جھوٹ ،جذبات اور جلد بازی والے ج

507

انفرادی حیثیت میں رویوں کو سمجھنے کے لئے اگر بغور دیکھا جائے تو قومی سطح پر تو کچھ رویہ ہماری پہچان بنتے جارہے ہیں اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جو منفی نوعیت کے ہیں جن سے ہمیں جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو “ج” سے شروع ہوتے ہیں تو آئیے ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

جھوٹ: تمام باقی تین “ج” میں سے یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے دین اسلام میں تو ممانعت کی ہی گئی ہے کیونکہ یہ تمام معاشرتی برائیوں کی جڑہے۔ لیکن ایک قباحت جو درآئی ہے کہ اس برائی کواب برائی کے زمرے میں ہی نہیں گردانا جاتا۔ لوگوں کے مابین گفتگو ہو یا میڈیا اورخاص طور پرسوشل میڈیا ہرجگہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے اور سنسنی پھیلانے اور دوسروں کی توجہ خود کی طرف مبذول کرانے کے لیے بڑھ کے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔

جلد بازی: یہ وہ رویہ ہے جو ناجانے کس کا عطا کردہ ہے ،کوئی کام کرنا ہو یا ترقی حاصل کرنی ہو انفرادی حیثیت میں سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو یہ کام مکمل ہو اور ہمیں یک لخت میں ہی نتائج حاصل ہونا شروع ہوجائیں۔ اس کی مثال یوں لی جاسکتی ہے کہ آج کل ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور اسکو آمدنی کا مستقل ذریعہ بنانے کے لیے بہت سے لوگ خواہشمند ہیں لیکن کوئی بھی بھرپور محنت کرنا ہی نہیں چاہتا اس کے دل میں بس یہی خیال جاگزیں ہوتا ہے کہ کب وہ وقت آئے گا جب میری جیب نوٹوں سے بھری ہوگی ۔ اور اس طرح کی بہت سی مثالیں ہمارے اردگرد درجنوں کے حساب سے ہمیں نظر آتی ہیں،اور پھر یہی مل کر ہمارےقومی رویے کی عکاسی کرتی ہیں۔

جذباتیت:یہ رویہ بھی جھوٹ کی طرح خاصا خطرناک ہے ،کیونکہ حالیہ تناظر میں دیکھا جائے تو ہر دوسرا فرد اس کا شکار نظر آئےگا ۔ آج کل کے دور میں ہر کوئی دوسرے پرسبقت حاصل کرنے کے لیے جذبات کوبطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور دوسرے کو زچ کرنے کے لیے تابڑ توڑ حملے کرتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر فرد نے ہر موضوع پر گفتگو کرنا اپنا حق سمجھ لیا ہے وہ چاہے سیاست ہو، مذہب ہو، کھیل ہو ، بین الاقوامی صورتحال ہو، یا پھر معاشی اور معاشرتی مشکلات ۔

میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہم “جھوٹ جذبات اور جلد بازی” والے “ج” ترک نہیں کریں گے یوں ہی بحثوں میں الجھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے رہیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.