کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟

3,269

پانچ اگست سے دو ہفتے قبل بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی ۔یہ تعداد ہزاروں سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کا مجموعہ عبور کر گئی۔بھارتی مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر و پاکستان میں اس عمل کو لے کر خوب تشویش کی لہر دوڑگئی۔ وزیر اعظم پاکستان اس سارے عمل سے ٹھیک دو ہفتے پہلے امریکہ کا دورہ کر کےآئے تھے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہیں اور انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی اس مسئلےپر ثالثی کے لیے درخواست کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی اس پیش کش کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔پاکستانی قوم میں ایک جذبہ قومیت بیدار ہوا کہ ان کا لیڈر بڑا معرکہ مار آیا ہے،لیکن اس سب کے پس پشت کیا چل رہا تھا کسی کوکو ئی خبر نہیں تھی۔وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرفتاریوں کا کھیل چلتا رہا۔نیب ،کرپشن اور تُو چور ،میں پاک صاف کی گیم بڑی دلچسپی سے ٹیلی ویژن سکرینوں کی زینت بنتی رہی۔ اخباروں میں اداریےچھپتے رہے اور سوشل میڈیا پر پٹواری اور یوتھیے اپنے اپنے آقاؤں کےلیے جزا و سزا کا میدان سجائے اپنا اپنا منجن بیچ رہے تھے۔

کہانی میں زہر اس وقت بھرا جب وادی کشمیر مکمل فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی ۔ کچھ بڑا ہونے والا ہے اور آپ نے یہ کیا تو ہم وہ کر دیں گے جیسی باتیں گردش کرنے لگیں ۔ پاکستان میں جمہوریت کے مقدس ایوانو ں میں چوہے بلی کا کھیل کھیلنے والے حکومت اور اپوزیشن کے رہنما اس بات سے بے خبر تھے کہ پچھلے ایک ماہ سے بھارتی میڈیا میں کیا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں اور اخبار کیا لکھ رہے ہیں۔ ان سب کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی، کیونکہ کسی کی ابو بچاؤمہم چل رہی تھی اور کوئی تبدیلی کے صفحے ٹٹول رہا تھا ۔ اُدھرجناب وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی کنٹرول لائن پر فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا ۔کشمیریوں کی شہادتیں ہونے لگیں ،اس وقت تک یہاں اسلام آباد والوں کو خطرہ کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی تھی ۔پھر 4 سے 5 اگست کا د ن آگیا ۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کو جو کچھ دہلی میں ہونے والا تھا یہاں اسلام آباد میں موجود کچھ جمہوروں اور غیر جمہوروں کو اس کا علم تھا کہ نریندر مودی پانچ اگست کوبھارتی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے اپنی کابینہ میٹنگ میں کیا بات کرے گا اورکشمیر میں یہ ایک لاکھ اور کچھ ہزار اوپر جو تازہ فوج تعینات ہے یہ کیوں لائی گئی ہےاور پانچ اگست کی شام تک بھارتی سینیٹ کس بل کی منظوری دینے والا ہے!.یہ سب یہاں اسلام آباد والوں کے علم میں تھا لیکن یہ رازداری اورر اس پر کچھ نہ کرنا شاید ان کے اُن بیانات کی تائید تھی جو یہ اپنے دور کنٹینر میں فرمایا کرتے تھے یا یہ سب واشنگٹن ڈیل کا حصہ تھا؟

جناب عمران خان نے اک بار فرمایا تھا کہ کشمیر کا بہترین حل اس کی تین حصوں میں تقسیم ہے. بلکل اسی طرح کی تقسیم جس طرح جناب مودی نے فرمائی ہے۔لداخ الگ اور جموں و کشمیر الگ الگ انتظامی اکائیاں بنادی گئیں ہیں اور یوں کشمیر کامسئلہ کاغذ پر دھری چند سطروں میں حل کرنے کی نا ممکن کوشش کی گئی۔ یہ بھول کر کہ اس ریاست کے جغرافیے میں ستر سالوں سے خون اس کی حد بندی کی لکیروں کو دوبارہ اپنے رنگ سے روشنائی دے کر تازہ کرتا رہتاہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے کئی برسوں سے بر سر پیکار تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آئین اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ ایک اکھنڈ بھارت کاقیام اور ریاست جمو ں وکشمیرکو بھارت میں ضم کرنا ان کا مشن ہے۔اب کی بار نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے فوری بعد پہلا کام اپنی فاشسٹ جماعت کے آئین کی تکمیل کرتے ہوئے کشمیر کی ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر نے کا کیاہےلیکن ہم کسی خدائی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ اسلام آباد میں جمہوریت کے معزز ایوانوں میں تو معجزے ہو سکتے ہیں ،جیسے حالیہ سینیٹ انتخابات میں جن اور پریاں چئیرمین سینیٹ کا انتخاب کر گئے،لیکن کشمیر یوں کی تاریخ کے ساتھ کوئی معجزہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ اب ہو رہا ہے اور نہ ہو سکے گا۔

اب ہم او آئی سی کی جانب دیکھ رہے ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ اس اقوام متحدہ سے اُمیدیں لگائی جا رہی ہیں جس کی قرارداوں کے ساتھ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کھلواڑہو گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ جو فلسطین کو ابھی تک انصاف نہ دلوا سکی ۔ وہ او آئی اسی جوناجیریا ، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کر سکی ۔ جو ایران اور سعودی عرب کی نفرت نہ مٹا سکی اور دنیا کے دیگر مسلم علاقوں سے مسلم کشی نہ رکوا سکی ۔

محترم عمران خان صاحب! 6 اگست کو پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوتا ہے وہاں آپ کی زباں آپ کے جسم کا ساتھ نہیں دیتی ۔ آپ حواس باختہ نظر آتے ہیں اور سوال کرنے پر کہتے ہیں کہ کیا کروں میں؟ ۔۔جنگ کروں ؟ گویا آپ بے بس ہیں۔ اچھا یہ تو ہم جانتے ہی ہیں لیکن خان صاحب آپ نے بھارتی وزیر اعظم کے دوبارہ انتخابات جیتنے پر انہیں مبارکباد کے ساتھ لکھ بھیجا تھا کہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا ۔ہم کو معلوم نہیں تھا کہ آپ یہ حل پہلے سے طے کر چکے ہیں ۔ کشمیر کی تقسیم کی جو بات آپ نے اک برس پہلے کی تھی کہیں یہ موجودہ تقسیم آپ کے اس بیان کا تسلسل تو نہیں؟ کیا آپ اس ڈیل کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے یا آپ اس کا حصہ بھی ہیں ؟

افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.