ہندوستان میں ہندوتا کا عذاب جاری رہے گا؟

1,386

نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیا جنتا پارٹی نے بھاری اکثریت سے ہندوستان کی لوک سبھا کے انتخابات جیت لئے ہیں۔ ان انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کو پچھلے عام انتخابات سے بھی کہیں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک غیر کانگریس پارٹی کو اتنی بھاری اکثریت سے انتخابی فتح حاصل ہوئی ہے جو ہندوستان کے مستقبل کے لئے بے حد اہم قرار دی جارہی ہے۔

یہ انتخابی جیت در اصل اُس کٹر ہندو قوم پرستی، ہندوتا کی جیت ہے جسے نریندر مودی نے پچھلے پانچ سال کے دوران فروغ دیا ہے اور دوسرے معنوں میں یہ شکست ہے ہندوستان میں سیکولرازم اور اس کی علمبر دار کانگریس پارٹی اور کمیونسٹوں کے زیر قیادت بائیں بازو کی قوتوں کی۔ ستم ظریفی ہے کہ کانگریس پارٹی نے بھی نریندر مودی کے ہندوتا کا ڈٹ کر سیکولرازم کے جھنڈے تلے مقابلہ کرنے کے بجائے ہندو مت کا سہارا لیا اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی اپنے آپ کو جنیو دھاری ہندو (وہ ہندو جو جنیو کا دھاگہ پہنتا ہے)ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور مندروں میں پوجا پاٹھ کرنے کی مصلحتی تدبیر اختیار کی۔

نتیجہ یہ رہا کہ بھارتیا جنتا پارٹی کے زیر قیادت NDA اتحاد کو جس میں شیو سینا، جنتا دل یوناٹیڈ، شرومنی اکالی دل اور آل انڈیا ڈی ایم کے شامل ہیں ان انتخابات میں 45فی صد ووٹ ملے۔

نریندر مودی کی جیت کے جہاں اور کئی اسباب ہیں وہاں بنیادی طور پر گذشتہ فروری میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پلواما میں ہندوستانی فوج کے قافلے پر خود کش حملہ تھا جس کے بعد ہندوستان نے پاکستان پر جو فضائی حملہ کیا گو وہ یکسر ناکام رہا لیکن نریندر مودی نے نہایت عیاری سے یہ نعرہ لگا کر کہ ”گھر میں گھس کر ماریں گے“عوام کے جذبات بھڑکائے اور یہ تاثر دیا کہ پاکستان کے خلاف کوئی خم ٹھوک کر کھڑا ہونے والااور ملک کی سلامتی کا ڈٹ کردفاع کرنے والا لیڈر ہے تو وہ نریندر مودی ہے۔ پھر انہوں نے ہندوستان کے عوام پر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ نریندر مودی ہی ہیں جنہوں نے عالم اقوام میں پاکستان کو دھشت گردوں کا مدد گار اور ان کا گڑھ ثابت کیا ہے۔ یوں نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف جذبات بھڑکا کر ملک کے ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی اور اسی بنیا د پر مغربی بنگال میں بھارتیا جنتا پارٹی کی سخت مخالف ممتا بینرجی کی ترینمول کانگریس کو زبردست زک پہنچائی۔

ممتا بینرجی کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ یہ دعوی کرتی تھیں کہ وہ نریندر مودی کو سیاست سے نکال باہر کر دیں گی۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت ممتا بینرجی کی حامی ہے، اس تعلق کو توڑنے کے لئے بھارتیا جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ نے بڑے پیمانہ پر فرقہ وارانہ فساد اور کشیدگی بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔ مغربی بنگال میں جہاں تیس سال تک کمیونسٹ مارکسسٹ کی حکومت رہی اور پچھلی دو دہایوں سے ممتا بینرجی کی حکمرانی رہی ہے وہاں اب بھارتیا جنتا پارٹی کی کامیابی بنگال کی سیاست کی اہم سنگ میل ہے جس کا بلاشبہ ہندوستان کے ان علاقوں پر بھی اثر پڑے گا جہاں ابھی بھارتیا جنتا پارٹی کے سیاسی قدم نہیں جمے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران، نریندر مودی کی تمام تر کوشش یہ رہی کہ ان کے پانچ سالہ دور کی حکومت کی کارکردگی پر بحث نہ ہواور نہ ملک کو درپیش سنگین اقتصادی مشکلات کی بحث میں عوام کو الجھایا جائے۔ کانگریس نے صرف رافیل طیاروں کی خریداری کے اسکینڈل کو اچھالا اور نوٹ بندی کی ناکام پالیسی،بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسئلے اور کسانوں کے سنگین مسائل کو اجاگر کرنے میں ناکام رہی۔ کانگریس کا سارا زور یہ ثابت کرنے پر رہا کہ راہول گاندھی اپنے دادا فیروز گاندھی کی طرح پارسی نہیں بلکہ جنیو دھاری ہندو ہیں۔

راہول گاندھی نے ہندوستان کے نئے حقائق کو بھی اچھی طرح نہیں سمجھا اور اس کے مطابق حکمت عملی وضع نہیں کی۔ بنیادی حقیقت یہ ہے کہ نہرو کے دور سے اب تک ہندوستان میں علاقائی جماعتوں کا بے پناہ اثر بڑھا ہے او ر یہ علاقائی قوتیں ہمیشہ کانگریس کو جو مرکز میں بر سر اقتدار رہی ہے اپنا رقیب سمجھتی رہی ہیں، راہول گاندھی نے اس نئی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے علاقائی جماعتوں سے مفاہمت اور ان سے اتحاد پر زور نہیں دیا اور نہ بھارتیا جنتا پارٹی کے خلاف ایک مضبوط ،متحدہ محاذ قائم کرنے کی کوشش کی، انہوں نے اکیلے ہی انتخابی جنگ لڑنے کو ترجیح دی ، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا مقابلہ بھارتیا جنتا پارٹی سے ہے جس کے پیچھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہزاروں رضاکاروں کے دستے ہیں۔

راہول گاندھی نے لوک سبھا کے انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے اور مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے مسلم امیدواروں کو کھڑا کرنے سے عمدا اجتناب برتا کیونکہ نریندر مودی ہمیشہ کانگریس کو مسلمانوں کا حامی قرار دیتے رہے ہیں او ر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ کانگریس پر مسلمانوں کا قبضہ ہے، یہی وجہ ہے ہندو ووٹروں کی ناراضگی کے پیش نظر راہول نے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے یا مسلم امیدوارکھڑے کرنے میں تردد کیا ہے۔

2017 میں اتر پردیش کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں نریندر مودی کی بنیادی حکمت عملی ہندو اکثریت کا ووٹ حاصل کرنے اور مسلمانوں کو یکسر نظر انداز کرنے کی رہی ہے جس کی بنیاد پر بھارتیا جنتا پارٹی نے ایک طرف ہندو ووٹوں کی حمایت حاصل کی اور ریاست میں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت قائم کی، دوسری جانب اس حکمت عملی کے بل پر مسلمان سیاسی میدان سے بڑی حد تک خارج ہوگئے۔ پچھلے انتخابا ت کے بعد ریاستی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہو کر صرف ۴۱ اراکین اسمبلی تک رہ گئی جب کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی تعداد تین کروڑ تیراسی لاکھ ہے یعنی ۹۱ فی صد۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پی ڈی پی کی محبوبہ مفتی کو بھارتیا جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار حاصل کرنے کی سخت سزا ملی ہے۔ کشمیر کے عوام کی بھاری تعداد نے لوک سبھا کے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔اس کے باوجود فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے لوک سبھا کی تین نشستیں حاصل کی ہیں اس کے ساتھ بھارتیا جنتا پارٹی نے بھی تین نشستیں حاصل کی ہیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ کشمیر میں کانگریس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کا صفایا ہوگیا ہے۔ ادھم پور سے مہاراجہ ہر ی سنگھ کے پوتے جو کانگریس کے امیدوار تھے بری طرح سے ہار گئے ہیں۔

عام انتخابات میں نریندر مودی کی غیر معمولی جیت کے پیچھے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور امبانی ایسے بڑے تجارتی گھرانوں کی حمایت کار فرما رہی ہے اور اسی کے ساتھ میڈیا کا اہم رول رہا ہے خاص طور پر اس میڈیا کا جسے عام طور پر گودی میڈیا کہا جاتا ہے یعنی بھارتیا جنتا پارٹی کی گود میں بیٹھا میڈیا جو نریندر مودی کو انتخابات میں جتانے کے لئے پیش پیش تھا۔

بلا شبہ پچھلے پانچ برس کے دوران نریند ر مودی نے کٹر ہندوقوم پرست ہندوتا کے ذریعہ ہندوستان کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں گائے کے نام نہاد محافظوں نے آزادانہ طور پر مسلمانوں کی جانیں لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مسلمانوں کو زبردستی ہندو مت اختیار کرنے کے لئے ”گھر واپسی“ کی مہم شروع کی ہے۔ مسلمانوں کو غیر ملکی حملہ آور قرار دے کر ان سے کہا گیا ہے کہ وہ یا تو ہندو مت اختیار کر لیں یا یہ سرزمین چھوڑ دیں جس پر ان کے آباو اجداد پشتہا پشت سے آباد تھے۔غرض نریندر مودی کے پچھلے پانچ سال کے دور میں مسلمان ایک دائمی عذاب میں مبتلا رہے ہیں۔ اگلے پانچ برس میں اس عذاب سے نجات کی راہ نظر نہیں آتی۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Shirazi کہتے ہیں

    فرد ہو یا قوم،مستقبل کی تعمیر یا تکسیر کا بذات خود بزریعہ افکار و اعمال کلیتا ذمے دار ہوتی ہے۔ بیرونی عوامل کا عمل دخل تقریباً صفر ہوتا ہے۔ یہی تاریخ اور اسکا درس ہے۔ مذہبی شدت پسندی کسی بھی مزہب کے پیروکاروں کے لئے ایک شاندار مستقبل کی راہ میں بلا شبہ ایک ناقابل عبور رکاوٹ ہے ۔ ہمسایہ ملک کے موجودہ رحجانات ہمارے لئے کسی نیک شگون سے کم نہیں بشرط ہم ہم خود مذہبی شدت پسندی سے دور رہ کر اپنے مستقبل کی تعمیر میں یکسو ہو کر کام کریں ۔

  2. محمد عدنان کہتے ہیں

    پانچ سال میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں دبا۶و میں رہیں گی۔

تبصرے بند ہیں.