کیا واقعی محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے؟

1,202

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق غیر محفوظ خوراک سالانہ 1.8 ملین لوگوں کی موت کا سبب بنتی ہے۔اسی حوالے سے اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاس شدہ قراردار کے تحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے اشتراک سے 7جون2019ء کو فوڈ سیفٹی کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دن کو عالمی حیثیت دینے کا مقصد لوگوں کوخوراک سے جڑے مسائل سے آگاہ کرنا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 59 فیصد لوگ غیر معیاری کھانا کھانے پر مجبور ہیں۔ اس تناظر میں پنجاب فوڈ اتھارٹی حکومت ِ پنجاب کی منظوری سے قائم کر دہ ایک ایسا منظم ادارہ ہے جس کا مشن ہی درحقیقت فوڈ سیفٹی کو نافذ کرناہے۔ کھیت سے پلیٹ تک صارفین کو محفوظ اور معیاری اشیائے خورونوش فراہم کرنے کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی دن رات کو شاں ہے ۔پاکستانی معاشر ے میں ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ چند روپوں کے منافع کی خاطر لاکھوں لوگوں کی صحت کا سودا کر لیا جا تا ہے۔ ملاوٹ مافیا کی صورت میں چھپے صحت دشمن عناصر کے عزائم کو روکنے اور ان کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ویجیلنس اور آپریشنز ٹیمیں 24گھنٹے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف نظر آتی ہیں۔

فوڈ سیفٹی میں کسی بھی قسم کی خوراک کی تیاری، ہنڈلنگ اور اسٹوریج سمیت تمام مراحل کو اس انداز میں سر انجام دینا شامل ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کی آلودگی یا خطرات کا شبہ نہ رہے۔ خوراک کی تیاری ہو یاکھانے کی مناسب اسٹوریج کے انتظامات، غیر معیاری پیکنگ سے لے کر جعلی لیبلنگ کے معاملات ، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن (ر)محمد عثمان کی سربراہی میں خوراک کے معیار میں بہتری لانے اور ناقص خوراک کو ترک کرنے سے متعلق خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک کی تیاری سے لے کر پیکنگ تک تمام مراحل کی کڑی نگرانی کر تی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوام الناس تک جو خوراک پہنچائی جا رہی ہے وہ ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ اسی ضمن میں پی ایف اے جعلسازوں اور عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلئے چھاپے، خصوصی مہمات اور گرینڈ آپریشنز کرتی ہے۔

انسپکشنز کے نتیجے میں بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جا تی ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوںکی سرزنش کی جا تی ہے جبکہ معمولی نقائص کی صورت میں کاروبار کو بہتر بنانے کیلئے اصلاحی نوٹسز بھی جا ری کئے جا تے ہیں۔گرینڈ آپریشنز میں عوام کو دھوکہ دینے والے کئی معروف برانڈز کی حقیقت سے پردہ بھی اٹھایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ملاوٹ مافیا کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جاتی۔

مفادعامہ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر قوانین مرتب کئے گئے۔ خوراک سے متعلق قوانین بنانے کے لئے مختلف شعبہ جات کے ماہرین اور پی ایچ ڈی ڈاکٹرز پر مشتمل سائنٹیفک پینل تشکیل دیا گیا ۔سائنٹیفک پینل کو جامع بنانے اور تنوع لانے کے لئے مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ممبران کو بھی شامل کیا گیا جن کی باہمی مشاورت اور متفقہ رائے سے تما م تر قوانین بنائے جاتے ہیں ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈ ریگولیشن کی منظوری سے خوراک کو16کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا تاکہ فوڈ انڈسٹری میں تیار ہونے والی تما م اشیاء سے متعلق معیار کا تعین کیا جا سکے۔ معیار مقرر کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ان اشیاء کو لیبارٹری میں چیک کر سکے اور قوانین کی روشنی میںانکے معیاری یا غیر معیاری ہونے کا فیصلہ کر سکے۔1960ء میں بننے والے قوانین جن میں خوراک کی محض 8کیٹیگریز تھیںکو پہلی بارپنجاب فوڈ اتھارٹی نے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اپ ڈیٹ کیا۔

فوڈریگولیشنز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالتے ہوئے پنجاب پیور فوڈ ریگولیشن2017ء اور پنجاب پیور فوڈ ریگولیشن2018ء شائع کئے جا چکے ہیں جبکہ پنجاب پیور فوڈ ریگولیشن2019ء جلد شائع کیا جا ئے گا۔ اس کے علاوہ مفاد عامہ اور انتظامی ضروریات کے تحت اب تک 18 مختلف ریگولیشنز بھی بنائی جا چکی ہیںجن میں سر فہرست پیکیجنگ ریگولیشن ہیں جسکی روشنی میں سٹیروفوم کو بطور پیکیجنگ میٹریل استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مزید برآںجنوری 2019 ء سے کھلی پیکنگ میں بکنے والی تمام اشیائے خور و نوش بلخصوص کھلے مصالحہ جات کی فروخت پر مکمل پابندی عائدکی جاچکی ہے جس کا مقصدمارکیٹ میں دستیاب بے نا می اور ملاوٹ زدہ اشیاء کی فروخت پر قابو پانا ہے۔پابندی کے اطلاق سے قبل بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم بھی دیا گیاتھا۔

ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں لہذابچوں میں خوراک کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے سکول کینٹین پر فروخت ہونے والی خوراک کو تین درجوں سبز، پیلا اورسرخ میں تقسیم کیا گیا۔ تمام نقصان دہ اشیاء کو سرخ درجے میں رکھ کر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ویجیٹیبل آئل اور مارجرین سے بنی مصنوعات بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنی پراڈکٹ پر فارمولا اور اور اجزا تحریر کریں اور اسے مکھن بنا کر فروخت نہ کریں۔

کاربونیٹڈ اورکولا ڈرنکس مشروبات کے مضر اثرات کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے سکول کینٹین میں ان کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جاچکی ہے۔علاوہ ازیںانرجی ڈرنکس میں کیفین لیول 400پی پی ایم سے کم کرکے 200 پی پی ایم کروایا گیا ہے جبکہ ایسی ڈرنکس کو اپنے نام کے ساتھ لفظ” انرجی “کے استعمال سے منع کردیا گیا ہے۔انرجی ڈرنکس کے ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے خاص طور پر بارہ سال سے کم عمر افراد اور حاملہ خواتین کو انرجی ڈرنکس کی فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور لیبل پر وارننگ لکھنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں ۔

فوڈ انڈسٹری کیلئے فوڈ سیفٹی لازم و ملزوم ہے۔ ابتدائی مراحل میں ہی خوراک کے معیار کو محفوظ کرنے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ ورکرز اور فوڈ مینو فیکچررز کو فوڈ سیفٹی سے متعلق تربیت دینے کا کام بھی کرتی ہے۔۔ موجودہ فوڈ انڈسٹری کو خوراک کے مجوزّہ معیارات کے عین مطابق ڈھالنے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ٹریننگ اسکول قائم ہیں جو تاحال پنجاب کے 26اضلاع میں فوڈ ورکرز اور فوڈ مینو فیکچررز کو فوڈ سیفٹی سے متعلق تربیت دے رہے ہیں تا کہ ناقص غذا سے پیدا ہونے والے امراض میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ انٹر نیشنل اسٹینڈرڈز کو اپناتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی فوڈ سیفٹی ٹریننگ میں خوراک کے کاروبار سے وابستہ افراد کو HACCPنظام پر مبنی رہنمائی اور تربیت بھی دے رہی ہے۔HACCPبین الاقوامی سطح پر منظور شدہ ایک ایسا مربوط نظام ہے جو غذا کی حفاظت کیلئے نہایت موزوں قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ فوڈ ورکرز کے طبی معائنے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی میڈیکل ٹیسٹنگ لیبارٹری میں خوراک کے کاروبار سے وابستہ افرادکے سکریننگ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں تاکہ اس بات کا اطمینا ن کیا جا سکے کہ خوراک کے شعبے میں تمام افراد طبی لحاظ سے تندرست ہیں۔

علاوہ ازیں مارکیٹ میں دستیاب اشیاء خورونوش کے معیار کا تجزیہ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور مشینری پر مشتمل فوڈ لیبارٹری میں بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ کوڈیکس ایلی منٹیریس اسٹینڈرڈز کی پیروی کر تے ہوئے خوراک کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا جا تا ہے۔ مزید برآں ایسے قوانین مرتب کئے جا تے ہیں جن کی مدد سے اشیائے خورونوش کے کاروبار کو ریگولیٹ کر کے غذائیت سے بھر پور اشیاء کی فروخت یقینی بنائی جا سکے۔ناقص طعام سے پیدا ہونے والے امراض سے بچائو اور اس کے مناسب سدّباب کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا نیوٹریشن اوئر نیس سیکشن آگاہی سیمینارز، کیمپس اور مہمات کا انعقاد بھی کراتا ہے تاکہ آگاہی کے اس پیغام کو بہتر طور پر عوام تک پہنچایا جا سکے۔اس ضمن میں صحت مند کلچر کو فروٖغ دینے کیلئے “غذا کی بات پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ” کے نام سے فیس بک پروگرام بھی نشر کیا جاتا ہے جس کی بدولت لوگوں کو کیا کھائیں ، کیا نہ کھائیں سے متعلق غذائی شعور فراہم کیا جاتا ہے۔

مفادعامہ کو مدّنظر رکھتے ہوئے نہ صرف اداروں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ فوڈ سیفٹی کے اصولوں کو ہر گز پس پشت نہ ڈالیں ۔ چاہے ریسٹورنٹس ہوں یا گھر میں خوراک کی تیاری ،حفظان ِ صحت کے اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بنالیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کو استعمال کرنے سے قبل اور بعد میں لازمی ہاتھ دھوئیں۔ خوراک تیار کرنے والی جگہوں کی صفائی ستھرائی کا مناسب خیال رکھیں ، پکی اور کچی اشیاء کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھیں۔ پکانے کے بعد مناسب درجہ حرارت پر خوراک کی اسٹوریج بھی نہایت اہم ہے تاکہ خوراک میں جراثیموں کے نمو پانے کے خدشے کو ختم کیا جا سکے۔

فوڈ سیفٹی کی عدم موجودگی کے باعث سر اٹھاتے خوراک سے جڑے مسائل صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم سب انفرادی طور پر غذا کی حفاظت میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور صحت دشمن عناصر کے خاتمے کیلئے ایک دوسرے سے بھر پور تعاون کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.