شادی سے انکار: مگر ایسا کرنا کیوں ضروری؟

1,292

فہد ایک اچھا طالب علم تھا، پڑھنے میں لائق رہا، اور یوں اس نے پی ایچ ڈی کر لی۔ اسے اپنی کلاس فیلو پسند تھی، جو اس کی بہت اچھی دوست بھی تھی۔ پڑھائی مکمل کرنے، اور نوکری ملنے کے بعد اس نے اپنی دوست کو شادی کے لیے پروپوز کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس دن وہ بہت خوش تھا، کیونکہ وہ اپنے دل کی بات کرنے جا رہا تھا۔ اس نے اپنے دل کا اظہار کر ہی دیا، لیکن وہ اپنی سب سے اچھی دوست کا جواب سن کر جیسے سکتے میں آگیا۔ اس نے کہا کہ” دنیا میں کیا لڑکے مر گئے ہیں، جو میں تم جیسے موٹے سے شادی کروں گی؟ میرا شوہر تو بہت ہینڈسم ہو گا، موٹا نہیں “۔ اسے انکار کا اتنا دکھ نہیں تھا، جتنا اسے اپنی ہی دوست سے اپنے بارے میں یہ سن کر ہوا کہ وہ کتنا زیادہ موٹا ہے۔ کسی کے بھی بارے میں جسمانی طور پر ایسے نقص کا برملا اظہار کر کے کسی کا دل دکھانا، کتنے افسوس کی بات ہے۔ فہد بہت دکھی تھا، لیکن اس کے دوستوں نے اسے اس موقع پرکافی سہارا دیا، اور اکیلا نہیں چھوڑا۔ خیروالدین نے بھی اس کے لیے خود سے لڑکی پسند کرنے میں دیر نہیں کی، اور یوں اس کی شادی ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد اسکی بیوی حاملہ ہوئی، مگر کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے اسقاط حمل ہوا۔ اس کے بعد تین سال تک وہ حاملہ نہیں ہو سکی، اس نے طلاق کا مطالبہ کر دیا، اور ابھی کچھ مہینے پہلے اس کی بیوی نے خلع لے لی۔ خلع کے لیے جو وجوہات بتائیں ان میں سے ایک تو یہ کہ وہ ماں نہیں بن رہی، لڑکے میں مسئلہ ہے، اور دوسری وجہ لڑکا موٹا ہے۔

فہدکی دوست جس نے اسے شادی سے منع کیا تھا، اس کی شادی اس سے بھی دو گنا موٹے بندے سے ہوئی، فرق یہ تھا کہ اس کے پاس امریکہ کا گرین کارڈ تھا۔ اس کا مطلب پیسہ ہونا آپ کے سب عیب چھپا دیتا ہے، کیوں کہ وہ اس لڑکی کو موٹا جو نہیں لگا۔ اگر آپ نے شادی سے منع کرنا ہے، یا خلع لینی ہے تو اس کے لیے کسی کے خدوخال کو وجہ بنانا آخر کیوں ضروری ہے؟ یہ ایک آنکھوں دیکھا واقعہ ہے، تو مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ فہد اگر اس لڑکی کو موٹا لگا تواس کا شوہر اسے موٹا کیوں نہیں لگا، جو کہ اس سے سائز میں ڈبل ہے، یا پھردوسرے کی دولت کا چشمہ جب لگتا ہے تو موٹا بھی سلم ہی نظر آتاہے۔ یہ سب ابھی ہوا ہے تو فہد بہت زیادہ ذہنی دباؤ میں ہے، اس کی فیملی، اور اس کے دوست اسے ایک بار پھر سے زندگی کی طرف لانے میں کوشاں ہیں۔ آپ اس بندے کی ذہنی تکلیف کو محسوس کر سکتے ہیں، جسے دو بار جسمانی طور پرٹارگٹ کیا گیا۔
لڑکوں کے ریجیکشن کے واقعات کم ہی سننے کو ملتے ہیں کہ جو شکل، یا جسمانی لحاظ سے انکار میں بدلے، لڑکیوں کو افسوس ہمارے معاشرے میں ان خرافات کا سامنا سب سے زیادہ ہے۔ لڑکے کی ماں جب دلہن ڈھونڈتی ہے تو اسے چاند جیسی بہو چاہیے، جس کی وجہ سے رات میں چاندنی ہو جائے، لیکن خود کا بیٹا ایسا کہ دن کی روشنی میں بھی نہ نظر آئے۔ اس لیے ہمارے ملک میں کاسمیٹکس کے نام پر سب سے زیادہ رنگ گورا کرنے والی کریمز بکتی ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں یورپ اور امریکہ میں چہرے کی حفاظت کی کریمز سب سے زیادہ بکتی ہیں۔ یہ فرق ہے ذہنیت، تعلیم، اور شعور کا، جس کا ہمارے معاشرے میں بہت فقدان ہے، کیوں کہ چہرے کی حفاظت ضروری ہے نہ کہ اس کا گورا ہونا۔ چہرہ بھی گورا کیا جا سکتا ہے، یہ وہم، اور جنون آپ کو صرف ایشیا ہی میں ملے گا۔ ہمارے جو کمرشلز ہیں، کریمز، صابن، فیس واش وغیرہ کے، سب کا نچوڑ ایک ہی ہے، رنگ ہو جائے گور ا فٹا فٹ، اور شادی ہو جائے جھٹ پٹ۔ شادی کے لیے رنگ گورا ہونا ہی ضروری ہوتا تو گوروں میں تو طلاقیں ہوتی ہی نہیں، مگر وہاں کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہمارے ڈراموں میں اس اہم موضوع کوکامیڈی کے طور پر دیکھایا جاتا ہے، جیسے کہ چھوٹی بہن گوری ہے اس کے رشتے آ رہے ہیں کر دوشادی، بڑی کیوں کہ سانولی ہے، اس کا رشتہ مشکل ہے، بچی میں گن تو سارے ہیں، بس رنگ میں مات کھا گئی، جیسے باقی سب تو آرڈر پہ تیار ہوئے، بس وہی بیچاری رہ گئی تھی۔

رشتے کے لیے تو لڑکی کو پورا اسکین کیا جا تا ہے، رنگ روپ، چال ڈھال، نین نقش، بولنے کا انداز، غرض ہر لحاظ سے جانچا جا تا ہے۔ یہ سب ڈراموں میں ہی نہیں، بلکہ حقیقت میں یہ سب ہو رہا ہے، اور آپ اس لڑکی کی ذہنی کیفیت کااندازہ کر سکتے ہیں، جسے اس کی شخصیت کی بجائے جسمانی لحاظ سے پرکھا جائے۔ اگر آپ کوکوئی رشتہ پسند نہیں ہے توخدارا اس کی بظاہر شکل و صورت پر طنزیہ باتیں نہ کر یں۔
ہمارے مذہب میں کسی کو برے لقب، یا نام سے بلانے کی سختی سے ممانعت ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں تو لوگوں کے طنزیہ نام رکھنا گھٹی کی طرح شامل ہے، اور پھر شادی بیاہ جیسے معاملات میں اس حوالے سے لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ہر ایک کو اللہ تعالی نے بنایا ہے، اس نے ہر ایک کو جیسا بھی بنایا ہے، کامل بنایا ہے۔

شادی کے حوالے سے ہمارے نبی ﷺکی بہت خوبصورت حدیث ہے کہ ” عورت سے شادی چار وجہ سے کی جاتی ہے: دولت، خوبصورتی، حسب نسب، اور دین، اور بہتر وہ ہے جو دین کا انتخاب کرے”۔ اس حدیث میں شادی کی بنیاد کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ شادی کرتے وقت اگر پہلی تین چیزوں میں سے کسی کو بھی فوقیت دی تو وہ دنیاوی ہیں، ان کا فائدہ دنیا میں ہے۔ لیکن اگر انتخاب دین کا کیا تو دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے گی۔ آج کل جو مسئلے درپیش ہیں شادی کے حوالے سے ان میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ رشتہ کرتے وقت پہلی تین چیزوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کوئی کتنا ہی اخلاق میں اچھا، اور دین دارکیوں نہ ہو، ہم نے اہمیت دولت، اور شکل و صورت کو ہی دینی ہے۔ اس کے نتائج بھی آج ہمارے سامنے ہیں: طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح، گھروں میں ناچاقیاں، ذہنی نفسیاتی مسائل، لڑائی جھگڑے، اوربے سکونی، وغیرہ کی شکل میں۔ ایسے رشتے زیادہ ٹکتے بھی نہیں ہیں جو کہ دنیاوی سازوسامان کو دیکھ کر کیے جائیں۔ کسی بھی لڑکی، یا لڑکے کے لیے رشتے تو بہت آتے ہیں، لیکن شادی جہاں قسمت میں لکھی ہو، وہیں ہوتی ہے، تو رشتے سے انکار کرناتو کوئی مسئلہ نہیں ہے، بس کسی کی شکل و صورت کو ٹارگٹ نہ کرتے ہوئے اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر منع کریں تا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. ایم ایس بزمی کہتے ہیں

    بہت اچھے۔۔معاشرے کے مساٸل کو نہایت شاندار طریقے سے اجاگر کیا ہے۔سلامت رہیں۔

تبصرے بند ہیں.