پاکستان میں صحافیوں پر تشدد کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا؟

437

دو سال قبل 20 جون 2017 کو فیصل آباد میں صحافیوں کو اس وقت بے ہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ طلبہ کو یونیورسٹی سے نکالے جانے پر ان کا موقف لینے کے لیے زرعی یونیورسٹی کے باہر پہنچے۔ انتظامیہ نے میڈیا ٹیم کو کوریج سے روکا مگر میڈیا ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ جامعہ زرعی کے حدود سے باہر ہیں لہٰذا وہ کوریج کے لئے انتظامیہ سے اجازت لینے کے مجاز نہیں اور پھر کوریج کی اجازت نہ لینے کی پاداش میں میڈیا ٹیم کو زد و کوب کیا گیا اور یونیورسٹی گارڈ کے تشدد کا نشانہ بننے والے صحافیوں میں نجی ٹی وی چینل سماء کے صحافی بھی شامل تھے۔

اپنی ٹیم کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے سما نیوز کے بیوروچیف خرم کا بتانا ہے کہ واقعے میں ان کا رپورٹر، کیمرہ مین اور ڈرائیور زخمی ہوئے تھے، جنھیں فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ خرم کا مزید بتانا ہے کہ فیصل آباد جامعہ زرعی یونیورسٹی کے باہر ہونے والے واقعے میں زخمی ہونے والے صحافیوں میں سما نیوز کے رپورٹر یوسف چیمہ، کیمرہ میں قدیر الرحمان، رضوان صابری، ڈی ایس این جی انجینئر عمیر، آج ٹی وی کے راحیل اصغر، میٹرو ٹی وی کے کیمرہ مین جاوید، دنیا ٹی وی کے رپورٹر شہروز عباد، نیو ٹی وی کے رپورٹر وقاص شیراز سمیت ایکسپریس نیوز کے کیمرہ مین عثمان شامل تھے۔

لیکن یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جس میں صحافیوں کو کوریج کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا، پاکستان میں آزادی صحافت پر کام کرنے والے معتبر ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 18 برس میں صحافیوں پر تشدد کے 250 واقعات رپورٹ ہوئے۔ معلومات کو عوام تک پہنچانے کے جرم میں پاکستان میں صرف صحافیوں کو تشدد کا نشانہ ہی نہیں بنایا جاتا بلکہ بعض اوقات انہیں قتل بھی کردیا جاتا ہے اور پی پی ایف کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2002 سے اب تک 32 میڈیا ہاؤسز پر حملہ کیا گیا، 48 صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے جبکہ 24 کو کام کے دوران موت کے گھاٹ اتارا گیا، اسی دوران 171 کو شدید جبکہ 77 کو معمولی زخمی کیا گیا۔

فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے گارڈز کی جانب سے صحافیوں پر تشدد کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے خرم کہتے ہیں کہ اس وقت جامعہ زرعی کے وائس چانسلر رانا اقرار حسین تھے۔ جو اس وقت وزارت قانون کی کرسی پر براجمان رانا ثنا اللہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ صحافیوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا کہ پولیس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ ایس ایس پی رانا معصوم جو موقعہ پر موجود تھے کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ درخواست جمع ہوتے ہی پرچہ درج کر لیا جائے گا۔ لیکن بعد میں پولیس افسران نے کہا کہ وی سی وزیر قانون کے قریبی رشتہ دار ہیں ہم ان کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کر سکتے۔

اے آر وائے کے کیمرہ مین رانا منیر کا بتانا ہے طلبہ کو ذیادتی کے ساتھ یونیورسٹی سے معطل کیا گیا تھا میڈیا کو اطلاع ملی تو سما نیوز کی ٹیم کوریج کے لئے وہاں پہنچی۔ اسی تناظر میں انہوں نے طلبہ کا موقف لینا چاہا کہ انہیں یونیورسٹی سے کس بنیاد پر معطل کیا گیا۔ اسی دوران گارڈز کی جانب سے میڈیا ٹیم پر دھاوا بول دیا گیا۔ جب دیگر میڈیا ورکرز کو اطلاع ملی تو صحافی برادری ہمدردی کے لئے یونیورسٹی کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی، مدد کے لئے آنے والے صحافیوں کو بھی سڑک پر لیٹا کر پیٹا گیا۔ یونیورسٹی کی چار دیواری کے اندر سے ان پر پتھر پھینکے گئے۔

رانا منیر کا بتانا ہے کہ حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے مگر ان کا حوصلہ بلند ہے اور وہ اپنا کام اسی جذبے کے ساتھ انجام دیتے رہیں گے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر میڈیا ورکرز کو ہی کیوں مارا پیٹا جاتاہے۔ دنیا نیوز کے کیمرہ مین صابر گھمن کا کہنا ہے کہ وہ حملے کے وقت وہاں پر موجود تھے۔ پتھراؤ کی وجہ سے ان کا سر پھٹ گیا اور ٹانگ پر بھی گہری چوٹ آئی۔ انہوں نے کہا اس طرح کے اقدام ان کو فرائض کی انجام دہی سے نہیں روک سکتے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا فیلڈ میں کام کرتے وقت خوف رہتا ہے لیکن یہ ہمارا کام ہے جسے ایمانداری سے وہ نبھاتے رہیں گے۔

ایکسپریس نیوز سے بطور کیمرہ مین منسلک عثمان کا بتانا ہے جب وہ موقع پر پہنچے تو ان پر پتھراؤ کیا گیا۔ ان کی گردن پر ڈنڈا لگنے سے ہڈی ٹوٹ گئی۔ حالات دیکھ کر سب سہمے ہوئے تھے لیکن یہ سب ان کے کام کا حصہ ہے لہٰذہ وہ کسی سے خوفزدہ نہیں تھے۔ ان کا بتانا ہے کہ وی سی نے سما کے دفتر جا کر معذرت کر لی بعد ازاں معاملہ حل ہو گیا۔
پی ایف یو جے فیصل آباد کے صدر رانا حبیب کا بتانا ہے کہ حملے کے بعد وہ دن رات وہاں پر موجود رہے اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جس کے بعد ایف آئی آر تو درج کر لی گئی مگر وی سی کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کے سکیورٹی افسران سمیت لگ بھگ 25 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ بعد ازاں وی سی جامعہ زرعی نے سما نیوز دفتر جا کر صلح کر لی تھی ۔

پی ایف یو جے پاکستان کے صدر رانا عظیم کہتے ہیں صحافی جب بھی پریشانی میں مبتلا ہوں ان کی تنظیم کی جانب سے نا صرف بھرپور مدد کا اعلان کیا جاتا ہے بلکہ احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جاتا ہے۔ اس معاملے پر بھی انہوں نے احتجاج کیا اور ایف آئی آر درج کروانے کا مطالبہ کیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ میڈیا نے بغیر اجازت لئے یونیورسٹی کے اندر داخل ہو کر فوٹیج بنائے، انہیں منع کیا گیا لیکن انہوں نے اپنا کام جاری رکھا جس وجہ سے چپقلش ہو گئی اور معاملات طول پکڑ گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعد ازاں وی سی نے سما نیوز کے دفتر جا کر حالات پر قابو پا لیا اور صلح کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ حملے میں زخمی ہونے والے تمام صحافیوں کا یہی کہنا ہے کہ مظلوم کی آواز کو ہم حکام تک پہنچاتے رہیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نا کرنا پڑے۔ سیاسی جلسے ہوں یا مذہبی یا نا خوشگوار صورتحال ہو ان کی زندگی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ ان کو اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ کام سے واپس زندہ حالت میں گھر جا سکیں گے یا نہیں۔

وارث سلطان لاہور نیوز سے وابسطہ ہیں اور سوشل میڈیا ٹیم کاحصہ ہیں۔ مطالعےکا شغف رکھتے ہیں اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.