جنسی استحصال کی سزا صرف سزائے موت

900

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں جب ہم سحر و افطار کے دسترخوان سجاتے اور نیکیاں سمیٹنےکی کوشش میں جتے رہے تب دیکھتے ہی دیکھتے معصوم “فرشتہ” درندگی کی بھینٹ چڑھ کر اس تعفن زدہ معاشرے سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ گئی۔ پے در پے ملنے والے ایسے غموں کا ازالہ اور افسوس کا اظہار ہم کیسے کریں؟۔

بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے مگر کیا حاصل ہوا؟ نا ہی بچوں کے ساتھ رونما ہونے والے جنسی حادثات کی روک تھام ہوئی اور نا ہی انصاف کی فراہمی سہل بنائی گئی۔ میری کبھی ہمت نہیں پڑی اتنی حساس اور دل خراش حقیقت کو لکھنے کی مگر اب مزید دیکھا اور سہا نہیں جاتا۔ سوشل میڈیا پہ شئیر شدہ مخدوش وجود کی تصاویر سامنے آتے ہی دانستہ نظریں چرا لیتی ہوں کہ دیکھنے کا حوصلہ نہیں رہا، اب اور نہیں رو سکتے کہ غمگین دل بہت شکستہ ہو چکا ہے۔

ہم کب تک بے حسی کی چادر تان کر خاموشی سے چند آنسو بہا کر بے کسوں کی عزتوں کا تماشہ بنتے اور لواحقین کو پامال شدہ وجود پہ ماتم کنا دیکھیں گے؟ نام بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں مگر ظلم کی کہانی نہیں بدلتی۔ زینب، فرشتہ، مناہل، عاصمہ، معین، ایمان، عبداللہ جیسے ان گنت بچے شیطانی درندوں کی ہوس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایسی بربریت پہ نا آسمان ٹوٹ کے گرتا ہے اور نا زمین شق ہوتی ہے۔

“ساحل” نامی این جی او کی رپورٹ کے مطابق پورے پاکستان میں روزانہ دس سے زیادہ بچے جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ رپورٹ ہونے اور منظر عام پہ آنے والے کیسز آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ رپورٹس اور دل دہلا دینے والے فیکٹس اور فگرز دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں پچھلے سات سال میں خطرناک حد تک اضافہ اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ فحاشی اور بے راہ روی نے انتہائی سفاکی سے شرافت، انسانیت اور اخلاقی اقدار کا گلا گھونٹ دیا ہے۔

انسانی لبادے میں چھپے گدھ، خنزیر، بھیڑیے ہمارے آس پاس ہی اپنی گندی نظروں سے نا جانے کب کےگھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ آخر کب تک یہ درندے عزتوں کو پامال کرتے رہے گے؟ کب تک کم سن جانوں کی بوٹیوں کو نوچ کھسوٹ کے، چیرپھاڑ کر کے بے جان کٹے پھٹے ننھے وجودوں کو لاورثوں کی طرح کوڑے کرکٹ اور جنگلوں کی نظر کرتے رہیں گے؟۔

ایک بچے کے ساتھ ہونے والے حادثہ میں قیمتی جانی نقصان کے ساتھ پورے خاندان کو نفسیاتی اور جزباتی طور پہ بھی ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے مگر صد افسوس کہ اس معاشرے کے ایسے دوہرے معیار ہیں کہ ظالم تو سر اٹھا کے دھڑلے سے پھرتا ہے جب کہ مظلوم کو حقارت، ہزیمت، ہتک آمیز رویے اور حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے نام نہاد ادارے متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ان کی مشکلات میں اضافے کا ہی باعث بنتے ہیں۔ اللہ پاک سے التجا ہے کہ ایسی ذلت اور اذیت سے کبھی کسی ماں باپ اور بچے کو دوچار ہونا ہی نا پڑے۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب، آپ نے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ ریاست مدینہ میں کم سن بچوں کو ہوس اور بربریت کا نشانہ نہیں بنایا جاتا تھا۔ عظیم ہستی کی تشکیل شدہ مثالی ریاست مدینہ میں عورتوں و بچوں کو سب سے زیادہ حقوق، عزت و قدر اور تکریم سے نوازاگیا۔ مدینہ کی ریاست کی مثال دے کر آپ نے ہم میں امید کی جوت جگائی ہے تو ان امیدوں پہ کھرا اتر کے بھی دکھائیں پلیز۔

خدارا پاکستان کی نئی پود کوعزت، آبرو، جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت گیراقدامات کیجیے۔ سیاست اور قومیت کی جمع تفریق سے بالاتر ہو کر پاکستان کے معصوم بچوں کو تحفظ دیجیے کہ کم سن اور ننھی جانیں ہر گھر میں ہیں ، آئے روز انسانیت کی تذلیل دیکھ کر ان کے ناپختہ ذہن اور شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ بچوں کو جنسی استحصال سے بچانا ماں باپ کے ساتھ حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے۔ ہمیں تمام مٹی میں مل چکی عزتوں اور معصوم جانوں کا حساب اور ان کے لیے انصاف چاہیے۔ فی الفور انصاف لکھنا تو مجھے خود مضحکہ خیز لگ رہا ہے لیکن کم از کم انصاف کریں تو سہی .

بحیثیت پاکستانی قوم ہمارا ایک مطالبہ ہے کہ جنسی زیادتی کی سزا صرف اور صرف سزائے موت۔ عزتوں کے لٹیروں کو سرعام پھاسنی پہ لٹکا کرعبرت کا نشان بنائیں اور مزید عزتیں پامال ہونے سے بچائیں۔!
٭٭٭٭٭٭

تنزیلہ احمد نے مارکیٹنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مختلف ویب سائٹس کے لیے لکھتی ہیں اور سماجی و سیاسی معاملات انکے پسندیدہ موضوعات ہیں ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.