پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی ،کام کرنا تو کوئی ان سے سیکھے!

998

لاہور داتا دربار خودکش دھماکے کے بعد خودکش بمباراورسہولت کار کی تلاش کے لیے پاکستانیوں کی نظریں سب سے پہلے جس ادارے کی طرف گئیں وہ سیف سٹیز اتھارٹی تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ لاہور چیرنگ کراس دھماکے کے بعد سے لیکر سہولت کاروں کی گرفتاری کا عمل لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مدد سے مکمل کیا گیا تھا اور ٹھیک اس باربھی داتا دربار دھماکے کے بعد سے لیکر سہولت کاروں کی گرفتاری کا عمل بھی سیف سٹی کے کیمروں کی مرہومنت ہی مکمل ہوا۔ لاہور سیف سٹی ساڑھے 13ارب روپے کا پراجیکٹ ہے جو کہ حجم میں اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ سے 5گناہ بڑا پراجیکٹ ہے ۔ اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں اور وہ ہیں(۱)تھانہ کلچرکو تبدیل کرنا (۲) کیمروں کی مدد سے شہر کی مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ۔ اس پراجیکٹ کے تحت ٹریفک مینجمنٹ سسٹم پاکستان میں پہلی دفعہ متعارف کروایا گیا ۔اس مقصد کے لیے مواصلاتی رابطے کا جدید ترین نظام4 جی ٹیکنالوجی کااستعمال کیا جارہا ہے۔ پولیس کی گشت کرنے والی گاڑیوں پر بھی کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کی مدد سے ان کی موجودگی کی اطلاع اوران کے متعلق آگاہی رہتی ہے اور یوں پولیس کے احتساب کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے ۔اس کے علاوہ دوران آپریشن پولیس کے پاس موجود فور جی ہینڈ سیٹ کے ذریعے آپریشن کمانڈر کو موقع کی صورتحال بھی پتہ چلتی رہتی ہے۔

سیف سٹی پراجیکٹ حفاظتی اقدامات کے لیےنہایت موثر ہے ،لاہورشہر میں ٹریفک آگاہی کے لیے سڑکوں پر وی ایم ایس ایل ای ڈیزلگائی گئی ہیں جن کے مدد سے ٹریفک بارے عوام کو معلومات ملتی رہتی ہے ۔ان سکرینوں پر سڑک پر گاڑی چلانے کے قواعد وضوابط ،تصاویر کے ساتھ اردو اور انگریزی زبانوں میں پیغام چلتے نظر آتے ہیں جو بآسانی پڑھے جاسکتے ہیں یوں یہ نظام حادثات کی بڑھتی شرح میں کمی لانے میں معاون ثابت ہورہا ہے۔

سیف سٹیز پراجیکٹ پنجاب میں انسداد دہشت گردی، ٹریفک مینجمنٹ سروسز اور جرائم میں کمی لانے میں مدد گار ثابت ہورہا ہے۔دنیا میں جہاں بھی سیف سٹیز پراجیکٹ لگائے گئے ہیں وہاں پہلے سال میں 25سے 30فیصد جرائم میں کمی دیکھنے میں آئی اوریہ کمی بڑھتے ہوئے 60سے65فیصد تک جا پہنچی ۔ سیف سٹیز پراجیکٹ نہ صرف لاہور شہر میں لگایا گیا ہے بلکہ پنجاب کے 9اضلاع میں اسی طرز کے پراجیکٹ لگائے جارہے ہیں جن میں فیصل آباد،راولپنڈی ،بہارلپور،ملتان،گوجرانوالہ ،سرگودھا،ننکانہ،شیخوپورہ اور قصور شامل ہیں۔لاہور میں پنجاب پولیس انٹی گریٹڈ کمانڈ کنٹرول اینڈ کمیونیکشن( پی پی آئی سی تھری) سنٹر قائم کیا گیا ہے اس سنٹر میں ایشیاء کی سب سے بڑی ویڈیو وال بنائی گئی ہے جہاں سے پورا شہر مانیٹر کیا جا رہا ہے ۔لاہور میں پی پی آئی سی تھری سنٹرکے لیے 8000ہزار سے زائد کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن میں چاروں اطراف گھومنے والے ،گاڑیوں کی نمبر پلیٹ پڑھنے والے ،رات کے اندھیرے میں اچھی اور صاف تصویر دینے والے اورفیس ریکگنائزیشن کیمروں کے علاوہ پی آر یو جو کہ پولیس تھانوں کی گاڑیوں میں کیمرے نصب کیے گئے ہیں، مختلف امور کی انجام دہی میں مدد گار ثابت ہورہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بہت جلد پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی جدید پولیس یونیفائیڈ کمیونیکیشن اینڈ رسپانس (PUCAR-15) سسٹم پنجاب بھر میں شروع کرنے جارہی ہے ۔ پُکار15 پاکستان اور جنوبی ایشیا میں اپنی طرز کا واحد اور منفرد ایمرجنسی سسٹم ہوگا جس کے ذریعے پنجاب بھرسے آنے والی 15 ایمرجنسی کالز کو مرکزی نظام کے ذریعے سنا اور ان پر رسپانس کیا جائے گا۔ اس ضمن میں سیف سٹیز اتھارٹی نے پنجاب کے تمام 36 اضلاع کیلئے مخصوص سینٹرلائیزڈ کال سینٹر اور رسپانس میکنزم تیارکر لیا ہے۔ اس نظام کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب بھر کے پولیس افسران اورتمام 1200تھانے “Safe Police Network” کے تحت رابطے میں ہوں۔

ایک اندازے کے مطابق 3ماہ میں پورے پنجاب کا 15ایمرجنسی ڈیٹا تجزیے کیلئے تیا رہوگا اورہر ضلع کے جرائم اور پولیس رسپانس بارے تفصیلات میسر ہوں گی ۔اس طرح آئی جی پنجاب، تمام آرپی او/ ڈی پی او روزانہ کی بنیا د پر ہرایمرجنسی کال پررسپانس اور کارروائی کا جائزہ لے سکیں گے۔ پُکار15 کی بدولت عوام اپنی شکایات سوشل میڈیا کے ذریعے بھی درج کروا سکیں گے اور جلد ہی 15ایمرجنسی کال کو ابتدائی FIRکا درجہ مل سکے گا۔ پنجاب سیف سٹیزاتھارٹی کاایک اور بہت بڑا اقدام دیکھنے کو ملا اور وہ یہ کہ سیف سٹیز اتھارٹی نے شاہراہوں پر موٹر سا ئیکلوں اورآہستہ چلنے والی گاڑیوں کے لیے علیحدہ لین متعارف کروا دی ہے۔ ابتدائی طور پرمال روڈ اور کنال روڈ پر گرین لین بنائی گی ہےجس کے ذریعے لاہور کی شاہراہوں پر تیزرفتاراورآہستہ چلنے والی ٹرانسپورٹ جن میں موٹرسائیکل،بس،رکشہ،سائیکل ودیگر آہستہ رفتار سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں کے لیے الگ ، الگ لین بنا نے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھا جاسکے۔ اس ضمن میں ابتدائی طور پر گرین لین کا پائلٹ پراجیکٹ مال روڈ، کینال روڈ سے شروع کیا گیا ہے جس میں چھوٹی گاڑیوں کو مال روڈ پر بائیں لین میں چلنے کا پابند بنانے کی کوشش کی جائیگی ۔

مصنف ایک نجی ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.