صحافی کا دکھ کون سمجھے گا؟

294

لکھنے کی اِس چیٹک عادت نے خامہ فرسائی کے اس اسلوب سے نوازا ہے مگر میرا قلم ماضی کے نبردآزما، فرتوت صحافیوں کی ہمہ وقت جدوجہد کے کارناموں کو قلم بند کرنے کی استقامت نہیں رکھتا ہے۔ لیکن کوشش کر کے نِصفُ النَّہار کی تمام ساعتوں کی کھٹنائیوں کو پیش کرنےکی جسارت کرتا ہوں۔

1973 میں جب روزنامہ مساوات کراچی کو نکلے ہوئے کچھ عرصہ ہوا تھا کہ روزنامہ مساوات پر پابندی لگا دی گئی۔ پی ایف یو جے نے ہڑتال کی کال دے دی مزید براں کہ مساوات میں کچھ لوگ ہڑتال کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیپلز پارٹی کا اخبار ہے؛ اور پابندی حکومت نے عائد کی ہے، ہم عتاب میں آجائیں گے۔ احفاظ الحمٰن صاحب سیکریٹری کے یو جے تھے۔ انہوں نے اِس موقع پر سخت موٴقف اختيار کیا۔ یہی کہا کہ ہم پی ایف یو جے سے وابستہ ہیں؛ اور اس کے فیصلے ماننے کے پابند ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو اعترض ہے تو استصواب رائے کروا لیتے ہیں۔ بالاآخر مساوات یونین میں استصواب رائے کے ذریعے فیصلہ پی ایف یو جے کے حق میں ہوا۔

اس کے بعد 1975-1974 میں مساوات لاہور کے متعدد کارکنوں کو ملازمت سے نکال دیا گیا یا غیر متعلقہ شعبوں میں تبادلہ کردیا گیا، بعض کے مختلف شہروں میں تبادلے کر دیئے تھے۔ عباس اطہر مُدیر تھے، یہ انتقامی کاروائی تھی جس کے خلاف مُلک بھر میں تحریک چلائی گئی تھی۔ جس میں مُلک بھر سے صحافی لاہور پہنچے تھے؛ اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کیا تھا۔ بالاآخر انتظامیہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

اقتدار میں آنے کے کچھ عرصے بعد ہی جنرل ضِیاء الحق نے روزنامہ مساوات کی اشاعت پر پابندی عائد کردی۔ 1975 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان روزنامہ مساوات کراچی کے نئے مدیر ابراہیم جلیس صاحب نے کافی کوششیں کیں، انہوں نے سندھ کے سیکریٹری داخلہ سے ملاقات کی، جو ان کے دوستوں میں سے تھے۔ اُنھوں نے جلیس صاحب سے کہا “مساوات کو بھول جاٗو، اب وہ نہیں کھولے گا۔” جلیس صاحب دفتر آئے اور شکستہ آواز میں کہا، سیکریٹری کہتا ہے کہ مساوات کو بھول جاٗو۔ اس سے سیکڑوں افراد کا روزگار وابستہ ہے،ان کا کیا ہوگا؟ یہی بات 26 اکتوبر 1977ء کو ابراہیم جلیس کے دِل سے جاکر ٹکرائی، دفتر میں ہی انہیں دِل کا دورہ پڑا۔ انہیں ہسپتال لے جایا گیا، دوسرے دِن وہ انتقال کرگئے۔ اس طرح اردو کے اس طناز اور صاحب اسلوب ادیب نے 55 برس کی عمر میں آنکھیں موند لیں۔

اگلے دن پریس کلب میں بڑا تعزیتی جلسہ ہوا۔ صحافیوں کے علاوہ تمام اخبارات کے مُدیروں اور شہر کے دانشوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔ وہاں احفاظ صاحب نے اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ جلیس صاحب کی موت پر ایک دن کے لیے اخبار نہ نکالا جائے۔ اے پی این نے پہلے تو پس و پیش سے کام لیا، مگر انہیں ماننا پڑا۔ یہ پہلا موقع تھا، جب کسی ایڈیٹر کے انتقال پر ایک روز اخبار نہیں نکلا۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.