صحافیوں کے تحفظ کے لیے قانون ساز کب حرکت میں آئیں گے؟

989

معلومات کو عوام تک پہنچانے اور دیگر شرپسند عناصر کو آئینہ دکھانے کی پاداش میں پاکستان میں صرف صحافیوں کو تشدد کا نشانہ ہی نہیں بنایا جاتا بلکہ بعض اوقات انہیں قتل بھی کردیا جاتا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں پر تشدد معمولی کام ہے، سیاسی بیٹھک ہو یا مذہبی جلسہ ہر جگہ صحافی پر غصہ نکالا جاتا ہے۔ اور ایسے ہی غصے کا شکار کیمرا مین توصیف اکرم اور فوٹوگرافر مبارک علی بھی بنے، جو اکتوبر 2017 میں مسلم لیگ نون کے الحمرا میں منعقد کنونشن کی کوریج کے لیے پہچنے تھے، جہاں انہیں بد نظمی کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

توصیف اکرم نے واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ حال میں پہنچے تو نون لیگ کے ورکر کافی تعداد میں وہاں پر موجود تھے، انہوں نے فوٹوگرافر کے ساتھ اندر میڈیا کے لئے مختص کی گئی جگہ پر جانے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود ورکروں نے انہیں دھکا مارا جس کی وجہ سے بحث ہونا شروع ہو گئی اور انہیں وہاں پر ہی روک لیا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ورکرز کی جانب سے انہیں زد و کوب کیا گیا، حتٰی کہ ان پر اس طرح تشدد کیا گیا کہ ان کی گردن سے خون آنا شروع ہو گیا۔ ان کے ہمراہ فوٹوگرافر مبارک علی پر بھی بری طرح تشدد کیا گیا، فوٹو گرافر مبارک کے ہاتھ سے خون آنا شروع ہو گیا۔ دونوں نے بتایا کہ حالات کو بھانتے ہوئے وہاں پر موجود رپورٹر، کیمرہ مین اور دیگر میڈیا سے منسلک افراد ان کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور رضوان انور جو کہ الیکٹرونک نیوز کیمرا ایسوسی ایشن (اینکا) کے صدر تھے وہ بھی وہاں پہنچے اور انہوں نے سیاسی ورکرز کا مقابلہ کیا۔

توصیف کا بتانا ہے کنونشن میں اسٹیج پر خواجہ سعد رفیق، پرویز ملک اور اہم رہنما بیٹھے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے ہمارا ساتھ دینے کے بجائے کہا کہ یہ سب میڈیا کی چال ہے۔ ن لیگ رہنماؤں نے کہا کہ میڈیا ہمیشہ ہی نون لیگ کا پروگرام خراب کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ رہنماؤں کا رد عمل دیکھ کر میڈیا ورکرز نے مزید احتجاج کرنا شروع کر دیا۔
بعد ازاں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ایونٹ ہو لینے دیں اس معاملے پر بعد میں بات چیت کر کے اس کو حل کریں گے۔ ان کا بتانا ہے بعد میں کسی نے ان کی دادرسی نہیں کی۔ کسی میڈیا ورکر نے ان کی مدد نہیں کی، حتٰی کہ پریس کلب کی جانب سے کسی قسم کا اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ یاد رہے لیگی ورکرز کی جانب سے کیا جانا والا یہ پہلا تشدد کا واقعہ نہیں تھا اس کے علاوہ بھی جیسے 10 اگست 2017 کو صحافیوں پر نوازشریف کی ریلی کے دوران راولپنڈی میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی طرف سے تشدد کیا گیا۔

گزشتہ برس 17 دسمبر 2018 میں پارلیمنٹ کے باہر ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس میں فوٹیج بنانے پر نواز شریف کے گارڈز نے ہم نیوز اور سما نیوز کے کیمرا مین پر تشدد کیا تھا۔
لیگی رکن اسمبلی پرویز ملک کا بتانا ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ کا ان کو یاد نہیں آ رہا، لیکن ہماری جماعت میں ایسے کام کو سراہا نہیں جاتا۔ بعض اوقات ورکرز جذبات میں آکر جھگڑا کر بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم نے اپنے دور حکومت میں صحافیوں کو تحفظ دینے پر کام کیا اور اب بھی صحافی کو نشانہ بنائے جانے پر اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تشدد کرنے میں نہ صرف نون لیگ کے کارکن مشتعل ہیں بلکہ پی ٹی آئی کے کارکنان بھی پیش پیش ہیں۔ 16 فروری 2019 کو شیخ رشید نے حیدر آباد کا دورہ کیا، جس دوران پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے کیمرہ مین و صحافیوں پر تشدد کیا گیا۔ 25 اپریل 2019 کو پاکستان تحریک انصاف کے 23ویں یوم تاسیس کے موقع پر خواتین اور مرد صحافیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ جون 2019 کو پی ٹی آئی کے مقامی رہنما مسرور سیال نے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران پر تشدد کیا۔

صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے کام کرنے والے معتبر ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 18 سال میں صحافیوں پر تشدد کے 250 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پی پی ایف کی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2002 سے اب تک 32 میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنایا گیا ہے، 48 صحافیوں کو ٹارگٹ کیا گیاجبکہ 24 کو کام کے دوران مار دیا گیا، اسی دوران 171 کو شدید جبکہ 77 کو معمولی زخمی کیا گیا۔

مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ صحافیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کو ابھی تک کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکا، اب تک صرف پانچ ملزمان کو سزا دی جا سکی ہے۔ صحافیوں پر تشدد کے حوالے سے جب سیاستدانوں اور قانون سازوں سے بات کی جاتی ہے تو وہ بظاہر آزادی صحافت کی بات کرتے دکھائی دیتے ہیں، تاہم دیکھا جائے تو وہ ایسی کوئی بھی قانونی سازی بنانے میں ناکام گئے ہیں جس سے صحافیوں کا تحفظ یقینی ہو۔ وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب صمصام بخاری کا بتانا ہے وہ اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا مزید بتانا ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ دینے کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نواب شیر وسیر کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے کیونکہ جمہوریت اور آزادی صحافت کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے پی ایف یو جے پاکستان کے صدر رانا عظیم کا بتانا ہے کہ ہم نے توصیف کی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو اپنی ملازمت جانے کا خوف تھا جس کی وجہ سے انہیں رکنا پڑا۔
ہم نے اور بھی لوگوں سے بات کی انہوں نے نام نا ظاہر کرنے سے گفتگو مشروط کرتے ہوئے کہا کہ نون لیگ کے مشتعل ورکرز کی جانب سے ان پر بلا جواز تشدد کیا گیا تھا جس کی انہوں نے بھرپور مذمت کی تھی.

وارث سلطان لاہور نیوز سے وابستہ ہیں اور سوشل میڈیا ٹیم کاحصہ ہیں۔ مطالعےکا شغف رکھتے ہیں اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.