نظام ضروری ہے!

1,478

مجھ ایسے لوگ اب تھک چکے ہیں۔ اب تو احساس ہونے لگا ہے کہ اس اندھی عقیدت اور نفرت میں تقسیم وہ معاشرے میں کوئی بات عقل کی بھی کی جائے تو تفریق بڑھے گی کم نہیں ہو گی ۔ آمریت کے کئی ادوار کے ڈسے ہوئے لوگ ہیں مگر آج تک سبق نہیں سیکھا۔ اس لئے کہ ہمارے نزدیک ایک شخص کے لئے اس کا مفاد ہی سب ہے، قوم کی طرف نظر کوئی نہیں کرتا نہ ہی کسی کو ادنیٰ درجے پر پرواہ ہے۔ ہم اس وقت اس سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر بحران کے اس موڑ پر کھڑے ہیں اور آگے کھائی ہے۔ اس کھائی میں گرنے کے بعد کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ بیرونی خطرے تو بلاشبہ ہیں، ہمارے دشمن تاک میں بیٹھے ہیں کہ موقعہ ملے اور وہ فائدہ اٹھائیں. کیا اس کھائی میں چھلانگ لگانی ہے کہ جہاں اس نظام کا کچھ نہیں بچے گا اور سب کے پاس صرف پچھتاوا ہو گا اور وہ لوگ جو اس وقت اکسا رہے ہیں وہ اس نئے نظام کے بینیفشری بن جائیں۔ ہمیں بحیثیت قوم، بحیثیت معاشرہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ نظام کیوں ضروری ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ آج ہمیں سوال کی اجازت ہے، گِلہ ہمارا یہ ہے کہ جواب کیوں نہیں دیا جا رہا۔ جو کہ بالکل بجا ہے اس کے باوجود یہ جمہوریت، یہ نظام ہماری انفرادی اور اجتماعی آزادیوں کی ضامن ہے۔ اگر نظام کو کچھ ہوتا ہے تو پھرسوال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔ ہمیں چین کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ چین یہاں سے وہاں پہنچ گیا، سویئزرلینڈ کی معیشت اتنی بڑھ گئی فلاں فلاں۔ لیکن زمینی حقائق کوئی نہیں بتاتا۔ کوئی نہیں بتاتا کہ چین جو کہ دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے وہاں سوال کی سرے سے کوئی اجازت ہی نہیں ہے۔ وہاں آپ کبھی سوال کر کے دیکھیں تو پھر یہ دیکھیں کہ آپ کے ساتھ وہاں بنتی کیا ہے؟ آج سے ٹھیک تیس سال پہلے تیانمن اسکوائر پر طلباء جمہوریت کے لئے نکلے تھے، پھر ٹینک آئے، بوٹ آئے اور پھر بارود و خون کی بو ہی بچی۔ایران کی مثال لے لیں، خمینی جب تہران میں اترے تو کئی ہزار لاشوں کی سیڑیوں پر اترے۔ کیا وہاں کوئی بہتری آ پائی؟ آج انتہاپسندی کی بلند سطح پر فارس اور عرب دونوں کھڑے ہیں۔

جب بھی ہمارے ہاں نظام کی بقاء کا سوال ہوتا ہے تو مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب بھی حساب مانگا جائے تو نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ اصطلاح اپنے مقاصد کے لئے سیاستدان استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام کو کبھی ٹھیک سے چلنے نہیں دیا گیا یہ سمجھے بغیر کے نظام پیدا ہوتے ہی پھل دینے نہیں لگتا اسے میچیور ہونے کو وقت درکار ہوتا ہے حوالے کے لئے تاریخ بہت تلخ ہے اس کا ذکر کیا جا سکتا ہے کہ جو اس نظام کے ساتھ مخلص تھے ان کے ساتھ کیا ہوا؟ اشارے کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ ایک ذولفقار علی بھٹو ناخداؤں کے آگے ڈٹ گیا تو سولی چڑھا دیا گیا، جونیجو نے کہا آمریت اور جمہوریت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ پھر ایک سانحہ اوجڑی کیمپ ہوا اور اس کو گھر جانا پڑا۔ بینظیر بھٹو آئیں تو ابتداء میں انہیں اقتدار منتقل ہی نہیں کیا گیا، نواز شریف آئے، واجپائی آئے اور کارگل ہو گیا، پھر زرداری آئے تو میمو کیس لایا گیا، نواز شریف پھر آیا تو دھرنے اور ڈان لیکس کے ذریعے مسائل پیدا کئے گئے۔ اس نظام کی ناکامی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب بھی سیاستدانوں کو موقعہ ملتا ہے یہ غیر جمہوری لوگوں کے ہاتھ کا عصاء بن جاتے ہیں۔ لیکن ہمارے آج کے ارسطو یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت وہ درخت ہے جو لگاتے ہی پھل دے ورنہ بیکار ہے۔ حالانکہ یہ عبث ہے۔ یونان کے شہر ایتھنز میں جب جمہوریت پیدا ہوئی تھی تو اس شکل میں قطعاََ نہیں تھی جس صورت میں آج ہے۔ اس کو میچیور ہونے میں وقت لگا۔ کئی صدیوں بعد جا کر یہ ایک آئیدیل سسٹم بنا۔

اس وقت ہم معاشی طور پر شدید بحران کا شکار ہیں اور یہ بات ہمیں بہت عرصے سے بتائی جا رہی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ تو بتایا جا رہا ہے کہ بحران ہے اور اس کی وجہ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ اس کا حل کیا ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہر قوم کبھی نہ کبھی شدید معاشی بحران کا شکار ہوئی ہے مگر وہ اس سے نکلی کیسے؟ معیشت، معاشرت اور سیاست یہ تمام چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک میں بھی عدم استحکام ہو تو باقی چیزیں خوبخود اپنا توازن کھونے لگتی ہیں۔ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ احتساب لوگوں کا پیٹ نہیں بھرا کرتا۔ احتساب ضروری ہے بہت ضروری ہے مگر توازن کے بغیر یا ضرورت سے زیادہ ہر چیز زہر ہے۔ تمام چیزیں ایک ساتھ ہی چلنی ہیں۔ بغیر نظام کے تو کوئی احتساب نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی کہے بغیر معیشت کے صرف احتساب کر لیا جائے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب سیاسی خلفشار بڑھتا ہی جا رہا ہے اور حکومت جس پر ذمہ داری ہے کہ وہ اس سب کو کنٹرول کرے اس تماشے کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔ وہ وعدے جو قوم کے ساتھ کئے گئے وہ پہلے بجٹ میں ہی توڑ دیئے گئے ہیں اور کمال مہارت سے توجہ نان ایشوز کی طرف مبذول کرا دی گئی ہے۔ یہ سمجھے بغیر کہ الیوژن تو پیدا کرے گا مگر حقیقت عوام کے سامنے جلد ہی آ جائے گی۔ دوسری جانب وکلاء اور عدلیہ سے بھی محاذ آرائی کی جانب حکومت چل پڑی ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس بلاشبہ ایک آئینی مسئلہ ہے اس کے باوجود آئین ہی کہتا ہے کہ جب بھی کسی جج کے خلاف کوئی ریفرنس بھیجا جائے گا تو جب تک اس کی سماعت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک اسے پبلک سے دور رکھا جائے گا۔ تاکہ عدلیہ پر لوگوں کا اعتماد بحال رہے۔ لیکن اس خبر کو میڈیا میں لیک کر کے جج کا میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ اپوزیشن اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کوئی تحریک شروع کر سکے۔ لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ہم اس وقت اکانمک ریسیشن کے درمیان کھڑے ہیں جو کہ آنے والے وقت میں مزید بڑھے گا۔ جب معاشی طور پر لوگ متاثر ہوتے ہیں تب انہیں نکلنے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نکلنے کو وجہ کافی ہو گی کہ منہ کو نوالہ نہیں جا رہا۔ ایسی صورت میں بغیر سیاسی لیڈرشپ کے کوئی بھی تحریک تباہ کن ہو گی۔ حالات جتنے نازک ہیں ایسے وقت میں کوئی بھی احتجاج اس نظام کے پاؤں اور کمزور کرے گا۔ اپوزیشن کو پارلیمان کی طرف لوٹنا ہو گا اور وزیر اعظم کو پارلیمان آنا ہوگا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نظام ضروری ہے۔

ہمیں ان سے سبق سیکھنا ہے کہ یہ انقلاب یا تین چار ہزار لوگوں کو لٹکا دینا مسائل کا حل نہیں ہے۔ مسائل کا حل صرف اصلاحات اور بات چیت ہے۔ ہر ادارے کو اپنی ڈومین میں رہتے ہوئے، اپنے مینڈیٹ کے تحت کام کرنا ہے۔ آئین میں سیپریشن آف پاور کا کانسیپٹ اسی لئے ہے کہ جب ریاست کے اپنے ہی اداروں کے درمیان ٹکراؤ ہو گا تو ریاست کس طرح چلے گی؟ وقت کی اہم ترین ضرورت ادراک اور مفاہمت ہے۔ مفاہمت کا مطلب یہ نہیں کہ لوگ جن کو اپنے وقت کے جواب دینے ہیں، ان سے جواب نہ لئے جائیں۔ جواب ضرور لئے جائیں مگر ایک توازن کے ساتھ۔ ایک فریمورک کے تحت اس ہیجان میں احتساب کیسے ہو سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ احتساب سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنا احتساب کا نظام ٹھیک کریں۔ یہ احتساب کا ادارہ تو وہ ہے جو پولیٹیکل وکٹمائزیشن کے لئے بنایا گیا تھا۔ اگر یہ نظام مظبوط ہوتا تو کیسے نواز شریف اور بینظیر بھٹو صاحبہ کے مقدمے ختم کئے جا سکتے تھے۔ نیب کو بنایا ہی اس فکر پر گیا تھا کہ جس کو ٹائٹ کرنا مقصود ہو اس کو ٹائٹ کیا جا سکے، جس کو ڈھیل دینی مقصود ہو اس کو ڈھیل دی جا سکے۔ ایک مظبوط نظام کی ضرورت ہے کہ جب احتساب ہو تو پھر کوئی اپنے سیاسی فائدے کے لئے اس احتساب کا رستہ روک نہ سکے۔ اداروں کے مابین بھی ایک ڈائیلوگ ضروری ہے جس کا حوالہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنی افتتاحی تقریر میں دیا تھا۔ اب ضروری ہے کہ ہر ادارہ اپنی حدود کا تعین یا ادراک کر لے۔ اداروں کی اپنی ہی جنگ کے بیچ یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سیاستدانوں کو بھی اب سوچنا پڑے گا کہ وہ اب تک کھلونے بنتے آئے ہیں، آگے بھی کھلونے بنتے رہیں گے یہ اپنی ماں ‘پارلیمان’ کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے مضبوط کریں گے۔ یہ سیاستدان ہمیشہ بھول جاتا ہے کہ اس کا سینٹر آف پاور یہ پارلیمان ہے۔ اس پارلیمان کے بغیر ان کا وجود نہیں ہے۔

پنجاب کو بھی اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ سب سے بڑا صوبہ آج تک طاقت کے مرکز کے ساتھ کھڑا ہوتا آیا ہے۔ اب کی بار وہ طاقت کا ساتھ دے گا یا اصول کا۔

یہ وہ وقت ہے جب فیصلہ ضروری ہے کہ آپ کدھر کھڑے ہیں نظام کے ساتھ یا اس کے خلاف۔ سبین محمود کا ایک جملہ کانون میں گونجتا ہے، “خوف ذہن میں محض ایک لکیر ہے آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ لکیر کے اُس طرف کھڑے ہیں یا اِس طرف۔” کہ اب اگر نظام پٹڑی سے اترتا ہے تو ہمیں نظام کے لئے پھر ایک طویل جدوجہد کرنا ہو گی۔ پھر اس تحریک پر ڈنڈے بھی چلیں گے، گولی بھی چلے گی، بوٹوں تلے روندا بھی جائے گا، تب خون تو یقینا بہے گا اور تشدد بھی ہو گا۔ تو بہتر ہے کہ ابھی ہم نظام کو مستحکم کریں۔ نومبر قریب ہے، حالات ایک جیسے کبھی نہیں رہتے، وقت کے دائرے میں ہر شے ارتقاء کا شکار ہے۔ بحث چھڑ چکی ہے کہ منے کے ابا نئے آئیں گے یا یہی رہیں گے۔ سو حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ اگر اس نے اصول پر رہتے ہوئے اتھارٹی کے لئے لڑنا ہے تو اس کی سپورٹ بیس یہ پارلیمان ہو گا۔ اس کے بغیر اس کا دو دن بھی ٹکنا مشکل ہو جائے گا۔ اپنے سینٹر کو سمجھیں اور اس سے جڑ جائیں۔

محمد طلال خالد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ یہ شاعری بھی کرتے ہیں اور مستقبل میں صحافی بھی بننا چاہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.