کرکٹ ورلڈ کپ اور ٹیم پاکستان سے توقعات !

607

آج کل جہاں گرمی عروج پر ہے وہیں ورلڈ کپ کرکٹ کے متوالوں کو گرما رہا ہے ۔ پاکستان میں کرکٹ کسی ہائی فائی کلاس کا نہیں بلکہ گلی محلوں کا کھیل ہے، انہی گلی محلوں سے نکلنے والوں نے اپنے عزم سے کئی بار وطن پاکستان کا سر بلند کیا ہے، مگر جہاں جیت متوالوں کے جوش و جذبے اور محبت کو بڑھاتی ہے وہیں ہار مایوسی اور غصے کی لہر ساتھ لاتی ہے جس سے کھلاڑی بچ نہیں سکتے اور اگر میچ انڈیا اور پاکستان کا ہو تو پھر ساری دنیا میں عجیب سی سنسنی پھیل جاتی ہے ،ایسے میں ہار کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی ۔عوام کے جذبات ساتویں آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں جنھیں ہار آگ کا بگولہ بنا دیتی ہے ۔

اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کوئی خاصی اچھی نہیں ہے کہ جسے دیکھ کر چاہنے والوں کو خوشی ہو، مگر پھر بھی ورلڈ کپ کےلیے امیدیں لگائی گئیں پھر برطانیہ کے ساتھ میچ کی فتح نے انہیں اور مضبوط کر دیا مگر پھر آسڑیلیا اور بھارت کے ساتھ میچ میں بری کارکردگی نے مایوسی کی فضا کے ساتھ ساتھ غصے کو بھی ابھارا اور اب یہ غصہ آگ کی طرح پھیلا ہوا ہے جہاں جذبات کا بہاو بہت تیز ہے جو سب اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔

ہونا بھی چاہیے آخر ٹیم پر اتنا پیسہ لگتا ہے، لوگ اتنی مہنگی ٹکٹیں خرید کر سپورٹ کرنے جاتے ہیں اور آگے سے آپ کچھ نہیں کرتے ، ایسے میں لوگوں کو جذباتی ہونے کا حق ہے، آخر ملک وقوم کی عزت کی بات ہے اور اظہار کرنا چاہیے مگر یہاں کچھ چیزیں ہیں جن کا خیال رکھا جانا چاہیے۔

انڈیا کے ساتھ میچ کے بعد عوام سرف ایکسل سے ٹیم کو دھو رہی ہے کیونکہ ہمارے ہاں انڈیا کے ساتھ میچ کسی جنگ سے کم نہیں ہوتا ،جہاں ہم نے سارے حساب چکانے ہوتے ہیں، بچہ بچہ اس سنسنی سے واقف ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر کب تک یہی ہوتا رہے گا دونوں طرف سے، اب تو دنیا بھی اس سے محظوظ ہوتی ہے۔ یہ لڑائی اگر ایسے ہی چلتی رہی تو نسلیں تباہ کرے گی اور میڈیا وہ اسے اور ہوا دیتا ہے اور رہے گا اور جذبات کو ابھارے گا کیونکہ پیسہ جو کمانا ہے۔

ناقص کارکردگی پر اپنے پرائے سب پاکستانی ٹیم پر کڑی تنقید کر رہے ہیں اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر تنقید کرنی چاہیے اور بنتی بھی ہے، مگر اس سب کے ساتھ ساتھ اپنی حدود کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ ہم مذاق مذاق میں اکثر بہت گر جاتے ہیں اور حدود کو پامال کر دیتے ہیں ،اگر ہم اپنے آپ کو خود ہی پامال کریں گے تو دوسرے تو ہماری عزتوں کے جنازے نکالے گے ہی ۔ جب ہم اپنی ٹیم کو اچھی کارکردگی پر پھولوں کے ہار پہنا سکتے ہیں تو بری پر بھی انہیں قبول کرنا چاہیے، تنقید کریں مگر اس طریقے سے جس سے کسی کی عزت مجروح نہ ہو اور اسے بہتری کیلئے لیا جا سکے ، عزتیں سرے بازار نیلام نہ کریں اور نہ اپنا مذاق بنوائیں ۔اگر یاد ہو تو یہ وہی سرفراز ہے 2017 میں جو ٹرافی لایا تھا، تب لاکھوں لوگوں نے اس کا استقبال کیا تھا اور سر آنکھوں پر بٹھایا تھا اب ایسی حالت میں بھی قبول کریں ۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اگر ہم پازیٹو ہیں تو ہمیں چاہیے کہ پاکستان کو سپورٹ کریں۔

اگر پاکستان کے لوگ ہی ان کرکٹرز کو گالیاں نکالیں گے تو دوسرے ممالک کے لوگ بھی ان کو برا بھلا کہیں گے ۔ ہم کو تو چاہیے کہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی کی بحالی کی بھی کمپین چلائیں۔ کیونکہ آخری مرتبہ کسی نے بھی ہاکی کو سپانسرنہیں کیا تھا جبکہ کھیلوں کی کمپین چلانی بھی ضروری ہے مگر کیونکہ وہاں سنسنی اس طرح کام نہیں کرتی تو یہ کیوں چلائیں ۔ پاکستان کا کوئی بھی چینل ہاکی کی کوئی نیوز نہیں لگاتا ۔ اگر ہر کھیل کی ایڈورٹائزمنٹ کی جائےتو سب کو ہر کھیل سے لگاؤ ہو گا۔

تنقید کرنے والوں کی بات بھی مناسب ہے ،اب یہاں کچھ چیزیں ہیں جن پر سوال اٹھایا جانا چاہیے جیسا کہ سرفراز احمد کی فٹنس جو دن بدن بگڑتی جارہی ہے ۔ سرفراز کو دیکھ کر لگتا ہے کہ چالیس کو پہنچنے والے ہیں جبکہ وہ ابھی صرف بتیس کے ہیں ۔یہ ایک سنجیدہ اور غور طلب بات ہے اور سرفراز کو اس پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے ۔ اگر کپتان اپنی فٹنس کا خیال نہیں رکھے گا تو کھلاڑی تو بیڑا غرق کر دیں گے ۔ کھیل میں فٹنس ہی تو اصل کردار ادا کرتی ہے ، ہماری سالوں سے فیلڈنگ اچھی نہیں ہے کیونکہ ہمارے لڑکوں کی فٹنس ورلڈ کلاس نہیں ہے اور سیاست جس نے ہر جگہ ٹانگیں اڑای ہوی ہیں ،کرکٹ میں بھی دن بدن مقبول ہو رہی ہے اور تباہی مچا رہی ہے، جس پر سوال اٹھانے چاہئے اور تنقید بھی کڑیاں ڈال کر کرنی چاہیے ۔ٹیم میں آپس میں باڈنگ (bonding)ہی نہیں دکھائی دے رہی جو بہت پریشان کن ہے اور اس پر سوال اٹھانا بنتا ہے ۔

مگر سب کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو سپورٹ کریں جیسے اچھے حالات میں کرتے ہیں ،ہاں تنقید کریں کڑی کریں مگر حدود کا خیال رکھ کر ، عزتوں کے جنازے نہ نکالیں کیونکہ ان کی عزت پاکستان کی عزت سے مشروط ہے اور پاکستان کی عزت، ہماری عزت ہے۔

آخر میں یہی کہنا ہے کہ اُمید نہیں ہارنی کیونکہ 1992 میں بھی پاکستان انڈیا سے ہارا تھا ۔ ابھی بھی چانس پورا ہے، ہم فائنل میں پہنچ ہی جائیں گے اورانشا ءاللہ ورلڈ کپ بھی ہمارا ہے،بس حوصلہ نہیں چھوڑنا کیونکہ 1992 میں بھی ایسا ہی ہوا تھا !

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.