کچھ نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

2,784

پاکستان میں کم ہی ایسا ہوا کہ جمہوری حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی ہو۔کبھی آمریت جمہوریت پر غالب آجاتی ہے اور منتخب نمائندوں کو گھر جانا پڑتا ہے،کبھی نااہلی کی تلوار کسی منتخب نمائندے کی عوامی سلیکشن کا سر قلم کردیتی ہے تو کبھی اپوزیشن کا احتجاج ایوان وزیراعظم کو خالی کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو بلا شبہ اسے کئی چلینجز کا سامنا تھا۔ کپتان جی کی کابینہ میں شامل وزرا کی کثیر تعداد ناتجربہ کار تھی،کپتان جی ان مشکلات کے سمندر سے نکلنے میں 9ماہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ملک میں مہنگائی کا عروج ہے۔ ڈالر کی پرواز کھلاڑیوں کے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث کبھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ تو کبھی بجلی مہنگی۔ ڈیم کا افتتاح تو ہوگیا لیکن اہلیان پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ صحت کارڈ کا اجرا تو ہوگیا لیکن ملک کے کئی سرکاری اسپتال ایسے ہیں جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ حکومت نے مدارس کو کنٹرول میں لینے کا ارادہ تو کرلیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اب بھی حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔ کپتان جی نے ہر تقریر میں میرٹ کی بات تو کی لیکن ان کے وزرا نے اپنی من پسند شخصیات کی من پسند عہدوں پر تقرریوں کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہر ادارے میں کرپشن تاحال ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی۔

اپوزیشن میں موجود جماعتوں نے حکومت کی تمام ناکامیوں کا فائدہ اٹھانے کا بھرپور فیصلہ کرلیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جن کو اس وقت قانونی مسائل کا شدید سامنا ہے، نے اپنے مسائل کے حل کا واحد راستہ احتجاج کو ہی تصور کیا ہے۔ اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے رمضان سے قبل مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے عید کے بعد احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تحریک انصاف کیلئے پریشان کن بات یہ ہے کہ ان کی اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بھی اپوزیشن اتحاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جیل میں موجود میاں محمد نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کریں جبکہ آصف زرادری اور بلاول بھٹوبھی احتجاجی تحریک کے لئے خاصے متحرک ہیں۔ تحریک انصاف کی سابقہ اتحادی پارٹی جماعت اسلامی اپوزیشن اتحاد کا حصہ تو نہیں بن رہی لیکن اپنے طور پر حکومت اور مہنگائی کیخلاف احتجاج کا اعلان کر رہی ہے۔ نومولود سیاسی جماعتیں بھی میڈیا پر حکومتی جماعت کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں میں گلوکار جواد احمد کی برابری پارٹی اور جنرل حمید گل کے فرزند عبداللہ حمید گل کی تحریک جوانان سر فہرست ہیں۔ ان جماعتوں کو نظر انداز اس لئے نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کبھی عمران خان بھی غیر مقبول سیاسی رہنما اور تحریک انصاف بھی نومولود سیاسی جماعت تھی لیکن آج صورت حال کچھ اور ہے۔

ادھرججز کیخلاف ریفرنس پر وکلا برادری ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیخلاف دائر ہونے والے ریفرنسزکیخلاف ملک بھر کے وکلاء 14 جون کو ہڑتال کریں گے۔ وُکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہمارا احتجاج ججزکے لیے نہیں اداروں کی مضبوطی کے لیے ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سیکشن176 کے تحت پہلے نوٹس دیا جاتا ہے لیکن جج صاحبان کوکوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ میرٹ کے لحاظ سے بہت کمزور ریفرنس ہے، کامیاب نہیں ہو گا۔ وکلاء رہنماؤں کایہ بھی کہنا ہے کہ مشیر اطلاعات کو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہیے، ریفرنس اور حکومت کیخلاف ہمارا احتجاج ہو گا۔ ریفرنس مس کنڈنکٹ اورسپریم جوڈیشل کے دائرہ کارمیں نہیں آتا، حکومت اس ریفرنس کوواپس لے۔ 14جون کوپرامن ہڑتال کریں گے۔ قانون کے دائرہ کارکے اندراپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔اگر ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو وکلا برادری نے مشرف جیسے آمر کا تختہ الٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

کپتان جی کو اب اپنے وزیروں اور مشیروں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔یقینی طور پر سابقہ حکومتوں نے کرپشن کی ہوگی لیکن عوام نے تحریک انصاف کو ان کے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ دیا تھا۔عمران خان کو اب کرپشن کو کنٹرول کرنا ہوگا۔عوام کی اکثریت کو شاید اس بات سے غرض نہ ہو کہ میاں صاحب جیل میں کس حال میں ہیں،شاید عوام کی اکثریت ان کے جیل جانے کے حق میں ہی ہو۔عوام کی اکثریت یہ بھی چاہتی ہے کہ جن دیگر افراد پر جرم ثابت ہو انہیں بھی جیل بھیجا جائے۔ لیکن عوام کو اس لوٹی ہوئی رقم کا انتظار ہے جو کپتان جی نے واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔عوام کو اس دن کا انتظار ہے جب مہنگائی میں کمی ہوگی۔عوام کو اس دن کا انتظار ہے جب غریب کی زندگی آسان ہوگی،جب سرکاری اسکولوں کا معیار پرائیویٹ اسکولوں جیسا ہوگا،جب انہیں سرکاری اسپتالوں میں سہولیات میسر ہوں گی۔عمران خان کو چاہیے کہ اب وہ ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنے کے بجائے،چاند اور عید کے مسئلے پر فکر مند ہونے اورمودی جی کو خط پر خط لکھنے کی بجائے ملکی حالات کی بہتری کیلئے کوششیں کریں کیونکہ اگر عوام سے کئے وعدے وفا نہ ہوئے تو شاید عوام اپوزیشن اتحاد کی احتجاجی کال پر نکل آئیں اور ملک میں دمادم مست قلندر ہوجائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. mirzapervaiz کہتے ہیں

    ملکی حالات پارٹی سے قابو میں نہیں آرھے ھیں ایک طرف بچت اور دوسری طرف اپنے لیے بھی خاصا بجٹ رکھوایا ھے اور پنجاب مین 36 اضلاع میں 38مشیر تعینات کیے ھیں اور ھر ایم پی اے ایم این اے اپنے دوستوں رشتہ داروں کو نواز رھا ھے

تبصرے بند ہیں.