میڈٰیا ہاوسز پر حملے آزادی صحافت پر سوالیہ نشان!

1,197

پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے پر کام کرنے والے متحرک ادارے پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2002 سے 2019 تک یعنی گزشتہ 17 سالوں میں 32 میڈیا ہاؤسز پر حملہ کیا گیا، 48 صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے جبکہ 24 کو کام کے دوران مار دیا گیا، اسی دوران 171 کو شدید جبکہ 77 کو معمولی زخمی کیا گیا۔

20 نومبر 2015 کی شام فیصل آباد، منصور آباد کے علاقہ کینال روڈ پر موجود دنیا نیوز کے دفتر پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ ہونے کے بعد نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی فیصل آباد میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمہ دنیا نیوز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر غلام محی الدین کی جانب سے درج کروایا گیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 20 نومبر کو لگ بھگ شام 6 بجے موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم دہشت گردوں نے کینال روڈ پر واقع دنیا نیوز کے دفتر پر حملہ کیا جس سے دفتر کی عمارت کے شیشے ٹوٹ گئے علاوہ ازیں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔مزید یہ کہ دھمکی آمیز پمفلٹ بھی پھینکے گئے۔ تھانہ سی ٹی ڈی فیصل آباد میں دفعہ 427‘ 324‘ 4/3 ایکسپوز ایکٹ‘ 16POPA اور 7ATA کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

دنیا نیوز سے منسلک ملازمین کا بتانا ہے کہ 20 نومبر کو خفیہ ایجنسی نے بتا دیا تھا کہ دہشت گرد پنجاب میں داخل ہو چکے ہیں اور کہا تھیا کہ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی تعداد 5 یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے اور وہ آرمی کی گاڑیوں ،پولیس کی گشت پر مامور گاڑیوں اور میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے پھینکے گئے خط میں کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ خراساں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

دنیا نیوز کے سینئیر رپورٹر عبدالباسط نے بتایا کہ دہشتگردوں نے جو دستی بم پھینکا تھا وہ موٹر سائیکلوں کے نیچے چلا گیا تھا جس کی وجہ سے زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔ دفتر میں موجود لوگ حملے کے بعد سہم گئے۔ کریکر حملے سے سکیورٹی گارڈ احمد نذر اور مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ سے سیف زخمی ہوئے تھے۔ بچت کی بات یہ تھی کہ حملہ شام کے وقت کیا گیا تھا اور خوش قسمتی سے اس وقت زیادہ تر عملہ دفتر میں موجود نہیں تھا۔

اس وقت کے فیصل آباد پریس کلب کے سیکرٹری ساجد خان کے مطابق ان دنوں پاکستان دہشتگردی کی زد میں تھا اور میڈیا پاک آرمی اور دیگر فورسز کی حمایت میں کوریج کر رہا تھا۔ اسی تناظر میں فیصل آباد میں دنیا نیوز کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد میڈیا ہاؤسز کی توجہ ہٹانا، ان پر پریشر ڈالنا اور لوگوں کو نفسیاتی طور پر خوف میں مبتلا کرنا تھا۔دریں اثنا اس وقت فیصل آباد پریس کلب کی جانب سے احتجاج کیا گیااور وزارت داخلہ کو مراسلہ جاری کیا گیا کہ میڈیا ہاؤس پرجو حملہ کیا گیا ہے اس کی وجہ سےملازمین خوف میں مبتلا ہیں لہٰذا اداروں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ بعد ازاں شہر میں سرچ آپریشن کیا گیا۔ تاہم اب پھر میڈیا ہاؤسز سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے حملے کئے جاتے ہیں تاکہ فورسز کی توجہ تقسیم ہوجائے۔

سینئیر صحافی مبشر بخاری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف قانون موجود ہے لیکن نفاذ نا ہونے کے برابر ہے۔

رانا حبیب جو اس وقت پی ایف یو جے فیصل آباد کے صدر تھے ان کا بتانا ہے اس واقعہ کے بعد تمام تنظیموں نے بھرپور احتجاج کیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ سی ٹی ڈی نے اس حملے پر متحرک ہو کر کام سر انجام دیا۔فیصل آباد کے تمام میڈیا ہاؤسز کو پہلی بار سکیورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس حملے خلاف ہر فورم پر احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جرنلسٹ ایکٹ موجود ہے جو تمام قانونی تقاضے پورے کرتا ہے لیکن قانون کا نفاذ نظر نہیں آتا۔

علاوہ ازیں دیگر نجی ٹی وی چینل جن میں اے آر وائی نیوز شامل ہے پر بدھ 13 جنوری 2016 کی شام حملہ کیا گیا۔ حملہ آور بغیر نمبر پلیٹ کے ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ انہوں نے دفتر کی عمارت پر دو گرینیڈ پھینکے اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک سٹیلائٹ انجینئر زخمی ہو گیا۔

اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے بیوروچیف صابر شاکر کا بتانا ہے کہ اے آر وائی نے شدت پسندوں کے خلاف چند ایسی رپورٹیں نشر کی تھیں، جن کے بعد ہمیں دھمکیاں مل رہی تھیں۔

دریں اثنا دہشت گردوں کی طرف سے نجی ٹی وی چینل دن نیوز کے دفتر پر بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا، جس میں دو پولیس اہل کار اور ایک میڈیا ورکر زخمی ہوا۔

اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے سینئیر وکیل میاں عمران دانش کا بتانا ہے کہ میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں پر حملے کے لئے کوئی مخصوص قانون سازی نہیں ہے۔پروٹیکشن آف جرنلسٹ ایکٹ 2014 میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کو تحفظ دینے کے لئے 14 نکات کی شکل میں موجود ہےاور اگر اس کا نفاذ جامعہ طور پر ہو تو یہ قانون صحافیوں کے تحفظ کے لئے اہم کردار اداکر سکتا ہے۔

وارث سلطان لاہور نیوز سے وابسطہ ہیں اور سوشل میڈیا ٹیم کاحصہ ہیں۔ مطالعےکا شغف رکھتے ہیں اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    صحافت کی اکثرئیت بھاری بھرکم لفافوں کے عوض جھوٹ ،لوٹ کھسوٹ کا جس طرح دفاع کرتی چلی آرہی ہےاسکے منطقی نتائج کی خود ذمیدار ہے۔ قوانین ۓ قدرت خود اپنا رستہ بناتے ہیں۔ نہ انکو کوئی رستہ دیتا ہے نہ رکاوٹ کا سوچ سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.