستہ دکھاتی ہیں۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ اس قانون میں ترمیم کر کے اسے عین اسلام کے مطابق بنائے یا عدالت عالیہ کو چاہیےکہ اسکی فرضیت کو ختم کر دے جیسے فیڈرل شریعت کورٹ نے طلاق کی رجسٹری کے غلط استعمال شدہ گردیزی اصول کو غیر اسلامی قرار دیا تھا اور پارلیمنٹ نے نئی قانون سازی کی تھی۔

مردوں نے طلاق کی رجسٹریشن کی شق کا غلط فائدہ اٹھایا۔ عدالت عالیہ نے ایک فیصلے سید علی نواز گردیزی بنام لیفٹیننٹ کرنل محمد یوسف میں فیصلہ سنایا کہ شوہر طلاق کا نوٹس نہیں بھجوائے گا تو طلاق منسوخ تصور کی جائے گی۔ یہ فیصلہ گردیزی قانون کہلایا۔ یہ قانون اسلام کے اصولوں کے عین خلاف تھا مگر پاکستان میں ایک عرصہ نافذرہا اور کچھ مرد حضرات نے اسکو بلیک میلنگ کا طریقہ بنا لیا۔ وہ یوں کہ مرد اپنی بیوی کو بغیر نوٹس طلاق دے دیتا ،جب بیوی دوسری شادی کر لیتی تو اس پر زنا کا پرچہ درج کروا دیتا کہ یہ میری اب تک منکوحہ ہے ۔ عورت لاکھ کہتی کہ اسنے طلاق دے دی ہے کیونکہ اسکے پاس نوٹس نہ ہوتا تو وہ طلاق ثابت نہ کر پاتی۔ پروٹیکشن آف وومن ایکٹ 2006 کے نفاذسے اس قبیح روایت کی بیخ کنی ہوئی۔

آج صورتحال یہ ہے کہ شادی کی رجسٹریشن اور وراثت کے علاوہ اس قانون کے سیکشنز پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا۔ نہ مناسب حق مہر ملتا ہے اور نہ ہی بعض اوقات عورت شوہر کی طرف سے دی ٖگئی زبانی طلاق کو معاشرے اورعدالت کے سامنےثابت کر پاتی ہے۔ دیہات میں زیادہ اور شہری علاقوں میں کم مگر نکاح نامے کے خواتین کے متعلق خانے اکثر خواتین کی مرضی پوچھے بغیر فل کیے جاتے ہیں اور کچھ کو کراس کر دیا جاتا ہے جبکہ یہ سب شقیں عین عدل ہیں۔۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ فیڈرل شریعت کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے احکامات اور تجاویز پر غور کرے ، جہاں ضروری ہے وہاں ترامیم کراور عوام میں شعور پیدا کرنے کی مہم چلائے کہ کون کون سے معاملات میں اسلام حکومت کو قانون سازی کا اختیار دیتی ہے۔ بنگلہ دیش نے یہ قانون ہم سے ورثہ میں لیا اور وہاں آج بھی یہی قانون رائج ہے۔

مصنفہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور وہاڑی کی عدالتوں میں پریکٹس کرتی ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Makia khan کہتے ہیں

    Nice

  2. Makia khan کہتے ہیں

    Nice topic of discussion

تبصرے بند ہیں.