جنگ آزادی مئی ۱۸۵۷ء اور میوقوم

2,420

جس قوم نے مادر وطن کوغیروں کی غلامی سے بچانے کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اورجب غداروں کی ضمیر فروشی کے نتیجے میں ملک کو غیروں نے اپنا غلام بنا لیا تو جس قوم نے زنجیر غلامی کوتوڑنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور سب سے زیادہ جانی اورمالی نقصان برداشت کیا،جس کی جدی پشتی ملکیتی زمینیں اور جاگیریں انگریزوں نے اس لئے ضبط کر لیں کہ اس قوم نے جنگ آزادی میں انگریزوں کو بہت نقصان پہنچایاتھا، اس کا ذکرتاریخ میں کہیں نہیں ۔ اس قوم کے ہیروز کا ذکر کرتے ہوئے تاریخ لکھنے والوںکواس کی قوم کا نام لکھنے کی توفیق نہ ہوئی۔ میرا اشارہ میو اورمیواتیوںکی طرف ہے۔

۱۸۵۷ء کے غازیوں میں سب سے بڑا نام بھونری کے جنرل بخت کا ہے۔جو میوات میں بھونری کی پہاڑیوںمیں دفن ہے۔انگریز آخر دم تک جس کا پتہ نہ لگا سکے۔اگر ہمار ے بزرگ ہمیں اس بات سے آگا ہ نہ کرتے کہ جنرل بخت میو تھا ۔وہ اور ایک شہزادہ (جسے کسی شہزادی نے یہ کہہ کر اس کی جھولی میں ڈال دیا تھا کہ جنرل میرا بیٹا آپ کے پاس امانت ہے)بھونری کی پہاڑیوںمیں دفن ہیں،اگر ظہیر دہلوی دلّی کاآنکھوں دیکھا حال میں جنرل بخت کا حلیہ ٹھیٹ میو کابیان نہ کرتا اور عشرت رحمانی اپنی ۵۷ء کی تاریخ میںجنرل بخت کی زبان سے نکلا ہوا ٹھیٹ میواتی زبان کایہ فقرہ نقل نہ کرتا کہ’’ہم جا کی مونڈ ی پہ پنہاں دھر دیاں اُو باشاہ بن جاوے ‘‘یعنی ہم جس کے سر پر اپنی جوتی رکھ دیتے ہیں وہ بادشاہ بن جاتا ہے‘‘تو ہمیں شاید کبھی معلوم نہ ہوتاکہ جنگ آزادی ۵۷ء کا عظیم ہیرو جنرل بخت میوتھا۔ یار لوگ تو اسے بے دھڑک روہیلہ پٹھان لکھتے ہیں ۔اس فقرے سے متعلق واقعہ مختصر یہ ہے کہ جب الٰہی بخش اورحکیم احسن اللہ جیسے غداروں کی سازشوںسے انگریز دہلی پر قابض ہو گئے تو جنرل بخت،بادشاہ بہاد ر شاہ ظفرکے پاس گیا اور اسے دہلی چھوڑ کرکسی اورمحفوظ جگہ سے لڑائی جاری رکھنے کامشورہ دیا۔بادشاہ نے آمادگی ظاہر کی اوراگلے دن ہمایوںکے مقبرے میںملنے کو کہا۔انگریزوں نے الٰہی بخش کے سپرد یہ کام کیا تھا کہ بادشاہ کو انقلابیوں کے ساتھ جانے سے روکے۔ جنرل بخت کے جاتے ہی وہ بادشاہ کے پاس آیااوربڑھاپے،برسات،بیگمات ،شہزادے، شہزادیوںاور سفر کی صعوبتوں کا ایسا نقشہ کھینچا کہ بادشاہ تذبذب کاشکار ہو گیا۔اس پر اس نے یہ وعدہ کیا وہ انگریزوں سے بادشاہ کی صلح کرا دے گا۔اس پرایک خواجہ سرا نے کہا ’’حضور۔۔صاحب عالم ا لٰہی بخش تو انگریزوں سے ملے ہوئے ہیں ،آپ بخت خاں بہادر کی گذارش پر توجہ فرمائیے۔مرنا اور تکلیف اٹھانا تو زندگی کے ساتھ ہے ‘‘بادشاہ نے اس کے کہے پر توجہ نہ دی۔ الٰہی بخش ہر بات کی اطلاع انگریزوںکو دے رہا تھا۔حکم آیا کہ جیسے بھی ہو ۲۴ گھنٹے تک بادشاہ کو روکو ۔ جنرل بخت اگلے دن بادشاہ کے پاس آیا تو الٰہی بخش بھی موجود تھا۔جب اس نے دیکھاکہ بادشاہ ہتھے سے اکھڑنے والا ہے تو اس نے جنرل بخت پرچوٹ کی کہ لارڈ گورنر صاحب لگتا ہے آپ جہاںپناہ کی آڑمیں خود حکومت کرنا چاہتے ہیں‘‘اس پر جنرل بخت نے غصے میں تلوار کھینچی اورکہا ’’ہم جا کی منڈی پہ پناہ دھر دیواں او باشاہ بن جاوے ہے‘‘.

اس پر بادشاہ نے کہا کہ بہادرہمیں تیری ہر بات کا یقین ہے مگر جسم کی قوت نے جواب دے دیا ہے۔ ہم اپنامعاملہ تقدیرکے حوالے کرتے ہیں۔مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دو‘‘جنرل بخت چلا گیا،الٰہی بخش کی مخبری پر ہڈسن فوجی دستے کے ساتھ گرفتار کرنے کے لئے ہتھکڑیاں لے کرآیاتو بادشاہ کی آنکھیں کھلیں کہ اس ساتھ دھوکا ہو گیا۔اس نے کہا،بخت کو بلاؤ مگر تب بخت دور جا چکا تھا۔

۱۸۵۷ء میں دلی کے جنوب میں سرائے لاٹ سے لے کر الور تک اور متھرا سے لے کر نار نول تک میوات تھا۔یہی وہ علاقہ تھا جو انگریزوں کے لئے قبرستان بن گیا۔ میوات کا ایک ایک گاؤںانگریزکی تربیت یافتہ ،منظم ،جدید ترین اسلحہ سے لیس فوج کے لئے سخت میدان جنگ ثابت ہوا۔ بریگیڈیر جنرل شاور کے الفاظ میں’’مجھ پر ہر اس گاؤںمیں حملہ ہوا جہاں سے میں گذرا۔ مجھے دشمنوںکے خلاف لگاتار ہوشیار رہنا پڑا‘‘میواتی کسانوں نے ہل کے دستہ کی جگہ تلوار کا دستہ پکڑ لیا اور باز کی طرح فرنگی افواج پر ٹوٹ پڑے پہلے سوہنا اور تاؤڑو کے درمیان ایڈن سے لوہا لیا۔بعدازاں نوح میں انگریزوں کا صفایا کیا۔ رائے سینا میں کلیوفورڈ کاسر قلم ہونے سے انگریز فوج حیرت زدہ ہو گئی۔ گھاسیڑہ ،روپڑا کا،مَہُو،فیروز پور،دوہا،پنگواں ہوڈل میں انگریز فوج کو وہ سبق سکھایا کہ انگریز فوج بھی ان کی بہادری کی داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ لارڈ کیننگ کے الفاظ میں ’’میوقوم نے مسلمان بادشاہوںکو بھی تنگ کیا تھا،ہمیں تو کچھ زیادہ ہی پریشان کیا ہے‘‘ اس کے علاوہ اندور ، گوالیار ،علی گڑھ،الٰہ آباد ،ناگپور،جھانسی، بجنور، بلند شہراور پیلی بھینت کے میواتیوں نے بھی انگریزوں کوناکوں چنے چبوائے۔اگرچہ پٹیالہ ،جیند، نابھا،الور، گوالیار ،کوٹہ،میواڑ، مارواڑاورجنوب کی بیشتر ریاستوں کے حکمرانوں نے انگریزوں کاساتھ دیایا الگ تھلگ رہے ،اس کے باوجود ان علاقوں میں باغی عوام کودبانے کے لئے انگریزوں کوایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔سکھ ، مراٹھے ،راجپوت،مغل،ترک ،پٹھان، گور کھا ،جاٹ اور میو برادری نے بڑ ی جانبازی دکھائی مگر فرنگیوں کی سیاست، منصوبہ بندی اور جدید ہتھیار ہندوستانیوں پرجتنے بھاری پڑے، اس سے زیادہ غداروں اور قوم فروشوں نے انقلابیوں کی ناکامی اور انگریزوںکی کامیابی میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ۔دلی کے جنوب میں واقع اور ہریانہ کے ساتھ مشرقی راجستھان کے الور اور بھرت پور اضلاع میںپھیلے ہوئے میوات کے عوام نے انگریزوں سے ملک کو بچانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی ۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے معروف میواتی شہیدوںمیں پننگواں کا سالار صدرالدین جو سقوط دہلی کے بعد بھی کوئی تین ماہ تک انگریزوں کا مقابلہ کرتا رہا،یہاں تک اس کے بیٹے اورپھر خود بھی شہید ہوگیا۔ دلی کا میجر حور خاں، اندورکا سعادت خاں میواتی،الٰہ آباد کا مولوی لیاقت علی،پیلی بھینت کا علی خاں میواتی،رائے سینا کا علی حسن خاں میواتی ،الور کالعل بہادر خاں میواتی اوربسئی کھوڑ کا کالے خاں توپچی (جس کی توپ کے بے خطا گولوں نے انگریز کو چھٹی کا دودھ یا دلا دیا، جب تک وہ کشمیری دروازے پر ڈ ٹارہا،اس کی توپ گولے اگلتی رہی اور انگریزوں کو دلی میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔جب غداروں نے اپنے انگریزآقا کے کہنے پر بارود میں رائی ،ریت اورپانی ملا دیا اوربارود کی جگہ پالش شدہ باجرہ بھجوایاجانے لگا اور پھر آخر ۷، اگست ۵۷ء کوبارودخانہ جو شمرو بیگم کی حویلی واقع محلہ چوڑی دالان میں تھا اڑا دیا گیا تو کالے خاں سمجھ گیا کہ اب سقوط دہلی یقینی ہے وہ بے خطا گولہ انداز مایوس ہو کراسی رات واپس میوات اپنے گاؤں بڑ میںلوٹ آیا۔ ان غدار وں میں بادشاہ کے سمدھی الٰہی بخش،وزیر حکیم احسن اللہ جیسے لوگ شامل تھے جن کو موقع پر پکڑے جانے کے با وجودبادشاہ ہر باربچالیتے تھے۔ اس بات نے کالے خاںجیسے بہادروں کومایوس کر دیا۔ہندوستان پر قبضہ کے بعد فرنگی حکمرانوںنے انگریز فوج کے افسر دلّی کے اسسٹنٹ کلکٹرکلیفورڈ کی کمان میں کالے خاں کی تلاش میں فوج کا ایک دستہ بھیجا ۔میوات کے قصبہ رائے سیناکے مقام پرآمنا سامنا ہوا ۔بے خبری میں کالے خاںکلیو فورڈ کی گولیوں کا نشانہ بنا مگرزمین پرگرے ہوئے بہادر میو نے اس پر گولی چلائی جواس کا دل چیرتی ہوئی نکل گئی اوروہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اس لڑائی میںکالے خاں دھو کے سے مارا گیا مگر انگریزی فوج کاایک سپاہی بھی بچ کر نہ جاسکا۔

میو قوم کو اس وطن پرستی کی بھاری قیمت چکانا پڑی۔ہندوستان میں انگریزوں کی مکمل عملداری کے بعدانگریزوں نے میوات کو نشانے پر رکھ لیا ۔ بریگیڈئر جنرل ساورس نے سونا اور تاؤڑو کے علاقوںمیں کوئی تین ماہ تک قتل و غارت کا بازار گر م کیا۔اس نے بابر کی طرح میوات میں آگ لگا کر سینکڑوںگاؤں کو خاکستر کیا۔بابر سے پہلے بلبن کے ہاتھوں میوات کی تباہی تاریخ کا سنگین حادثہ ہے۔۵۷ء کی جنگ آزادی میںراسینہ ، سوہنہ ، تاؤڑو اور نوح میوات میں خصوصی مراکز تھے۔جہاں انگریزوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ہندوستان پر قبضے کے بعدانگریزسرکارنے دوسرے قصبات کے ساتھ ان کی زمینیں بھی بحق سرکارضبط کر لیں۔ مکمل عملداری کے بعد راسینہ اور اس کے متعلقہ دیہات نو نہرہ ، محمد پور ، سانپ کی ننگلی،ہریا ہڑہ،بائی کی،ہرمتھلہ وغیرہ جو میووں کی بسویداری میں تھے ، بحق سرکار انگلشیہ ضبط کر لئے گئے۔میوآج تک ان دیہات میں بطور مزارع کاشت کرتے ہیں۔ان کے علاوہ اور بہت سے دیہات کی زمینیں بحق سرکار ضبط کر لی گئیں۔راسینہ کی بیشتر آبادی پاکستان چلی گئی مگر وہاں بھی ان کو زمینیں نہیں ملیں۔ہندوستان کی آزادی کے بعدیہ سلوک ان لوگوں سے اپنوں کے ہاتھوںہواجنہوںنے وطن کی آزادی کے لئے میدان جنگ میںلاکھوں جانیں قربان کیں ،ان گنت لوگوںکو پھانسی دے دی گئی۔بعد میں انگریز سرکار نے کسی مصلحت کے تحت سارا ریکارڈ جلا دیا۔پھانسی دی جانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔
انتہائی شرم کامقام ہے کہ جن غدار، وطن فروشوںکو غداری کے صلے میں جاگیریں ملیں وہ آزادی کے بعد بھی ان کے مالک رہے اورآج بھی ان کی اولادیں ان جاگیروں کی مالک ہیں اور جن وطن پرستوں کی جدی پشتی جاگیروں کو غاصب انگیریز اپنے زر خریدوں کو دے گیا وہ آزادی کے بعد بھی ان کولوٹائی نہ گئیں۔چاہیئے تو یہ تھاکہ جن وطن پرستوںسے انگریزوں نے ان کی جائیدادیںچھینی تھیں ، آزادی کی بعد نہ صرف یہ کہ ان کی جائیدادیںان کو واپس کی جاتی بلکہ ان کی قربانی کے صلے میںان کو مزید انعام سے نوازا جاتا اورغداروں سے ان کے ناجائزآقاؤں کی بخشی گئی جائیدادیں چھین لی جاتیں ۔ مگر ایسا نہیںہوا ۔یہی نہیں میوات کو پنجاب اور راجستھان میں بانٹ دیا گیا۔ بعد ازاںپنجاب کی جگہ ہریانہ نے لے لی۔میوات کے علاقہ کو الور اور بھرت پور ریاستوں نیزگوڑ گانواں اورمتھرا ضلعوںمیںتقسیم کر دیا گیا۔دلّی کے دیہی علاقے کے سیکڑوںدیہات کو اجاڑ دیا گیا۔بعد ازاں وائسرائے ہاؤس کی تعمیر کے بہانے پانچ چھ گاؤں کونیست ونابود کر دیا گیا۔ان کی زرعی زمینوں پرآر کے پورم،ساؤتھ ایکس ٹینشن اور کناٹ پیلس کو بسا دیا گیا۔ارد گرد کے سینکڑوں گاؤں کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا۔میووںکو میوات سے باہر لے جا کر پھانسیاں دی گئیں اوربعد میں ریکارڈ جلا دیا گیا۔

میو مجاہدین کی بہادری کو انگریزوں نے تو تسلیم کیا ہے جنکے خلاف وہ لڑے مگر ہندوستانی مورخوں کو ان پرتحقیق اور تحریر کی توفیق نہ ہوئی۔مجاہدین کے پورے کے پورے گاؤںجلا دیے گئے ، زمینیں بحق سرکار ضبط کر لی گئیں جو آزادی کے بعد ان کو واپس نہیں کی گئیں۔ دونوں ملکوں میںمجاہدین آزادی کے ساتھ جو سلوک ہواکیا و ہ وطن فروشی اور غلامی کی ترغیب دینے کی طرح نہیں۔دوبا رہ تقسیم کیا جانے والا میوات آج تک تقسیم کے اس درد سے تڑپ رہا ہے۔

میو قو م کی جن قربانیوں کی تاریخ لکھنے کے لئے ہزاروں صفحات بھی کم پڑتے ہوں ا ن کوخورشید مصطفٰے زیدی اپنی کتاب جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں چند سطروںمیں یوں بیان کر کے اپنا فرض ادا کر دیتا ہے:’’شہزادے (فیروز شاہ) کے ساتھی ۶ ،اکتوبر کو آگرہ میں داخل ہوئے مگر چار دن بعد دہلی سے انگریزی فوجیںگر تیہڈ کی رہنمائی میںپہنچیں اور انقلابیوں کو منتشر ہونا پڑا۔فتح پور سیکری کا سردارلال خاں میواتی بھی کہا جاتا ہے کہ شہزادے سے آملا تھا۔فتح پور سیکری کے میواتی کافی عرصہ تک بغاوت کرتے رہے۔بالآخرفتح پور سیکری جلا دیا گیا اور ۴ فروری ۵۸ء کوآخری پارٹی نکالی جا سکی۔میواتی تباہ کر دیے گئے ‘‘

۹،ستمبر ۵۷ء سقوط دہلی سے ۴فروری ۵۸ء تک تقریبا ۵ مہینے بنتے ہیں۔ گویا میو دہلی پر قبضہ ہونے بعد بھی ۸،۹ مہینے تک انگریزوں کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ کیونکہ آگرہ کے بعد بھی میو اندرون میوات انگریزوں سے بر سر پیکا رہے۔یہ معمولی بات نہیں۔میوقوم کاجرم اپنی مٹی سے محبت اور غلامی سے نفرت ہے۔جس کی سزا وہ آج تک پا رہی ہے۔

بھارت سرکار نے میوات کو ادھر ادھر کے علاقوںمیںبانٹ کر اسے بے نشا ن کرنے کی کوشش کی ہے۔ایک چھوٹاسا علاقہ جسے ضلع میوات کا نام دے کر میو قوم کی اشک سوئی کی گئی تھی ،سنا ہے مودی سرکارکویہ نا م بھی چبھنے لگا ہے اور میوات کی بجائے اسے کوئی اور نام دینے کی سازش کی جا رہی ہے۔ الحذر اے چیرہ دستاں الحذر۔
٭٭٭

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.