اندھے لوگ

1,360

آج کل آپ کسی سے بھی بات کریں ،کچھ بھی گفتگو ہو، آپ کی بحث و تکرار سیاست کو ضرور چھوئے گی اور اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ بات کرنے والے شخص کا تعلق شعبہ صحافت سے ہےتو ضرور پوچھا جائے گا کہ آپ کو تو سب پتہ ہوگا کہ اندر کی خبر کیا ہے؟ ارے بھائی ہمیں جو پتہ ہوتا ہے ہم وہی اخبار، ٹی وی میں بتا دیتے ہیں، خبریں ایسی دیتے ہیں کہ ٹی وی اسکرین ٹوٹنے لگ جاتی ہے، میرا مطلب ہے کہ بریکنگ چلنا شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری قوم بھی کچھ ایسی ہے یہاں پر طبقات ہیں، کوئی جیالہ تو کوئی لیگی، کوئی انصافی تو کوئی جماعتی، گنتے جائیں تو ختم نہیں ہوتے، سب کی اپنی مخصوص سوچ ہے، اگر کوئی شخص پاکستان پیپلز پارٹی کا سپورٹر ہے تو کچھ بھی ہوجائے وہ اپنے قائد اور پارٹی کو سپورٹ ضرور کرے گا، یہی حال ن لیگ، تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے ورکرز کا ہے۔ اچنبھے کی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو اپنی پارٹی کے نظریات کا علم نہیں ہوتا۔ ملک کا سرمایہ دار طبقہ ہم پر بر سر اقتدار ہے، پیپلز پارٹی برسوں سے ایک نعرہ لگاتی تھی، روٹی کپڑا اور مکان، مگر آج تک پاکستانی عوام کے یہی بنیادی مسائل حل نہ ہوسکے۔ جیالوں کی جماعت سندھ کو آج تک روٹی کپڑا اور مکان نہیں دے سکی، آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے بلاول، شہید محترمہ بے نظیر اور ذولفقارعلی بھٹو فیوڈلزم سے سندھ کی عوام کو نہ نکال سکے، اندرون سندھ میں تاریکی اور جہالت کا راج ہے، لوگ وڈیروں کے ماتحت ہیں، وڈیرے کے بغیر گھر کا ذاتی مسئلہ تک نہیں حل کر سکتے۔ پنچاب آجائیں تو بیشتر ایک ہی جماعت نے یہاں پر حکمرانی کی، جنوبی پنجاب محرومی کا شکار ہے، عوام دو وقت کے کھانے کو ترس رہے ہیں.

ہمارے حکمرانوں نے کوئی ڈھنگ کا ہسپتال بھی نہیں بنایا، انہوں نے اس ملک پر حکمرانی کی مگر یہ علاج بیرون ممالک میں کرانا چاہتےہیں. عمران خان موروثی سیاست پر لعن طعن کرتے تھے، اسی طرح تبدیلی کے سہانے خواب دیکھا کر عوام میں پذیرائی حاصل کی مگر پھر ایسی مورثی سیاست کے مرتکب ہوے کہ ایک ہی خاندان کے گیارہ گیارہ افراد کو نوازنا شروع کردیا. ماضی قریب کی ہی بات ہے لاہور کی میٹرو بس کو جنگلہ بس کہا جاتا تھا مگر پھر بی آر ٹی کا منصوبہ پشاور میں شروع کیا گیا جوتاحال پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا !

ہم کٹر قوم ہیں، کٹر اسے کہتے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی نظریے کے آنکھیں بند کرکے حکمران طبقے کے پیچھے چل پڑے، وہ جو کہے کہ جو بھی ہوجائے بس میری پارٹی اور میرا قائد ٹھیک ہے، چاہے آسمان پھٹ پڑے یا زمین مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں. لیگی ہونگے تو بغیر سوچے سمجھے اپنی جماعت کا ایسا دفاع کرینگے کہ دنیا کو غلط مگر اپنی جماعت کو صحیح قرار دے رہے ہونگے، یہی حال جیالوں اور تحریک انصاف والوں کا ہے، پی پی والے بھٹو کا نعرہ ایسے لگائیں گےکہ بندہ سوچتا ہے کہ کہیں شہید محترم بھٹو واپس نہ اٹھ کھڑے ہو جائیں، تحریک انصاف والے بھی اپنے قائد کی ہر بات کو سچا اور باقی دنیا کو جھوٹا ثابت کردیں گے، ہمارے سیاسی جماعتوں کے سپورٹرز کو اپنی جماعت کا دفاع بخوبی آتا ہے، اگر ان جماعتوں کے قائد بولیں کہ کوے کا رنگ سفید ہے تو بغیر سوچے سمجھے کالے کوے کو سفید ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کرینگے اور بظاہر اپنی تمام توانائیاں لگانےکے بعد یوں محسوس کرینگے کہ جیسے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہوں مگر وہ حقیقت سے دور دور تک آشنا نہیں ہوتے۔

میرے ایک دوست نے بتایا کہ اس کا عزیز پکا لیگی ہے اپنے قائد کی ہر بات من و عن تسلیم کرتا ہے، اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ جانتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کے قائد کو کس بات پر نا اہل کیا ، اس نے کہا ہاں ضرور جانتا ہوگا، مگر جب ان کے کٹر لیگی عزیز سے دریافت کیا گیا تو انکو نواز شریف کی نااہلی کی وجوہات کا علم نہ تھا، یہی حال جیالوں اور تحریک انصاف والوں کا ہے پارٹی منشور پوچھ لیں تو کوئی علم نہیں ہوتا بس ہمیں لفظی جنگ ضرور آتی ہے، وہ ہم اچھی کر لیتے ہیں۔ ایک بات مجھےحیران کر دیتی ہے وہ یہ کہ مولانا فضل الرحمن اور اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی،میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو کیا متحدہ مجلس عمل نے 13 نشتیں دھاندلی کرکے جیتیں؟ یا پھر جن حلقوں سے اپوزیشن جیتی ہے ان حلقوں میں دھاندلی نہیں ہوئی، صرف ان میں ہوئی ہے جہاں پر اپوزیشن ہاری ہے؟ پس وہیں الیکشن دھاندلی زدہ ہوئے ہیں؟

بلاول بھٹو کا پارلیمنٹ میں متعارف کرایا گیا لفظ آجکل مریم نواز کے لب سے سننے کو ضرور ملتا ہے، مریم نوازوزیراعظم کو سلیکٹڈ کہتی ہیں، یہ دعوی کرتی ہیں کہ یہ حکومت “چار ووٹوں کی مار ہے” ۔ چار ووٹوں سے کبھی کبھی عمران خان کے چار حلقے کھولنے کے مطالبات ضرور یاد آجاتے ہیں۔ مریم نواز سے ان کی حالیہ پیشی پر میں نے احتساب عدالت میں پوچھا کہ وزیراعظم کیلئے آپ سلیکٹڈ ٹرم استعمال کرتی ہیں، کیا یہ بتائیں گی کہ ان کو کس نے سلیکٹ کیا؟ جس پر مریم نواز نے لمحہ بھر کی خاموشی کےبعد جواب دیا کہ “عوام نے ان کو منتخب نہیں کیا” ۔مریم نواز پھر تھوڑی دیر خاموش ہوئیں اور بولیں “اتنے بچے آپ بھی نہیں جو آپ کو نہ پتہ ہو کہ ان کو کس نے سلیکٹ کیا ہے!۔” انہوں نے واضح جواب نہ دیاجس نے ہمیں کشمکش میں ڈال دیا کہ ان کو کس نے سلیکٹ کیا؟۔ویسے ہمیں تمام اداروں کا احترام ضرور کرنا چاہئے، پاکستان میں پیدا ہونے والے اس سرزمین کے وفادار ہیں، ہمیں کسی کیخلاف ہرزہ سرائی نہیں کرنی چاہیئے، بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں بدلنا ہوگا، ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی، ہمیں کسی سیاسی جماعت کے پیچھے اندھے لوگوں کی طرح چلنے کے بجائے، نظریات دیکھنے ہونگے۔

ہمارے سیاست دانوں کوبھی ذاتی مفاد کی سیاست سے نکل کر ملکی مسائل کو حل کرنے کی طرف بڑھنا ہوگا، ہمیں ایشو بیسڈ سیاست کرنے والوں کو ترجیح دینا ہوگی، ہمیں کسی سیاسی جماعت کے بجائے ملکی مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ملک جس دہانے کھڑا ہےا گر کوئی بھی سیاسی جماعت ہوتی اسکے یہی حالات ہوتے،معیشت بھی اسی طرح ہچکولے کھا رہی ہوتی، ہمیں اور ہمارے سیاست دانوں کو ذاتی مفادات بالائے طاق رکھ کر ملک کی مفاد کیلئے یکجا ہونا ہوگا۔ سندھ کے تعلیمی حالات بہت ناقص ہیں،امتحانی مراکز میں سرعام نقل کی اور کروائی جاتی ہے، آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے بلاول سے یہ التجا ضرور ہوگی کہ وہ سندھ کےتعلیمی نظام پر توجہ دیں اورزیادہ نہیں تو سندھ کوایک معیاری یونیورسٹی کا تحفہ ضرور دے جائیں

عادل حسین ایک نوجوان لکھاری ہیں، جو کہ صحافت کے شعبہ سے تین سال سے وابسطہ ہیں، عادل حسین نجی ٹی وی(جی نیوز) کے عدالتی نمائندے ہیں، اور نواز شریف کیخلاف تینوں ریفرنسز کی رپورٹنگ احتساب عدالت سے کر چکے ہیں، آجکل سابق صدر آصف زرداری کیخلاف جعلی بنک اکاونٹس کیس کو قریب سے دیکھ رہے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.