تبدیلی سرکار نظام میں تبدیلی لائے

970

بھارت دنیا کے ان ممالک کی صف اول میں کھٹرا ہے جہاں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جاتی ہے لیکن ایک بات جو بھارت کو دوسروں سے جدا کرتی ہے وہ بھارت کی جمہوریت ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہی دنیا کے نقشے پر ظاہر ہونے والے اس ملک میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے کسی کی جمہوری فتح کو یا حکومت کو گرا دیا ہو۔ بلاشبہ بھارتی سیاست درحقیقت سیاہ ست ہے۔ دوسری جانب ہمارا ملک ہے جہاں کسی جمہوری حکومت کیلئے اپنی مدت پوری کرنا ملکی مسائل کو حل کرنے سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے،مشرف دور کے بعد آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کی منتخب حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی تودیگر جماعتوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ آواز لگانا شروع کردی کہ دونوں جماعتوں نے میثاق مک مکا کرلیا ہے اور آپس میں باریاں بانٹ لی ہیں ۔اس آواز میں حکمراں جماعت کی آواز سب سے بلند تھی۔

تحریک انصاف کی حکومت آئی تو قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ خان صاحب بامشکل 2 سال حکومت کریں گے اور اب ایسا نظر بھی آرہا ہے کہ اب انصافی حکومت کیخلاف بھی دھرنوں اور احتجاجوں کی تیاریوں کی کوشش کی جانے لگی ہے۔ اس وقت ملک میں ایک طرف سیاست دان ہیں جو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں ۔ایسا ہر دور میں ہی ہوتا رہا ہے لیکن اب کی بار اخلاقیات کے جنازے نکل رہے ہیں۔ ان روایات کا آغاز مسلم لیگ ن کے آخری دور سے ہی ہوگیا تھا ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما ہر جلسے ہر دھرنے میں ایک دوسرے کی ذات اور خاندونوں کے بارے میں جو کچھ کہہ سکتے تھے کہنے لگے۔ حکومت قائم ہوگئی اب بھی سیاستدانوں اور ان کے پیروکاروں کا یہ رویہ جاری ہے۔اسمبلی میں عوامی مسائل کے بجائے تمام تر توجہ لفظ سلیکٹڈ پر دی جاتی ہے پھر اس پر پابندی لگتی ہے حد تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس بات پر بھی مشاورت کرتی ہیں کہ اس پابندی کو قبول کرنا ہے یہ نہیں۔۔ ہائے پاکستانیوں تمہاری قسمت۔۔۔ پھر مریم نواز ایک ویڈیو منظرعام پر لاتی ہیں ٹیکسوں میں ڈوبی عوام کی پریشانی جاتی ہے بھاڑ میں ہر وزیر ہر مشیر بس اس ویڈیو پر بیان بازی کرتا ہے کوئی کہتا ہے جعلی ہے کوئی کہتا ہے ظلم ہے اور عوام مرتے ہیں مرتے رہیں گے۔۔ ہائے پاکستانیوں تمہاری قسمت۔۔ پھر مریم نواز صاحبہ جلسے کیلئے ایک شہر کا دورہ کرتی ہیں تو ٹویٹر پر جو ٹاپ ٹرینڈ بنتا اس کا تو ذکر کرنا بھی کسی شریف آدمی کے بس کی بات نہیں ۔

دوسری جانب پاکستان کی عوام ہیں جن کا حال حکمرانوں سے مختلف ہے۔ موجودہ دور میں پاکستانی عوام کی تین اقسام ہیں پہلی وہ جن کا عقیدہ ہے جو کچھ ہوا اس کی وجہ گزشتہ حکومتیں تھیں اور کپتان جی ان کی کرپشن کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کا سامنا کررہے ہیں۔ اس عمرانی جماعت کو کامل یقین ہے کہ مہنگائی اور مشکلات کے بعد جلد آسانیاں نظر آئیں گی۔ عوام کی دوسری قسم وہ ہے جس کا ماننا ہے کہ موجودہ حکومت نااہل اور نالائق ہے۔ گزشتہ حکومتیں چونکہ تجربہ کار تھیں لہذا سب ٹھیک تھا اس حکومت کو کچھ علم نہیں اس لئے حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں۔ جبکہ عوام کی تیسری قسم خالص عوام پر مشتمل ہے۔ اس قسم کو کچھ لینا دینا نہیں کہ سیاست دان ایک دوسرے کے متعلق کیا بیان دے رہے ہیں اور کیا دیں گے یہ بس اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں ملک سے مہنگائی کا خاتمہ ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔ ٹیکس لئے جائیں لیکن وہ عوام پر استعمال بھی ہوں ۔

ملک میں ایک بار پھر ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے کبھی تاجر اتحاد ہڑتال کر رہاہے تو کبھی ٹرانسپورٹرز۔ ان ہڑتالوں کا مقصد یقینی طور پر حکومت کیخلاف سازش کرنا نہیں ہے بلکہ حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ عوام مشکل میں ہیں۔ کے الیکٹرک کے بلوں کے ساتھ اس وقت ایف بی آر کے لیٹر بھیجے جارہے ہیں ،ضرور بھیجیں لیکن اس سے قبل کے الیکٹرک کی اضافی بلنگ اور غیر ضروری چارجز ختم کرائیں تاکہ عوام غندہ ٹیکس کے پیسے بچا کر حکومت کو ٹیکس دیں۔ ٹیکس کے نظام کو آسان کیا جائے تاکہ ٹیکس دہندہ بننے کیلئے عوام کو کسی وکیل یا اس شعبے کے ماہر کی ضرورت نہ پڑے انہیں معاوضہ نہ دینا پڑے عوام باآسانی خود اس کام کو کرلے۔ جہاں احتساب ہورہا ہے وہاں بلدیاتی نمائندوں کا بھی احتساب کیاجائے ان سے یونین کونسل کے فنڈز کا حساب لیا جائے تاکہ وہ عوام کی خدمت کریں اور گلی محلوں کی سطح پر ترقیاتی کام کئے جائیں ایسا کرنے سے عوام ٹیکس ضرور دیں گے۔ جس گاڑی پر حکومت ٹیکس مانگتی ہے ایک عام شہری اپنے نمائندوں کی کرپشن کے باعث خستہ حال سڑکوں پر سفر کرتا ہے اور ان گاڑیوں کی محافظت پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں اگر عوام کا یہ پیسہ بچ جائے تو وہ باآسانی ٹیکس دیں گے۔ جو ادارے تباہ ہوئے ان کے افسران اور ورکرز یونین کے نمائندوں کا احتساب کیا جائے اس بھی بہت کچھ سامنے آجائے گا۔ ملک میں ہر فرد پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومت چھوٹی صنعتوں اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار کے فروغ کیلئے کوشش کرے تاکہ آج کا نوجوان مالی اعتبار سے مطمئن ہو اور ملک کی ترقی کیلئے ٹیکس دے۔ اسی طرح جو چور ثابت ہو اس سے سزا کے ساتھ لوٹی رقم واپس لی جائے اگر رقم بیرون ملک ہے اور اس کی واپسی میں قانونی پیچیدگیاں درپیش ہیں تو ان کی جائدادیں تو یہیں ہیں ناں۔۔

حکومت کا ٹیکس لینا غلط نہیں لیکن اس حوالے سے پالیسوں میں یقینی طور پر کمی ہے۔ حکومت کو ٹیکس سسٹم کو مستحکم کرنا ہوگا عام شہری کے بجائے پہلے مرحلے میں بڑے ٹیکس چوروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہوگا۔ ٹیکس سے ملکی قرضہ اتارنے کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی سہولیات دینا ہوں گی تاکہ ہر فرد ٹیکس دے ۔ مشکل پالیسوں سے اگر عوام کا کاروبار ہی نہ رہا تو ٹیکس کس سے لیا جائے گا حکمرانی کس پر کی جائے گی؟

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    Quite reasonable analysis. A well balanced article. We need to understand and remember the fact tha democracy is a system which along side it’s freedom to choose carry consequential rewards and punishment. The recipients of consequences are voters and elected alike. At this moment both the voters and elected are facing music. Some corrupt former elected are in jail while some are queuing for facing the consequences of being historically dishonest, at the same time the voters who bring these people into power at the time of election in return for for a “Qeema Nan” are well against the wall. Awan are not innocent at all either. Universal truth is simple and that is “ you reap what you sow…. People make democracy fruitful or poisonous. Hope in future voters will think beyond Qeema Nan before castin vote…

تبصرے بند ہیں.