انسانیت کہاں دم توڑتی ہے؟

483

ہم اب اپنے کالے کرتوتوں کے باوجود اشرف المخلوقات ہیں لیکن ہماری انسانی تاریخ چیخ چیخ کر اس بات کی تردید کرتی رہی ہے۔ اور ہمارے روز مرہ جات میں آج بھی ہماری جاری تاریخ ہمارے منہ پر تھپڑ رسید کر رہی ہے کہ ہم اشرف المخلوقات کے لقب پر قابض ضرور ہیں مگر ہم اس قابل نہیں ہیں۔ ہمارے افعال چال ڈھال اور ہماری خود ساختہ مہذب معاشرت جس میں ہم خدا بنے بیٹھے ہیں۔ اور سینہ تانے اس بات کا اعادہ بھی کرتے ہیں کہ ہم سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ایک خدا ہمارے اوپر بھی ہے جو خاموش ضرور ہے جس کی بے آواز لاٹھی جانے کب چلے گی لیکن وہ ضرور چلے گی اور انصاف کی بات ہو گی۔ بحرحال ہم سب حادثاتا اچھے گھرورں میں پیدا ہوئے خدا کی تعلیمات اپنے پرکھوں سے حاصل کیں اورر مسلمان کہلائے۔ اورر اب اس پر نازاں ہیں کہ جنت کے بھی حقدار ہم ہی ہوں گے ہم یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ جنت اور جہنم کا نظریہ ہماری اس محدود اور مختسر عرصے کی زندگانی میں کہیں نا کہیں موجود ہے یہ بات تو طے ہے کہ ہماری موت کے بعد کا ایک جہاں ہے جو انصاف کے دن کے بعد شروع ہو گا۔ جہاں ہماری جزا و سزا کا تعین ہونے کے بعد ہم بہشت یا جہنم کی زینت بنیں گے لیکن ایک جہاں یہ بھی ہے۔ جو موت سے پہلے کا جہاں ہے جہاں خدا نے ہمیں سلوک کا رویہ اپنانے اور انسان بننے کا بہترین موقع دیا ہے۔ اور یہاں بھی اک جنت اور جہنم ہے جو ہم اپنے اعمال سے اس جہاں کے اپنے قرب و جوار کے لیے بناتے ہیں۔ یعنی یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے رشتہ ناطے اور تعلق واسطے میں اپنے رویوں سے اپنے اعمال و افعال سے دوسروں کی زندگیوں کو جنت و جہنم بنانے کے ٹھیکیدار ہیں اور یہ اختیار خدا کا دیا ہوا ہے۔

مفادات یا ترجیحات او ر دل چسپی کے امور وہ مراحل ہیں جن پر یہ مٹی کا پتلا سارا کھیل کھیلتا ہے۔ اپنے نظریات بھی بناتا ہے سماج میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے اور اپنا راستہ مزید صاف کرنے کے لیے اسے خوساختہ نظریات بھی اپنانے پڑیں یہ اپناتا ہے۔ کسی انسان کو اپنے راستے سے ہٹانا ہو اس مقصد کے لیے اس کی زندگی جہنم بنانی ہو یہ مٹی کا پتلا ضرور کرتا ہے۔ لیکن ترجیحات کو کبھی نہیں بدلتا اس مقصد کے لیے ذات پات دین دھرم اور نظریات بڑے پیمانے پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ انسان کی انا کے فیصلے اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلے ایک سے دوسرے کنبے کو کس طرح انتشار کی جانب لے جاتے ہیں اس کی مثالیں روز مرہ میں ملتی رہتی ہیں ۔ لیکن ہم نے نہ کبھی سبق سیکھنا ہے اور نہ اس کی کوشش کر یں گے کیونکہ ہم اپنی انا کی سمت میں برابر جا رہے ہیں اوپر سے اشرف المخلوقات کا لیبل بھی ہم پر لگا ہے۔ لہذا اس لیبل کے ہونے کا فائدہ اٹھا کر ہم اس پوشاک میں کچھ بھی کرتے پھریں ہم آزاد ہیں اور یہ مادر پدر آزادی ہم نے خود تشکیل دے رکھی ہے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ سب کا سہی اور غلط بھی اپنا اپنا ہے ہمارے وہ فیصلے جو دو انسانوں کے مستقبل کے ساتھ دو خاندانوں سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں بھی ہم اپنے اپنے سہی اور غلط کا سہارالیتے ہیں اور اس بیچ مروت احساس انسانیت اور محبت کے جزبات روند دیے جاتے ہیں۔

انسانیت کہاں دم توڑتی ہے اس پر بے تحاشا تحریریں لکھی جاچکی ہوں گی ۔لیکن یہ بات عیاں ہے کہ معاشرے میں موجود مختلف امور میں تضاد اک فطرتی اور ساینسی عمل ہے۔ جو آپ کے لیے اچھا ہے وہ شاید کسی دوسرے کے لیے نہیں ۔ یہ ضروری بھی نہیں کہ وہ اسے اچھا سمجھے اس روح زمین پر موجود ہر انسان اپنے کچھ فیصلوں میں دوسروں کا تابع ہوتا ہے ۔لیکن یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہر انسان اپنے مطابق بھی جینا چاہتاہے۔ آئے روز مختلف واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں سماج انہونی قرار دے کر رد کر دیتا ہے۔ لیکن کوئی بھی اس کے پس منظر میں نہیں جاتا۔ پِچھلے دنوں انجمن نامی ایک پکی عمر کی عورت نے عمر کے اس حصے میں شادی کی جس میں عام طور پرمعاشرہ عورت کو شادی کے قابل نہیں سمجھتا۔ اس پر خوب بحث بھی ہوئی اب یہ طرز عمل اس خاتون کا اپنا تھا وہ بیوہ ہو چکی تھی ۔ اس واسطے اس عمر میں اسے یہ فیصلہ کرنا پڑا تو یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں رہی کہ ہر انسان اپنی ضروریات کے تابع ہے۔ اس بیچ اک نظریہ سمجھوتہ بھی ہے جو خاندان میں اس لڑکے یا لڑکی پر مسلط کیا جاتا ہے کہ جو اپنی رائے رکھنے کے باوجود اس میں اپنے گھر والوں کو متصادم پاتا ہو۔ اس وقت کوئی دلیل نہیں ہوا کرتی بس یہ کہہ کر ایک انسان کے جذبات پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں کہ ہم جنہوں نے تمہیں پیدا کیا اس میں ہماری رضامندی نہیں شامل لہذا تمہیں سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ ہمارے معاشرے میں اکثر نوجوان بچوں بچیوں کے ساتھ والدین کا یہی رویہ جاری ہے۔

سمجھوتہ کے نام پر تمام تر خواہشات اور احساسات کو دفن کیے بغیر یہ انسان اپنے عزیز و اقارب کی رضامندی میں خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ جسے رضا مندی سمجھ کر والدین اور اقارب خوشیوں کے شادیانے بجانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر رنگ میں بھنگ اس وقت ملتی ہے اور رنگ میں یہ بھنگ ملانے کی راہ غیر حساس رویے ہموار کرتے ہیں ۔جب سمجھوتہ کے نام پر غیر دفن شدہ جذبات انتشار میں تبدیل ہو کر سامنے آتے ہیں۔ اس کی ایک مثال دو ماہ پہلے سندھ کے ضلع جامشورہ میں دیکھنے کو ملی تھی جہاں سندھ کے ضلع شکارپور کی اک ڈاکٹر راجکماری تلریجا اور سندھ ہی کے علاقے لکھ غلام شاہ کے محکمہ اینٹی انکروچمنٹ کے سب انسپکٹر آخا سراج خان نے خود سوزی کی۔ جس کا پس منظر ان دونوں کا ایک دوسرے کو باہمی پسند کرنا اور اس پر سماج کی خود ساختہ حدود و قیود کے باعث ان کی آپس میں شادی ہونے میں ناکامی بتایا گیا ہے۔ خاتون ہندو مذہب سے تعلق رکھتی تھی جو اک بڑی رکاوٹ بنا- یہی نہیں 28 سالا راجکماری کی اپنی پسند کے برعکس اپنے ہی خاندان میں کسی لڑکے سے شادی طے پائی تھی – لیکن اس سے قبل ہی دونوں نے تمام ناممکنات کو روند ڈالتے ہوئے خودسوزی کر لی۔ ایسے ہی بے شمار واقعات آئے روز خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ لیکن ان واقعات کے باوجود بہتری اور ان سے نکلنے کے راستے پر غور نہیں کیا جاتا۔

سوال وہی ہے کہ انسانیت کیونکر مر جاتی ہے یہ بات مان لیتے ہیں کہ ایک معاشرے میں رہتے ہوئے اکثر معاملات میں ہم سب الگ سوچ و نظریہ رکھتے ہیں۔ لیکن دو انسانوں کے لیے ایک دوسرے کے جذبات کی ہمیں قدر کرنا ہو گی وہاں اگر ہمارے نظریات ان دونوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ہمیں پھر بھی اس میں کوئی درمیانہ رویہ اپنانا ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ والدین عزت کے نام پر کسی بچے سے اپنی بات منوانے کے لیے ایسے مختلف حربے اپنا کراس کی رائے تبدیل کریں اور ایک دباو کے تحت غلط فہمیاں پیدا کر کے دو لوگوں کو جو ایک دوسرے کے ساتھ کسی احساس کے جذبے میں صادق تھے۔ ان دو انسانوں کو جدا کریں یہ کہاں کا انصاف ہے، یہ سب غیر روایتی اسلوب ضرور ہیں لیکن ایسا سماج میں چل رہا ہے۔ لکھنے والوں کی ترجیحات اپنی اپنی ہیں اس لیے ایسے گھریلو یا خاندانی امور سے جڑے اسلوب کبھی تحریر کی زینت نہیں بنتے ۔ میرا ماننا ہے کہ جو چیز آپ اپنی انفرادی زندگی میں محسوس کریں وہ کوئی المیہ ہو سکتا ہے یا کوئی بھی ناخوشگوار یاداشت ہو سکتی ہے آپ اسے پڑھنے اور سوچنے والوں تک ضرور پہنچایں یہ سماج آپ کا مرہون منت ہے آپ اسے اپنے تجربات اپننے نقطہ نظر کی صورت میں پیش کریں تاکہ سوچنے سمجھنے والا طبقہ غور کر سکے کہ انسانیت کیوں کہاں اور کب دم توڑتی ہے؟

ایک نجی ٹیلی وژن مین بطور رپورٹر کام کر رہے ہیں
نمل یونیورسٹی اسلام آباد سےماس کیمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رکھا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.