صحافیوں کی تربیت وقت کی اہم ضرورت

675

صحافی چھوٹا ہو یا بڑا وقت کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے پاکستان میں جہاں اخبارات اور ٹی وی چینلز کے منتظمین بغیر کسی صحافتی تربیت اور ڈگری کے صحافی بنا رہے ہیں وہاں وڈیروں، جاگیرداروں سیاسی جماعتوں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے روز بروزصحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ستم ظریفی کاعالم تو یہ ہے کہ پولیس ملازمین کی جانب سے پیش آنے والے ہراسمنٹ کے واقعات کی انکوائری بھی پولیس ہی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انصاف تو درکنار زیادہ تر مقدمات میں درخواست گزار صحافی کو ہی مجرم قرار دیا جاتا ہے ۔

پاکستان پریس فاونڈیشن کی ویب سائیٹ پر موجود اعدادو شمار کے مطابق سن 2002 سے اب تک 73 صحافی اپنی جان کی بازی ہار گئے جن میں سے 48 صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 25 صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، 185 صحافی زخمی ہوئے، 88 پر قاتلانہ حملے کیے گئے، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا اور 42 صحافیوں کو حراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا گیا صحافیوں سے متعلقہ اب تک صرف 5 کیسز ایسے ہیں جو اپنے انجام کو پہنچے لیکن وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے صحافیوں اور ان کے اداروں کے تحفظ کے لیے کبھی کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کے نہ تو مقدمات درج کیے جاتے ہیں نہ اعلی سطح پر انہیں قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی پیروی کرنے دی جاتی ہے جس کی ایک مثال ولی بابر خان کا کیس ہے حالانکہ ان کیسز کی پیروی کے دوران سینکڑوں رکاوٹیں ڈالی گئی اور صلح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ صحافیوں کی تمام یونینز کو اس مسئلے پر لکھنے اور تربیتی نشتوں کے اہتمام پر توجہ دینی چاہیے کہ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صحافتی امور کی انجام دہی کے دوران سیاستدانوں، ورکروں اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صحافیوں کی ہراسمنٹ عام سی بات ہے زیادہ تر واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے اہلکار صحافیوں پر تشدد کرتے ہوئے کیمرے بھی توڑ دیتے ہیں جن کی قیمت ادارے کیمرہ مین سے پوری وصول کرتے ہیں۔

کروڑ لعل عیسن نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر وقار الحسن نے دنیا نیوز کو بتایا کہ انہوں نے 2018 میں علی راجن نہر میں بہا دی جانے والی ادویات کے حوالے سےخبر شائع کی جس کی بنا پر انہیں تھانے اور محکمہ صحت کی جانب سے انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن تھانہ کروڑ لعل عیسن میں موجود ریکارڈ کے مطابق وقار الحسن جب ڈاکٹر سے موقف لینے ہسپتال گئے تو سخت لہجے میں انہوں نے سوالات پوچھے جہاں تلخ کلامی ہوئی اور بات تھانے اور انکوائریوں تک جا پہنچی اس کیس میں واضع ہے کہ صحافیوں کو بنیادی صحافتی تربیت کے ساتھ ساتھ یہ باور کروانا ہے کہ وہ بھی عام شہری ہیں اور ہمیں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

5 اپریل 2019 کو تونسہ ہسپتال میں صحافیوں پر تشدد کا واقعہ پیش آیا جس پر سینئر جرنلسٹ غضنفر عباس ہاشمی نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز جنسی زیادتی کی شکار ایک بچی کی میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کر رہے تھے ہم موقف لینے غرض سے ہسپتال گئے تو وہاں ڈاکٹرز سے تلخ کلامی ہوئی اور ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا گیاہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر احسن اعوان نے بتایا کہ میڈیا نمائندگان کی بریفنگ کے لیے ہر ہسپتال میں ایک میڈیا کمیٹی بنائی گئی ہے اور ڈاکٹرز پر پابندی عائد ہے کہ وہ ہسپتال کے معاملات کسی بھی آوٹ سائیڈر سے ڈسکس نہیں کریں گے ہمارے ڈاکٹرز مسلسل صحافیوں کو میڈیا کمیٹی سے موقف لینے کے لیے گائیڈ کرتے رہے لیکن صحافی بضد تھے کہ ڈیوٹی پر آپ ہیں تو موقف بھی آپ ہی دیں بات بگڑی اور لڑائی تک جا پہنچی۔

نجی اخبار کے رپورٹر امتیاز یاسین کے خلاف 12 جون 2019 کو ٹیلی گراف ایکٹ 1885-25-D کے تحت تھانہ فتح پور میں مقدمہ درج کیا گیا مقدمے کے مطابق امتیاز یاسین نے مقامی صحافی محمد سرفراز کو سنگین نتائج کے دھمکیاں دی تھیں امتیاز یاسین نے دنیا نیوز کو بتایا کہ 17 مئی کو چکنمبر 219/TDA کے رہائشی لوگوں کی جانب سےفیصل ظہور نامی شخص کے خلاف پولیس ٹاوٹی کی مد میں پیسے لینے اور کام نہ کروانے پر احتجاج ہوا جو اس نے بغیر دوسرے فریق کا موقف لیے چھاپ دیا بعد ازاں فیصل ظہور نے محمد سرفراز کے ساتھ مل کے میرے خلاف خبریں چھاپیں ان خبروں کے حوالے سے محمد سرفراز کے ساتھ میری ٹیلی فون پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔ امتیاز یاسین 17 سالہ تجربے کی وجہ سے سینئر تو لکھے جاتے ہیں لیکن خبر کے لوازمات پورے نہ ہونے کی وجہ سے یہ نوبت آئی اور بات جذباتی ہو کر تلخ کلامی کے بعد مقدمہ تک جا پہنچی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ رانا طاہر الرحمن نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے صحافیوں کی تربیت کے لیے اقدامات اٹھائیں کہ کس موقع پر کون سا سوال کس سے کرنا ہے اور کس لہجے میں بات کرنی ہے بعض اوقات صحافی سخت لہجے میں سوال و جواب کرتے ہیں جس کی وجہ سے صورت حال بگڑ جاتی ہےاس کے علاوہ ضلع بھر کے تھانوں میں چٹی دلالوں کا داخلہ بند ہے اگر کسی نے پولیس کے نام پر پیسے دیئے ہیں تو ہم اسے بےوقوفی میں شمار کرتے ہیں ۔ میں متعدد بار میڈیا کے ذریعے کہہ چکا ہوں کہ جو شخص کسی سے پولیس کے نام پر پیسے مانگے خواہ وہ پولیس ملازم ہی کیوں نہ ہو مجھے آگاہ کیا جائے یقین دلاتا ہوں کہ ایکشن ہوگا۔

سینئر قانون دان مرزا عرفان بیگ ایڈووکیٹ نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ہر ڈگری میں اخلاقیات کا مضمون لازمی قرار دے موجودہ دور میں صحافت کا چہرہ مسخ شدہ ہے بہت سارے اچھے صحافیوں کو معاشرے میں برا کہا جاتا ہے جس کی وجہ صرف وہ لوگ ہیں جو جرائم میں ملوث تھے اور انہوں نے صحافتی لبادہ اوڑھ لیا۔ پاکستان میں ازجلد صحافیوں کے حوالے سے قانون سازی اور صحافی ہونے کے لئے حکومتی لائسنس کا اجراء بہت ضروری ہوگیا ہے وگرنہ سکیورٹی کلئیرنس کے بغیر ہر مجرم اپنے بچاو کے لیے صحافی بنتا رہے گا اور قابل احترام لفظ صحافی کی تضحیک ہوتی رہے گی۔

سینئیر جرنلسٹ چوہدری مقبول الہی نے دنیا نیوز کو بتایا کہ جب سے میڈیا انڈسٹری کاوباری سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں گئی ہے تب سے اس کا زوال جاری ہے میڈیا ہاوسز کی انتظامیہ بغیر کسی ڈگری اور تربیت کے نمائندگان کی جو فیکٹری چلا رہے ہیں اس کی وجہ سے صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں کمی آنا نا ممکن نظر آرہا پے گورنمنٹ کو چاہیے کہ ایک ادارہ بنائے جس کے تحت پرانے اور ہرنئے آنے والے صحافیوں کی سکروٹنی ہو اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس لی جائے پھر صحافیوں کی تربیت کے بعد بلا معاوضہ صحافتی خدمات سع انجام دینا جرم قرار دیا جائے کیونکہ بلامعاوضہ صحافتی امور کی انجام دہی بلیک میلرز کو جنم دیتی ہے ہم پریس کلب لیہ کے زیر اہتمام صحافیوں کی تربیت کے لیے جلد تربیت ورکشاپس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس کا تمام کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

سینئر جرنلسٹ ناصر بیگ چغتائی نے دنیا نیوز سےکفتگو میں بتایا کہ ہم نے جتنے بھی اخبارات یا چینلز کو کمانڈ کیا باقاعدہ ٹریننگزہوتی تھیں آج کل کاہلی کی وجہ سے نئے آنے والے صحافیوں کو تربیت نہیں دی جاتی اور نا ہی پسماندہ علاقوں کے رپورٹرز کو تنخواہیں دی جارہی ہیں جس کا نتیجہ معاشرے میں بلیک میلرز اور جرائم پیشہ عناصر کاطاقتور ہونا ہے یہ ڈائریکٹر نیوز اور ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹریننگ اور تنخواہوں کی فراہمی کے انتظامات کروائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.