!…مائنس ون۔۔۔۔۔ یا مائنس 336

2,084

بجٹ کی آمد آمد ہے اور نظریاتی سیاست کے نقش پا مٹنے کے بعد اب تو محض عوامی سیاست کی کتاب کا آخری باب بھی ختم ہونے کو ہے۔۔۔

ایک طرف ریاست متحد و مستحکم ہے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے مزید مضبوط ہونے کا تہیہ کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف ایوانِ بالا و زیریں میں براجمان افراد عوامی اور ریاستی مسائل سے بے خبر اسی تگ و دو میں مصروف ہیں کہ اپنے ذاتی مسائل کیسے حل کریں۔۔۔

اپنے ذاتی مفادات کے پیش نظر، نظریہ ضرورت کی ایک ایس تصویر سامنے رکھی جا رہی ہے جس کی مثال آج تک کی پاکستانی تاریخ میں نہیں ملی۔ نظریہ ضرورت جو کہ پاکستان کی تاریخ میں مقتدر حلقوں کے استعمال کے لیے ہمیشہ سے ایک آلہ تھا اورجسے ملکی مفادات کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا اس بار سیاست دانوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے اور اس بار نظریہ ضرورت کا مطلب سیاستدانوں کی طرف سے ذاتی مفادات اور ضروریات تصور کیا جا رہا ہے جنھیں نا ہی عوام سے کوئی سروکار ہے اور نا ہی ریاست سے۔۔۔

پاکستان میں نظریہ ضرورت کی بنیاد پر ہمیشہ ہی فارمولے بنتے اور لاگو ہوتے آئے ہیں ، ایک بار پھر ایوانوں میں کسی فارمولے کے تحت مائنس ون کی بازگشت ہو رہی ہے اور صرف اپوزیشن سے ہی نہیں بلکہ حکومتی نشستوں میں موجود رہنمائوں میں سے بھی ایک بڑی تعداد کی رائے ہے کہ یہ فارمولہ ان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔

دوسری طرف عوام اور ریاست اس سرکس سے بے زار ہو چکے ہیں، انہیں نا کسی فارمولے سے سروکار ہے نا ہی کسی کے ذاتی مفادات سے، یہ اپنے حقوق کے ضامن، ایوانوں میں بیٹھے اپنے منتخب نمائندوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور سوال ایک ہی ہے کہ اگر آپ ریاست اور اور عوام کے نمائندگان کے طور پہ عوامی اور ریاستی مسائل کا حل نہیں کرنا چاہتے تو کیا ریاست اور عوام کو آپس میں ہی یہ مسائل حل کر لینے چاہیے ؟

بجٹ کی منظوری ایک نہایت اہم اور حساس معاملہ ہے، مائنس ون فارمولہ والے بجٹ منظوری کو اپنے لیے استعمال کرتے ہوئے یہ فارمولہ لاگو کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف عوام اور ریاست کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے، آیا کہ مائنس ون فارمولہ کامیاب ہوتا ہے یا یہ ریاست اور عوام اسے مائنس 336 میں بدل دیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. زوہیب اختر کہتے ہیں

    یہ میرا بلاگ ہے اور میں نے دنیا نیوز کو بھیجا تھا، پچھلے کچھ دن سے مسلسل کوشش کر رہا ہوں کہ جواب مل جائے کہ شائع ہوگا یا نہیں جواب تو ابھی تک نہیں ملا البتہ یہ بلاگ کسی اور کے نام سے شائع ہو گیا۔۔
    انتہائی افسوسناک بات ہے

  2. مہوش کہتے ہیں

    بہت اعلیٰ سوچ۔۔یا اللہ پاک پاکستان پر اپنا خاص کرم کر۔۔آمین

تبصرے بند ہیں.