فرشتہ نے فرشتوں کو رلا دیا

1,170

مملکت خداد پاکستان رب لم یزل کا انعام عظیم ہے۔ جس کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔ اس انمول نعمت کی قدر وقیمت کا احساس اس وقت بڑی شدت سے ہوتا ہے جب امت مسلمہ کا قیمتی خون زمین پر پانی کی طرح بہتا نظر آتا ہے۔ جس کی اہمیت کا احساس اس وقت اور بڑھ جاتا ہے جب ملت اسلامیہ کی عفت مآب خواتین کی آبرو ریزی قریہ قریہ بستی بستی کی جاتی ہے۔

کشمیر،فلسطین، شام ، عراق ،البانیہ،برمہ ،افغانستان اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں اس تماشے کے نظارے عام ہیں۔ایسے وقت میں رب عظیم کا احسان عظیم پاکستان جب نظروں کے سامنے آتا ہے تو بے ساختہ سجدہ شکر کرنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن اسی مملکت خدادا میں کہیں کہیں ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو ذہن کو منتشر اور دل کو مضطرب کر دیتے ہیں، روح کو زخمی کرجاتے ہیں۔ سوچ و فکر میں تلاطم پیدا کرکے سارے وجود کو زندہ لاش بنا دیتے ہیں، اُس وقت جب کوئی کمزور باپ کانپتے ہاتھوں،نیچی نگاہوں کے ساتھ اور جب کوئی مسکین صورت ماں اپنی لخت جگر ،اپنی بھولی بھالی معصوم صورت کلی کو کسی درندے کی درندگی کی بھینٹ چڑھنے سے بچا نہیں پاتی، اُس وقت جب کوئی کم نسل کسی معصوم کلی کی عصمت سے اپنی ہوس کی پیاس بجھاتا ہے اور وہ معصوم پری دہائیاں دیتے ہوئے اس بھیڑئے کے سامنے بے بس ہو کر زندگی کا دیا بھجا کر خود تو زندگی کی دوڑ سے آزاد ہوجاتی ہے لیکن اپنے پیچھے زندگی سے زیادہ پیار کرنے والے ماں باپ کو جیتے جی زندہ دفن کر جاتی ہے۔ وہ صبح شام موت کی تمنا کرتے ہیں ، انہیں سانسوں کی مالا انگاروں کا ہار لگتی ہے۔ جنہیں ظلم، جبر، بربریت کا ایسا نشتر لگتا ہے کہ کائنات کا کوئی مرہم ان کے زخموں کا علاج نہیں کر سکتا۔ اردو ادب اپنی تمام تر فصاحت و بلاغت کے باوجود ایسے الفاظ لانے سے قاصر ہے جس سے اس باپ اور اس مظلوم خاندان کے دکھ کو الفاظ کے قالب میں لایا جاسکے۔

ایسی سفاکیت جس سے عرش اعظم بھی کانپ اٹھا ہوگا۔ فرشتوں میں تہیر پیدا ہوا ہوگا کہ کیا یہ انسان ذلت کے اس درجے پر بھی آسکتا ہے؟یقینا پوری قوم کی آنکھیں شرم سے جھکی ہوئی ہیں۔ قصور کی بے قصور کلی زینب کے بعد مردان کی گجر گڑھی کی اسما ء،کراچی کی خدیجہ اور اب اسلام آباد کی فرشتہ نے ساری قوم کو قصور وار ٹھرا دیا مگر ہم ٹھس سے مس نہ ہوئے بے حسی کی،لاقانیت کی مثال بن گئے۔ زمین تو نہ پھٹ سکی لیکن اسلام آباد کی فرشتہ نے اللہ کے فرشتوں کو بھی رلا دیا ہوگا. قصور کی زینب،گجر گڑھی کی اسماءاور اسلام آباد کی فرشتہ کی ان سنی صدا ؤں اورعرش کو ہلاتی چیخوں نے دل و دماغ پر ایسے ا نمٹ نقوش چھوڑ ے ہیں کہ کئی دنوں سے نیند آنکھوں سے دور ہے۔ سوچ سوچ کر دماغ پھٹا جارہا ہے کہ کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے؟

ایسے اندوہناک واقعات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوم کے لیڈران جو کہ خود بھی معصوم کلیوں کے والدین ہیں ان واقعات سے عبرت حاصل کرتے اور مجرموں کو گرفتار کر کے ایسی عبرت ناک سزائیں دیتے کہ آئندہ کوئی ایسی ناپاک سوچ والا اس بربریت کے بارے میں سوچتا بھی تو اس کی روح کانپ جاتی۔ لیکن افسوس کہ پہلے سابقہ حکومت کے افراد نے زینب کے والدین کو پریس کانفرنسوں میں بٹھا بٹھا کر اپنی کامیابی کی تشہیر کی اور اب فرشتہ کے معاملے پر بھی وہی روایتی تحقیقاتی کمیشن۔ آخر کیوں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفع 22کا استعمال کرکے ان درندوں کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا؟

افسوس شیطان اور اس کی آلہ کار چند این جی اوز نے ان ارباب اقتدار کو الٹی راہ دکھلا دی۔انہوں نے دکھوں کا مداوا دکھ میں ہی بتا دیا۔زخموں کا علاج مزید زخمی کرنا تجویز کیا۔ بے حیائی کو بے حیائی سے مات دینے کی بات کی ۔ارباب اختیار بے قصور معصوم کلیوں کو گرفتار کرنے اور انہیں عبرتنا ک سزا دینے کے بجائے نصاب میں تبدیلی کی جانب راغب ہوگئےاور اسے ہی درندگی کا علاج سمجھ کرغور کے سمندر میں ڈوب گئے۔ یاد رہے آگاہی کے نام پر نصاب میں تبدیلی بے حیائی کو مزید فروغ دینے کے مترادف ہے۔اگر ایسا ہوا تو ہماری حالت مزید ابتر ہوجائے گی۔

ارباب اقتدار کو سمجھنا ہوگا کہ جنسی آگاہی کے نام پر نصاب میں تبدیلی ان مسئلوں کا حل نہیں۔انصاف کو عام کرنا ہوگا۔ سخت فیصلے کرنا ہونگے۔ ان معصوموں کے مجرموں کو سرعام سزائیں دینی ہوں گی۔ اسلامی نظام ہی ان معصوم کلیوں کی عصمتوں کا محافظ ہے ہمیں سمجھنا ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.