پنجاب فوڈ اتھارٹی کے شہید اہلکار کی عظیم قربانی کا تذکرہ

1,976

خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔۔

میرے ابو آئے ہیں؟؟ نظر نہیں آرہے ؟؟ بیٹی۔۔ رکو۔۔ رکو۔۔۔!!نہیں۔۔ مجھے میرے ابو سے ملنا ہے۔۔ میرے کپڑے لائے ہیں ،،میری چوڑیاں آئی ہیں۔۔ابو۔۔ابو۔۔ یہ وہ صدائیں ہیں جوعمران شہید کی6سالہ بچی کی اب تک میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔اس کے پیچھے دوڑتا آیا 4سالہ معصوم بچہ جو مسکراتی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھتا ہی جا رہا تھا جسے یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ شخص کون ہے اور کیوں آیا ہے؟؟
وہ بس اپنی بہن کو مجھ سے باتیں کرتا دیکھتا رہا اور خاموشی سے مسکراتا رہا ،اسے کیا پتہ کہ اس کا باپ چند لمحے قبل دارِ فانی سے کوچ کر گیا ہے۔وہ باپ جس نے آپکے اور ہمارے بچوں کو زہر بانٹنے والوں کا پیچھا کرتے کرتے اپنی جان قربان کر دی ہے۔

جڑانوالہ کے قریب گائوں میں جہاں ضعیف العمر باپ دونوں ہاتھ اٹھائے صدائیں بلند کرتا رہا کہ کہاں چلا گیا ہے تُو ۔۔ کہاں چلا گیا ہے تُو ۔۔اتنا بوڑھا باپ جسے میری بارہا صبر صبر کی آوازیں سنائی تک نہ دیتی تھیں۔ وہ باپ جس کی آنکھوں کی بینائی کمزور اور سننے کی حس آخری سانسوں پر ہے۔ گائوں کے لوگ صبر کی تلقین کرتے تو بوڑھا باپ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے آنکھوں سے آنسو بہاتا تھا۔ غم سے نڈھال باپ کبھی اپنے بیٹے کی میت کی طرف دیکھتا تو کبھی آسمان کی طرف۔۔ اسے اپنے بیٹے کی شہادت پہ ناز اوربیک وقت اسکی جدائی کا غم بھی تھا ۔۔سارے کا سارا گاؤں قطا راندرقطار دلاسہ دینے آتا رہا۔۔ غمزدہ باپ کا چہرہ اس وقت فخر سے بلند ہوا جب پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) محمد عثمان اپنے افسران کے ہمراہ آئے اور عمران شہید کے باپ کو گلے سے لگایا اور بوڑھے باپ کو بیٹے کی فرض شناسی اور عظیم مقصد کی خاطر قربان ہونے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ جب بوڑھا باپ اور سارا گاؤں جواں سالہ عمران کی شہادت پر فخر کر رہا تھا ۔

عمران شہید کا چھوٹا بھائی جو ہوبہوانہی کی طرح دِکھ رہا تھا۔ کبھی ایک گلے سے لپٹ کر اور کبھی دوسرے گلے سے لپٹ کربھائی کی جدائی کے غم کو آنسوئوں میں بہا رہا تھا۔اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ تھے کہ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ شخص تھا تو میرا بھائی مگر بوڑھے باپ کے تمام فرائض ادا کرنیوالا،جس نے عید سے قبل آنے کا وعدہ کیا تھا مگر آج اپنے سہارے پر آنے کی بجائے سائرن بجاتی گاڑی میں سفید کپڑے میں لپٹا ہوا آیا ہے۔ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنیوالا تما م خوشیاں ماند کر گیا ہے۔جدائی کے نقوش ہماری زندگی کی راہوں میں چھوڑ گیا ہے۔ دھاڑیں مار مار کر روتی عمران شہید کی بیوہ جسکی پہلی اور آخری امید ،چند روز قبل عید کی خریداری کا وعدہ کر کے جانیوالا،اسکی آنکھوں کے دیکھے ہوئے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے والا،اسکے حقوق کا محافظ اس دھرتی پر جان نچھاور کر کے چلا گیا ۔ جی ہاں ایس ایس جی ریٹائرڈ کمانڈو عمران شہید کی بات کر رہا ہوں جو جمعرات کی صبح صحت دشمن عناصر پر کاری ضرب لگانے جا رہا تھا کہ اچانک موٹروے پر پیش آئے حادثے میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر گیا ۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ملازم عمرا ن اور اس دھرتی کا بہادر سپوت جوملاوٹ مافیا کیخلاف سینکڑوں کارروائیوں میں پیش پیش رہا تاکہ ملاوٹ زدہ خوراک میرے اور آپکے گھروں تک پہنچنے سے دور رہیں. کئی بچوں کی زندگیاں،کئی گھر اس خاموش زہر قاتل سے لقمہ اجل بننے سے محفوظ ہیں،آج یہ سب سوال میرے سامنے ایک پہاڑ نما دیوار بنائے کھڑے ہیں جنہوں نے مجھے اس تحریر پر مجبور کر دیا ہے۔

ملاوٹ مافیا کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے یونانی دیومالائی کہانیوں کا وہ ہیبت ناک کردارذہن میں آتاہے جس کے ان گنت چہرے ہیں اورہر طرف سے ڈستا ہے۔ ملاوٹ بھی ایک ایسا ہی عفریت ہے جو کئی شکلوں میں ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت سے دن رات کھلواڑ کر رہا ہے۔ نونہالوں کیلئے بکنے والے دودھ سے لے کر روزمرہ اشیائے خورونوش کی تمام اقسام میں ملاوٹ عام ہوچکی ہے۔وہ دودھ جسے مکمل غذا سمجھا جاتا ہے اس میں کیا کچھ ملایا جاتا ہے میرے وہم و گما ن میں بھی نہ تھا۔ایسے جان لیوا کیمیکلز کا استعمال کر کے ہماری آنیوالی نسلوں کو ذہنی اور جسمانی معذور بنادیا گیا ہے کہ سوچا جائے تو اللہ کی پناہ ۔صحت مند مشروبات کی بجائے مصنوعی مٹھاس اور زہریلے مادے جو ہمارے پیسوں سے ہماری دہلیزوں پر ہماری ہی صحت سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ چندسال قبل تک تو ہم آنکھیں موندھ کر سب اچھا کا راگ الاپتے آئے ہیں مگر حقیقت عیاں ہونے کے بعد رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ کچھ سال قبل صحت بخش اور ملاوٹ سے پاک خوراک کے بارے میں اس قدرآگاہی نہ تھی جتنی آج ہے۔ ہر طرف جعل سازی اور ملاوٹ کر نیوالوں کی چاندی تھی ۔ جعل ساز مافیا محض منافع کمانے کی خاطر شب و روزلوگوں کی صحت سے کھیل رہاتھا۔ایک طرف مسلمان ہونے کا دعویٰ تو دوسری جانب اپنے ہی ایمان اوردین سے روگردانی کرنے والے،جن کے بارے میں رحمت العالمین کا کھلم کھلا اعلان ہے کہ ’’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں‘‘ تو پھر وہ کون ہیں جو انسانی صحت کو دن رات بیماریوں کے سمندر میں دھکیل رہے ہیں؟؟ ہمارے معاشرے کی خوراک ہو یا روایات ،عبادتیں ہوں یا معاملات سب کی سب ملاوٹ سے بھری پڑی ہیں۔ بلاشبہ ملاوٹ کے عفریت میں مبتلا انسان نما درندوں کی درندگی کو روکنے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اہم کردار ہے۔ بلاتفریق ہر شخص ان کی کارروائیوں کا معترف ہے جو ملاوٹ کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے دن رات کی جا رہی ہیں۔ ایسے چہرے بھی بے نقاب ہوئے جو زہر کو شہد کہہ کر لوگوں کو بیچ رہے تھے۔ہمارے گردونواح میں ملاوٹ کے کھڑے پہاڑوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ادارے کے سپوت کی شہادت قابلِ فخر ہے۔

ایک جانب وطنِ عزیز کی سرحدوں کے محافظ جب فرض شناسی میں اپنی جانیں جانِ آفریں کے سپردکرتے ہیں تو وہ ادارے اپنے سپوتوں کے اہلخانہ کی نہ صرف مالی مدد کرتے ہیں بلکہ شہداء کے بچوں کی کفالت بھی انکے ذمہ ہوتی ہے۔اسی طرح پنجاب فوڈ اتھارٹی کا یہ ملازم میرے اور آپکے اہلخانہ تک پہنچنے والی خوراک کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہوگیا ہے ۔اب حکومتِ پنجاب اور فوڈ اتھارٹی کوعمران شہید کے اہلخانہ کی مالی امداد کا انتظام کرنا چاہیے۔ غمزدہ خاندان کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ شہید کی بیوہ اور بچوں کیلئے ماہانہ وظیفے کا اعلان بھی ہمارے شہداء کے وارثوں کا حق بنتا ہے۔حکومت وقت کے ان اقدامات سے جہاں نیک نامی ہوگی وہاں شہداء کےاہلخانہ معاشی پریشانیوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔

بلاشبہ یہ سب کاوشیں اس خاندان کے غم کا مداوا تو نہیں کر سکیں گی مگر عمران شہید کی کامیابیوں اور عظیم مقصد کے حصول کی خاطر جان قربان کرنے کے عوض یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنیوالوں کے ساتھ ساتھ ہماری خوراک کے ان محافظوں کو بھی اپنی امان میں رکھے۔آمین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.