بھارتی مسلمانوں کی سیاسی ناکامی

1,151

بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری قوت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ تو کہتی ہے لیکن آج تک کشمیر اور کشمیریوں کو ان کے جمہوری حقوق دینے سے انکاری ہے۔ مودی جی کی بی جے پی نے انتخابات2019 میں کامیابی حاصل کی اور اس کامیابی کی مبارکباد کشمیریوں کو حریت رہنما موسیٰ ذاکر کی شہادت کی صورت میں دی۔ بی جے پی 1980میں قائم ہوئی۔ یہ سیاسی جماعت نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے سے نقاب ہٹا دیتی ہے۔ بھارت جہاں کسی وقت میں کانگریس سب سے بڑی جماعت تصور کی جاتی تھی اب وہاں کی سب سے بڑی جماعت بی جے پی ہے۔ بی جے پی معتصب ہندوؤں کا ایک گروہ ہے جس کا نظریہ INDIA FOR HINDUSہے۔

بابری مسجد کی شہادت ہو یا ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام اور مسلمانوں پر ظلم و ستم بی جے پی کا نام ہمیشہ سر فہرست رہا ہے۔

مودی جی کی انتخابات میں کامیابی پر جہاں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے انہیں مبارک باد دی ہے اور اپنی شکست تسلیم کی وہیں پاکستان کے کپتان جی عمران خان نے بھی انہیں مبارکباد دی۔اس مبارک باد کا مقصد شاید یہ تھا کہ بھارت کو مثبت پیغام دیا جائے کہ پاکستان بھارت سے اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ یہ ایک اچھا اقدام تھا لیکن بھارتی میڈیا کے مطابق مودی جی کی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو دعوت نہیں دی جائے گی، اب خدا جانے بھارت کیا چاہتا ہے؟خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔بھارت میں مسلمانوں کے لئے جہاں بی جے پی کی کامیابی اچھا شگن نہیں ہے وہیں پریشان کن بات یہ ہے کے بھارتی ایوانوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔542نشستوں میں سے صرف 22پر مسلمان براجمان ہوں گے۔

مسلمان بھارت کی دوسری بڑی قوم ہے۔بھارت کی کل آبادی کا تقریبا 18فیصد مسلمان ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارتی مسلمان اتحاد کے بجائے دیگر مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔بھارت کی سیاسی جماعتوں نے شعوری طور پر مسلمانوں کو مذہبی سوالوں میں الجھائے رکھا ہے۔ کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کریکٹر، کبھی شاہ بانو کیس، کبھی تین طلاق تو کبھی اردو کو سیکنڈ زبان کا درجہ دینے کی باتیں۔ چالیس برس سے سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو انھیں سوالوں میں الجھائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک مذہبی فریم میں قید کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ ماضی میں کانگریس، سماجوادی، بہوجن سماج پارٹی اور دوسری جماعتیں بی جے پی کا خوف دلا کر مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں جبکہ اقتدار میں آنے والی مسلم مخالف جماعت بی جے پی نے بھی مسلمانوں کو برائے نام نمائندگی دے رکھی ہے۔

دوسری جانب کل ہند مجلس اتحاد المسلمین یا جمعت علمائے ہند جیسی مسلم جماعتیں بھارتی سیاست میں ناکام اور محدود ہی نظر آتی ہیں۔مسلمانوں کی بھارتی ایوانوں میں نمائندگی میں دن بدن کمی کی وجہ بھارتی مسلمانوں کی تقسیم ہے۔کہیں کانگریس مسلمانوں کو بی جے پی سے ڈراتی ہےاور انہیں یہ یقین دلاتی ہے کہ کانگریس ہی مسلمانوں کی نمائندگی کرے گی اور انہیں برابری کے حقوق دلائے گی تو دوسری جانب بی جے پی اپنے کئے پر مسلمانوں سے معافی مانگ کر انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ بی جے پی ایک طاقتور جماعت ہے اگر مسلمان اس کا ساتھ دیں تو ان کے مسائل حل ہوجائیں گے۔ مجلس اتحاد المسلمین کانگریسی اور بی جے پی کے مسلمان رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتیں اور جمیعت بھی ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ آج بھی بھارت میں وہی ہورہا ہے جو تقسیم ہند کے وقت ہوا۔ تب انگریزوں نے Divide and Ruleکا فارمولا اپنا کر ہندوستان پر حکومت کی اور آج ہندو اس فارمولے کی مدد سے مسلمانوں پر حکومت کر رہے ہیں اور انہیں مسلسل دبا رہے ہیں۔ کبھی مسلمان گائے کا گوشت کھانے پر قتل کردیا جاتا ہے تو کبھی جے ہند کا نعرہ نہ لگانے پر۔ کبھی بابری مسجد شہید کرکے معافی کا لا لی پاپ دے کر مسلمانوں سے ووٹ لیا جاتا ہے تو کبھی دوسری سیاسی جماعت کا خوف دلا کر۔

تقسیم ہند کے وقت مولانا آزاد کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اس وقت بھی کانگریس نے انہیں استعمال کیا اور محمد علی جناح کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ پاکستان کے مخالف کسی حد تک اس کوشش میں کامیاب ہوئے اور پاکستان ایک بڑا اور مستحکم پاکستان نہ بن سکا۔ محمد علی جناح ؒکی بہترین سیاسی بصیرت ہی تھی کے آج پاکستان کے مسلمان بھارت کےمسلمانوں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔

بھارتی مسلمان رہنماؤں کو تقسیم ہند میں اپنے بڑوں کی ناکامیوں کو یاد کرنا ہوگا اور بھارتی ہندوؤں کی سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔ مسلمان رہنما ؤں کو مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹنے کے بجائے اپنے میں سے ایک قائد کا انتخاب کرنا ہوگا اور تمام جماعتوں سے وابستہ مسلمانوں کو اس کی سرپرستی میں ایک ہونا ہوگا۔ جو ہونا تھا ہوگیا لیکن بی جے پی کی 5سالہ حکومت میں مسلمانوں کو مسلم سیاسی اتحاد بنا کر آئندہ انتخابات کی بھرپور تیاری کرنا ہوگی اگر ایسا نہ کیا گیا تو بھارت کے مسلمان مزید پستی کا شکار ہوں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.