نیا پاکستان یوں بھی بن سکتا ہے!

1,320

نئے پاکستان کی تعمیر کا انتظار ہم سب کو ہے ، خواہ ہمارا تعلق پی ٹی آئی سے ہے، ن لیگ سے یا پھر کسی اور سیاسی پارٹی سے، بس فرق اتنا سا ہے کہ پی ٹی آئی والے حکومت کے ہر طرح کے اقدامات کی سپورٹ کرکے اور باقی جماعتوں کے سپورٹر حکومت کی ہر غلطی پر تنقید کرکے نئے پاکستان کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کرتے ہیں. بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اگر ہم اسی طرح نئے پاکستان کا خواب دیکھتے رہے تو تعبیرناممکن ہے، لیکن اگر ہم ” علی پور کے بھٹی” کے نقش قدم پر چلیں تو تعبیر جلد مل سکتی ہے ، جی ہاں علی پور کا ایلی توآپ نے سنا ہوگا،لیکن یہاں ذکر ہے علی پور کے بھٹی کا. مخدوم بھٹی کا تعلق پنجاب کی دوردارز تحصیل بھیر ہ کے ایک دور افتادہ اور چھوٹے سے گاوں علی پور سے ہے، رسمی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھٹی نے بطور استاد عملی زندگی کا آغاز کیا. آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کی جستجو1998 میں مزید تعلیم کے لیے اسے انگلینڈ لے گئی ، جہاں نہ صرف پڑھتا رہا بلکہ ایک دوسرے کالج میں پڑھاتا بھی رہا ۔ 2002 میں وہ نیوزی لینڈ منتقل ہوگیا اور وہاں پر بھی بطور استاد ایک ہائی سکول میں درس و تدریس میں مشغول رہا ۔2005میں اسے کینیڈا میں مختصر وقت کے لیے پڑھانے کا موقع ملا اور اب وہ طویل عرصے سے آسٹریلیا میں علم کے موتی بکھیر رہا ہے۔

یورپ کی اس چکا چوند بھری زندگی میں آپکو علی پور میں ویلفئیر کالج بنانے کا خیال کیسے آگیا؟ میں نے پو چھا. جواب: یور پ میں 15 سال درس و تدریس کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہمارے اور ان کے تعلیمی طریقہ کا رمیں بہت فرق ہے، جیسےمثال کے طور پر ہمارے ہاں بچے کی ذہانت کا اندازہ اس کے نمبروں سے لگا یا جاتا ہے جب کہ مغرب میں بچے کی رپورٹس ہوتی ہیں ،مغرب میں بچے کی تربیت پر بہت زور دیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں یہ چیز مفقودہے، پاکستان میں نہ پڑھنے والے بچوں کو ڈنڈے سے پڑھایا جاتا ہے جبکہ مغرب میں بچے کے نہ پڑھنے کی وجہ معلوم کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں استاد کا بچے کی سکول کے بعد والی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، جبکہ مغرب میں سکول کے بعد کی زندگی پوری طرح استاد کی نظروں میں ہوتی ہے ، یہ چیزیں وہاں کے نظام تعلیم کو ممتاز کرتی ہیں۔ میری خواہش تھی کہ میں جس چیز سے محروم رہا ، میرے گاؤں کے بچے وہ حاصل کرلیں ،اس لیے میں نے “علی پور ویلفئیرکالج کی بنیاد رکھی۔ لوگوں کا رد عمل کیسا تھا؟ میں نے سوال کیا. جواب: بے حد مایوس کن!. وہ کیوں ؟میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ بولےلوگ سمجھتے تھے کہ یہ باہر سے پیسہ لے کر کالج بنایا گیا ہے ( کیوں کہ مالک باہر ہوتا ہے) ، اس لیے لوگ اپنے بچوں کو داخل ہی نہیں کرواتے تھے، ہمارے کالج کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا کی گئی مگر ہم ڈٹے رہے اور آج اللہ کے فضل سے ہم ترقی کی منازل طے کر رہے رہیں ہیں اور فروغ علم کے لیے کوشاں ہیں ۔

علی پور کا بھٹی ان لوگوں کے لیے نشانِ منزل ہے جو نیا پاکستان چاہتے ہیں، جو عمران خان سے اُمید لگائے ہوئے ہیں کہ خان صاحب نیا پاکستان بنائیں گے اور وہ لطف اٹھائیں گے ۔ ایک ایسا پاکستان جہاں پر پاکستان کے تمام شہر ترقی کریں گے، جہاں پر لوگوں کو ترقی دیکھنے کے لیے لاہور نہیں جانا پڑے گا۔ لیکن کیا عمران خان صاحب گذشتہ 70 سالوں کا بگاڑ ٹھیک کر پائیں گے؟یقینی بات ہے کہ ایسا ناممکن ہے کیونکہ :- افراد کے ہاتھوں میں ہے عوام کی تقدیر۔۔۔۔۔۔۔ ہر فرد ہے ملت کےمقدر کا ستارہ

اگر ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کونیا پاکستان دینا ہے تو ہم سب کو ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہوگا ۔اس کے لیے علی پور کا بھٹی ایک بہترین ماڈل ہے، جی ہاں! آپ جو یورپ ، دبئی میں 20/25 سال سے خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور خان صاحب سے امید لگائے ہوئے ہیں نئے پاکستان کی ، آپ برائے کرم اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پسماندہ شہر یا گاؤں میں ایک سکول ، کالج ، ہسپتال یا کم ازکم ایک ڈسپنسری ہی بنا کر نئے پاکستان کی تعمیر میں خان صاحب کےمعاون بن جائیں۔ مزید برآں لا ہور ، اسلام آباد، کراچی اور پشاور کے کتنے ہی اعلی افسران ہیں جو ٹاٹ کے سکول سے پڑھ کر افسر بن چکےہیں،مگر گاؤں کا سکول آج بھی ترقی کے لیے کونسلر ہی کا مرہون منت ہے ۔ اگر یہ افسران ذاتی دلچسپی لے کر اپنے گاؤں کے سکول ، ڈسپنسری یا بجلی گھر کی تعمیر و مرمت یا درجہ بندی میں اضافہ کروادیں تو نیا پاکستان بہت جلد معرض وجود میں آجائے گا، بصور ت دیگر ہوسکتا ہے کہ پانچ سال بعد آپ یہ الفاظ سن رہے ہوں کہ ترقی دیکھنی ہے تو تونسہ، پشاور تشریف لائیے۔

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ ایکسپریس اور جسارت نیوز میں بلاگز لکھتے ہیں ،فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.