ماضی سے پیوستہ افسانے

1,494

شدید گرمی اور چلچلاتی دوپہر میں میرا بہترین ٹھکانا گاؤں سے باہر درختوں کا ایک جھنڈ ہوتا تھا جسکی گھنی چھاؤں تلے تالاب کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر کیریاں کھانا یا مٹی کے برتن بنانا میرا بہترین مشغلہ ہوتا تھا۔سردیوں کی روشن دوپہر ہوتی یا ٹھٹھرتا کہرا ، چار دیواری سے محروم لڑکوں کے سکول کا گراؤنڈ میری حکمت عملی کا بورڈ ہوتا جس پر میں کسی نئی پڑھی کتاب یا آرٹیکل میں مذکور انجانے جہانوں کا نقشہ بناتی اور ارد گرد موجود اپنی سہیلیوں اور بہنوں کو پورے وثوق سے بتاتی کہ میں یہاں سے سفر شروع کروں گی اور یہاں سے واپس آؤں گی۔ میری سٹک کے سفر کے ساتھ ساتھ میرے خیالات بھی ان سب دور قریب کے دیسوں کا سفر کر لیتے۔ گرما سرما کی چھٹیاں ہونے پر شورکوٹ کینٹ سے گاؤں آتے جاتے ہؤے راستے میں آتے ہر گاؤں کے باہر سکول ،تالاب ، قبرستان اورکھیل کے میدان مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے کے سب گاؤں ایک پیٹرن پر کیوں بنے ہوتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر موضعہ اور دیہہ تقریبا ایک پیٹرن پر کیوں ہوتے ہیں؟ موجودہ جمع بندیوں کا نظام کتنا پرانا ہے؟ کیا میری طرح آپ بھی یہی سوچتے ہیں کہ یہ انگریزوں یا مغلوں کے زمانے کا نظام ہے؟ تو پھر جان لیجئے کہ یہ نظام اتنا پرانا نہیں ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ یہ نظام 1960 کی اشتمالی سکیم کے تحت قائم ہوا۔

آسان الفاظ میں اشتمالی سکیم کا مطلب ہے تمام گاؤں کے لوگوں کی زمین کو اکٹھا ایک ہی بلاک میں شامل کرنے کے بعد دوبارہ سے حدود بندی کے بعد زمین مالکان کو تقسیم کرنا ۔ لفظ ‘اشتمال ‘ لفظ ‘ شامل’ سے نکلا ہے جسکا مطلب ‘یکجا’ کرنا بھی ہے۔ اس سکیم کےتحت ایسے مالکان جن کی زمین دور دور بکھری ہوئی تھی ان قطعات کو ایک ہی جگہ، ایک ہی کھیوٹ یا مربع میں شامل کر کے ایک ہی بلاک میں ڈھال دیا گیا، جسکے قبضہ میں وہ زمین پہلے تھی اسکی جگہ تبدیل کر کے نزدیک ہی دوسری جگہ پر اسکی زمین کو یکجا کر دیا گیا۔ مفاد عامہ کی مقصد کے لیئے مختص زمین کو ایک ہی جگہ پر اکٹھا کیا گیا اور نئے سرے سے حد بندیاں کی گئیں۔

چند بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں کو چھوڑ کر دیہات اور موضعات میں سینکڑوں کسان انتقال اراضی کے مختلف رسوم و رواج اور نسل در نسل وراثتی انتقال کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے اور بکھرے قطعات اراضی کےمالکان تھے۔ اس وجہ سے جدید زرعی آلات و طریقہ ہائے جات کے استعمال میں دشواری ہوتی ۔ نہ زرعی پیداوار مناسب ہوتی نہ معاشی استحکام حاصل ہوتا۔ ان مسائل کے پیش نظر تاج برطانیہ نے برصغیر میں 1920 سے 1946 تک مختلف اشتمالی سکیمیں متعارف کروائیں مگر وہ تمام سکیمیں اپنی زائد لاگت اور سست رفتاری کے باعث کامیاب نہ ہو سکیں۔

آزادی کے بعد مملکت پاکستان کی آغوش شفقت میں آنے والے مہاجرین کو جہاں جگہ ملی وہ وہیں قابض ہو گئے۔ اس بے ترتیبی نے بھی زرعی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے میں اپنا کرادر ادا کیا۔ سر مالکم ڈارلنگ (ریٹائرڈ) فنانشل کمیشن متحدہ پنجاب آزادی کے فوری بعد انٹرنیشنل لیبر آرگنا ئزیشن کے نمائندہ کے طور پر پاکستان تشریف آئے اور اس وقت کے وزیر ریونیو و مالیات ، وزارت اقتصادیات اور پنجاب حکومت کو امریکی ایمبیسی کراچی کی مدد سے اشتمال اراضی کی سکیم نافذ کرنے کی صورت میں انٹرنیشنل کوآپریشن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے مالی امداد کی یقین دہانی کروائی۔ سر مالکلم کی ان کاوشوں کے نتیجہ میں حکومت پاکستان نے 1954 میں پہلی اشتمالی سکیم نافذ کی جسکے تحت سالانہ 50 لاکھ کی لاگت سے 20 سال کے عرصہ میں مالکان کے بکھرے قطعات اراضی ایک جگہ یکجا کر کے نئی پیمائش کے مطابق نئی جمع بندیاں کی جانی تھیں مگر 50 لاکھ کی رقم پہلے ہی سال 85 لاکھ میں تبدیل ہو گئی۔ صدارتی حکم پر پاکستان لینڈ ریفارمز کمیشن نے اپنی سفارشات 1959 میں پیش کیں اور اشتمال اراضی آرڈیننس 1960 نافذ ہو گیا۔ اس سکیم کو 5 سال کے عرصہ میں مکمل ہونا تھا مگر اس میں بھی 10 سال کی توسیع کرنا پڑی۔

sssss

جنگلات اور چراگاہوں کو اس سکیم سے استثناء حاصل ہے ۔ ٹاؤن کمیٹیوں ،میونسپل کمیٹیوں اور ان سے ملحقہ اراضی کو بورڈ آف ریوینیو کی اجازت کے بغیر شامل اشتمال نہ کیا جا سکتا ہے۔پرائیوٹ اور سرکاری زمین کو الگ الگ کھتونیوں میں تقسیم کرنے کے بعد باغات، کنووں،درختوں اور کھیتوں کی تقسیم کی جاتی ہے ۔ مفاد عامہ کے لیئے سڑکیں، کھالے، معاوضے، کھاد کے گڑھے،تالاب، سکول، کھیل کے میدان ، قبرستان اور توسیع مساجد برضا مالکان رقبہ مخصوص کیا گیا۔ پرائمری سکول کے لیئے 1 ایکڑ ، مڈل سکول کے لیئے 3 ایکڑ اور ہائی سکول کے لیئے 6ایکڑ زمین مخصوص کی گئی۔

کاروائی اشتمال کے لیے کم از کم 50 روپے کے ساتھ موضعہ یا دیہہ کے 51 لوگوںکا درخواست دینا ضروری قرار پایا۔ ان کا اس اراضی میں کم از کم 51 فیصد تک حصہ دار ہونا ضروری قرار پایا۔ تمام کاروائی کے لیئے افسر اشتمال متعلقہ افراد کو نوٹس بھجواتا اور ہر کاروائی کے شروع اور اختتام پر منادی بھی کروائی جاتی۔ جسکے بعد ڈی ـ سی صاحب روزنامچہ پڑتال میں تحریر کرتے ۔ مالکان دیہہ کی رضامندی فی الوقع و قانوناَ حاصل کی جا چکی ہےَ اسکے بعد قبضہ جات کی تبدیلی، عملدرآمد ، منظوری اور جدید کھتونی پیمائش پر عملدرآمد کیا گیا۔ اخیر تصدیق روبرو 50 فیصد مالکان یوں ہوتی : میں نے روبرو جملہ حقداران کے اندراجات کی تصدیق کر لی ہے اور اس امر کی تصدیق کر لی ہے اور اس امر کا اطمینان کر لیا ہے َ ۔رجسٹر رفتار کام اشتمال میں روز کی کاروائی کا اندراج کیا جاتا۔

پٹواریوں کو پابند کیا گیا کہ اسکے پاس ہر وقت 1 جریب آہنی، 10 آہنی سوئے ،12 جھنڈیاں،2 گز آہنی، 1 کراس چوبی ،1 تختہ چوبی، 1 پیمانہ پیتل، نلکا جستی برائے حفاظت مساویاں ہونا چاہیں۔ جس سے اسکا بستہ کافی بھاری ہو جاتا ہے۔

۔ موجودہ داخل خارج ، اشتراک و تقسیم کا فیصلہ یوں ہوا ۔ موجودہ گرداوریاں یوں عمل میں آئیں۔ دلچسپ بات یہ کہ جہان پہلے عمل مربع بندی یا مستطیل بندی پہلے سے موجود نہیں تھی وہاں صرف مستطیل بندی کیے جانے کا اصول وضع کیا گیا۔ پہاڑی علاقوں میں صرف مثلث بندی کی جا سکتی ہے۔اس نئی سکیم میں نئی پیمائش متعارف کروائی گئی جس سے محکمہ مال اور ریوینیو کی ایڈمنسٹریشن میں بھی آسانی ہوئی اور کسانوں کو بھی آسانی ہوئی۔مالکان نے ایک ہی جگہ پر اراضی ہونے کا فائدا اٹھاتے ہوئے جدید زرعی آلات و طریقہ جات استعمال سے ناصرف اپنے معاشی حالات سدھارے بلکہ ملکی زرعی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ دیہات کو رہائشی ، تفریحی اور مفاد عامہ کے پیٹرن کے مطابق ڈھال کر خوبصورت اور با ترتیب گاؤں تشکیل دیئے۔

مصنفہ پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور وہاڑی کی عدالتوں میں پریکٹس کرتی ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

25 تبصرے

  1. Wasim Bari کہتے ہیں

    Great
    Nice writing Miss Haleema

    1. Haleema Sadia کہتے ہیں

      Shukriya Waseem Bari

  2. محمّد ناصر جاوید کہتے ہیں

    بہت عمدہ تحریر ہے۔ معلومات سے بھرپور ہے۔ مصنفہ کی محنت ،تحقیق اور قابلیت عیاں ہے۔

    1. Haleema Sadia کہتے ہیں

      Thanks Alot :)

  3. Mirza Hashim khan کہتے ہیں

    Bht nice
    Good witter
    Such a nice writer

  4. FAiza Gul کہتے ہیں

    Bht Acha Likha hai very well done haleema waiting for your next blog

  5. Mirza Hashim khan کہتے ہیں

    Bht nice
    Good witter
    Its blog shows writer hard work

  6. Makia khan کہتے ہیں

    You have excellent ability to share your experiences by using words…..wonderful

  7. سمیرہ کہتے ہیں

    واہ تو اسی وجہ سے ہماری زمین کا رقبہ کم ہوا اور اسکو تقسیم کرنا پڑا تھا. سادہ زمانہ تھا تو اس وجہ سے کہ اتنی اراضی کیسے کاشت ہوگی اکیلے فرد سے تو جمع بندی میں تقسیم بندی ہوگئی۔۔ابتدائیہ خوب لکھا اپنے ہی بچپن میں چلی گئی میں ۔۔

  8. Noshaba کہتے ہیں

    Bhot umda tehreer

  9. biya کہتے ہیں

    Very informative goodluk girl

  10. Adv Asad Raza کہتے ہیں

    Very informative….

  11. Aabi کہتے ہیں

    Zbrdst…. Nice information
    Keep it up.

  12. Lutuf Ullah کہتے ہیں

    Usually I never comment on blogs but your article is so convincing that I never stop myself to say something about it. You’re doing a great job, Keep it up.

  13. عرفان کہتے ہیں

    معلوماتی… خوبصورت تحریر

  14. Engr. Lutuf Ullah کہتے ہیں

    Enjoyed reading the article above , really explains everything in detail,the article is very interesting and effective.Thank you and good luck for the upcoming articles.

  15. Jam Aftab Ahmed کہتے ہیں

    Dear Haleema sadia..A blessed lady writer.. a well organised approach compassess on brief history of consolidation…A consolidated approch towards civil consolidation…
    No doubt u r a rising star of legal fraternity A upright &committed lady lawyer best wishes for you
    future..U are the best face of our nation….MashAllah keep it up..Proud to be your junior…
    Brain with Beauty

  16. Asad Gondal کہتے ہیں

    Excellent work…..

  17. Rana Asif کہتے ہیں

    Very informative… keep writing miss…

  18. محمد عبداللہ بھٹی کہتے ہیں

    ماشاللہ اللہ پاک آپکو ہر میدان میں کامیاب کریں… آمین کافی نالج حاصل ہوا میں اس مضمون کو باربار پڑھوں گا

  19. Amina ashraf کہتے ہیں

    Nice Information… Great research

  20. Haleema Sadia کہتے ہیں

    Thanks all for appreciating me..I’ll try to keep writing on legal matters in light way.

  21. میاں طارق محمود ایڈووکیٹ کہتے ہیں

    چھپی رستم نکلی تم تو۔ بہت اچھا لکھا۔ اشتمال ریونیو کا سب سے complicated topic ھے تم نے بہت آسان اور سادہ لفظ میں اسکی وضاحت کی ھے۔ زبردست لائق تحسین

  22. Jam Munir Hussain کہتے ہیں

    Good debut indeed dear,keep it up..best wishes

تبصرے بند ہیں.