فیمینیزم کیا ہے؟

1,303

سوچ بیچار فہم و فراست عقل و شعور رکھنے والے ہر انسان کو سوال کرنے کا حق ہے تاکہ وہ ہر زاویےسے حقائق کو جان کر صحيح غلط میں تفریق کر سکے۔ معاشرے کی ارتقاء سے لے کر اب تک مَرد و زن کے درمیان دوریاں قائم ہیں۔ اِن دوریوں کی بنا پر عورت پر مرد کو فوقیت دی گئی؛ اور جسے دور حاضر میں اجاگر کر کے “فیمینِیزم” کا نام دیا گیا۔ اس بات پر زور دیا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو منصفانہ حقوق نہیں ملتے۔ اب چلیئے یہ جان لیتے ہیں کہ “فیمینِیزم” کیا ہے۔

بنیادی طور پر فیمینِیزم ایک نظریے کا نام ہے کہ خواتین کو بھی وہ ہی حقوق ملیں، جو مردوں کو ملتے ہیں۔ وہ حقوق تعلیمی، معاشرتی اور سیاسی اعتبار سے ہوں، غرض کہ حقوق کی تقسیم کو یقینی بنایاجائے۔ فیمینِیزم کے بعد اس بات کو بھی جاننا اہم ہے کہ آخر یہ فیمِنسٹ خواتین ہوتی کیسی ہیں۔ آپ کے ذہن میں اس وقت یہ خیال آرہا ہوگا کہ یہ وہ خواتین ہوتی ہیں، جو چُست کپڑے پہنتی ہیں،اور ہر وقت دستیاب ہوتی ہیں، جن سے غیر ذمے درانہ رشتہ قائم کر کے جنسی کج روی کی جاسکتی ہے۔ یہ گالم گلوچ بھی کرتی ہونگی، سگريٹ، شراب بھی پیتی ہونگی۔ مردوں کو اپنے سے کم تر سمجھ کر ان کی طرح معاشرتی طور پر وہ تمام کام کرتی ہونگی، جو مرد کرتے ہیں۔

اگر اب اصل “فیمنِسٹ” خواتین کی بات کی جائے، تو وہ شراب، سگريٹ اور گالم گلوچ کے بغیر اعتماد کے ساتھ خود کو فیمنِسٹ کہہ سکتی ہیں۔ انھیں وہ تمام حقوق ملنے چاہیں، جو مرد کو دئیے جاتے ہیں۔ فیمنِسٹ ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے،اور ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ مرد کو نیچا دیکھائیں یا ان کے خلاف ہیں بلکہ ان کو مرد کے شانہ بشانہ چلنا ہوتا ہے۔

لیکن ہم نے خودساختہ طور پر اپناایک نظریہ بنا لیا ہے۔ فیمنِسٹ عورتيں سگريٹ، شراب نوشی، چُست کپڑے پہنتی ہونگی۔ جبکہ سگريٹ، شراب نوشی اور کسی بھی طرح کے کپڑے ذیب تن کرنا کسی بھی فردِ واحد کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ سوچ بلکل اس کے برعکس ہے کہ یہ کام صرف مرد ہی کر سکتے ہیں۔ محض کپڑوں کی بنا پر کسی کو پرکھنے کے بجائے اس کی سوچ کو سمجھا جائے۔ ترقی پسندی انسان کے کپڑوں سے نہیں سوچ سےہونا بے حد ضروری ہے۔ خواتین کے حقوق، شخصی آزادی ان کا نظریہ وغیر وغیرہ! آزادی اظہار رائے کا سب کو حق حاصل ہے۔ لیکن اس کو غلط سمت میں لے جانا بلکل غلط ہے۔

لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں خواتین نے فیمینِیزم کو نیا چہرہ دے دیا ہے۔ اگر خواتین کو حقوق نہیں مل رہے، تو اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ مگر افسوس انھوں نے تمام مردوں کو ایک صف میں کھڑا کرکے تہمتوں کی بارش کردی ہے۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.