ملاو ٹ زدہ دودھ…. نعمت یا زحمت ؟

965

دودھ انسان کی پہلی خوراک بنتا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کا دودھ اسے وہ غذائیت دیتا ہے جو اس کی نشو ونُما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ بچہ جب تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو بھینس، گائے اور بکری وغیرہ کا دودھ اسے بڑھاپے تک توانائی دیتا ہے۔ یہ سفید سیال غذائیت کا خزانہ ہے۔ ایک گلاس دودھ انسان کو پروٹین، چکنائی، کاربوہائڈریٹ، کیلشیم، میگنیشم اور قیمتی وٹا من فراہم کرتا ہے۔پاکستان اس وقت دنیا میں دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک ہے۔ دودھ کی پیداوار سے ملکی جی ڈی پی میں 11فیصد حصہ شامل کیا جارہا ہے، جبکہ پاکستان کی دودھ میں پیداواری صلاحیت تقریباً 54 بلین لیٹرسالانہ ہے۔ پاکستان میں صرف دودھ ہی نہیں بلکہ اس سے تیار شدہ اشیاء کا استعمال بھی بہت حد تک کیا جاتا ہے جیسے کہ کریم، کھویا، دہی، لسی، پنیر، گھی، ربڑی، مکھن اور دیگر اشیا۔

لیکن ذرا ٹھریے! لازمی نہیں کہ جو دودھ آپ اور میں استعمال کررہے ہیں وہ خالص بھی ہو۔ افسوس کہ انسان کے لالچ نے اس آفاقی نعمت کو بھی تنازعات اور اسکینڈلوں کا نشانہ بنا دیا۔اگر بات دودھ میں صرف پانی کی ملاوٹ کی حد تک ہوتی تو بھی قابلِِ قبول تھی، لیکن دورِ جدید میں دودھ کی مقدار کو بڑھانے کے لیے ملاوٹ مافیا نے ایسے ایسے طریقے اختیار کررکھے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ جعلی دودھ کے لیبارٹری ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ گوالے اور جعلساز دودھ میں گھٹیا قسم کے پکانے کے تیل، سنگھاڑوں کا سفوف، آلودہ پانی،فارملین(ایک کیمیکل جس کا ایک قطرہ چار لیٹر دودھ کو 48 گھنٹے تک محفوظ رکھتا ہے،ڈاکٹر اس کیمیکل کو لاشیں سڑنے سے بچانے کیلئے استعمال کرتے ہیں)، میلامائین (ایک کیمیکل جو اشیاء کو چمکدار بنانے میں کام آتا ہے)، پنسلین، بال صفاء پاوڈر، شیمپو، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ، ڈیٹرجنٹ، کاغذ، گلوکوز، شکر، خشک دودھ، مالٹوڈیکسٹرین پاوڈر، زنیٹامائیسین، آراوٹ اور بورک ایسڈ وغیرہ شامل کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ بہت سے گوالے جانوروں کو آکسیٹوسین(Oxytocin) ہارمون کا ٹیکہ لگاتے ہیں جو دودھ کی پیداوار میں ’’50 فیصد‘‘ تک اضافہ کر سکتا ہے۔ ایسے دودھ کے استعمال سے بہت سی بیماریاں ہوسکتی ہیں، مثلاً سر درد، متلی، قے، ڈائریا،آنکھوں کی بینائی متاثر ہونا، معدہ، گردے اور دل کے مسائل، کینسر، حتیٰ کہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ جو دودھ آپ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں وہ آپ کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔

اس مہلک عمل کی روک تھام کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں آنے والی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال میں متعدد کاروایاں کی گئیں اور لاکھوں لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ تلف کیا گیا ساتھ ہی مالکان کو بھاری جرمانے بھی کیے گئے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے حالیہ احکامات کی تائید کرتے ہوئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے خالص دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں اور چند سالوں تک پنجاب بھر میں کھلے دودھ کی فروخت کو مکمل طور پر بند کیا جائے گا اور عوام تک محفوظ اور پاسچرایٔزڈ دودھ پہنچایا جائے گا جو ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک ہوگا۔ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کیپٹن(ر) محمدعثمان یونس، جو کہ رات کے پچھلے پہر بھی ملاوٹ مافیا کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کی خود نگرانی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اس اقدام کے لیے کوشاں ہیں اور اپنے تمام تر وسائل اس مہم کی کامیابی کے لیے وقف کر رہے ہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے لائحہ عمل کے تحت آنے والے چند سالوں میں کھلا دودھ بیچنے پر پابندی عائد ہوجائے گی، یعنی یہی کھلا دودھ پاسچرائزیشن کے عمل سے گزرنے کے بعد پلاسٹک کی تھیلیوں یا شیشے کی بوتلوں میں محفوظ کرکے صارفین تک پہنچایا جائے گا ۔ پیکیجنگ پر پتہ درج ہونے سے نہ صرف ملاوٹ مافیا کا راستہ روکا جا سکے گا بلکہ عوام تک دودھ جیسی نعمت کوپھر سے خالص حالت میں پہنچایا جائے گا ۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی ترکی کی طرز پر دودھ کو محفوظ بنانے کا نظام لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ترکی نے جب دودھ کو پاسچرائزیشن کے عمل سے گزارنے کے بعد محفوظ طریقے سے لوگوں کو پہنچاناشروع کیا تو جہاں ایک طرف ترکی کی معیشت مضبوط ہوئی وہیں ڈیری انڈسٹری کی برآمدات میں 90 فیصد اضافہ ہوا اور اس انڈسٹری سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی آمدنی میں بھی 300 فیصد اضافہ ہوا۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے بھرپور عوامی آگاہی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت لوگوں میں بلخصوص پاسچرائزیشن کے عمل اور اس کے فوائد کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی جائےگی تاکہ پابندی سے قبل عوام اور ڈیری انڈسٹری سے وابستہ لوگ اس تبدیلی کو تسلیم کرنے اور اسے اپنے حق میں بہتر بنانے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ حکومت اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے یہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے پنجاب کی عوام تک خالص دودھ پہنچایا جا سکے گااور کئی بیماریوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.