تیل نکل بھی آتا تو ہم کیا تیر مار لیتے

2,913

گزشتہ چند روز سے پورا سوشل اور پرنٹ میڈیا تیلم تیل ہوا پڑا ہے. حکومتی مخالفین تیل نہ نکلنے پہ حکومت کا تیل نکال رہے ہیں تو حمایتی یہ تھیوری دے کر دل بہلا رہے ہیں کہ تیل نکل آیا ہے لیکن عالمی سازشوں سے بچنے کے لیے اعلان نہیں کیا گیا۔ گویا جو بات عام پاکستانی جانتے ہیں اسکاعالمی ایجنسیوں کو علم نہیں باوجود اس کے کہ سوشل میڈیا پہ سب کو بتارہے ہیں کہ تیل نکل آیا ہے، اعلان اس لیے نہیں کیا کہ امریکہ سے چھپانا مقصود ہے۔ تیل کے لیے ڈرلنگ کرنے والی کمپنی امریکن تھی لیکن امریکہ کو علم نہیں؟ ثابت ہوا کہ بچگانہ پن صرف بچوں میں نہیں ہوتا۔ خیر، مجھے دونوں سے سروکار نہیں، سوال یہ ہے کہ اگر تیل نکل بھی آتا تو کیا اس سے ہمارے مسائل حل ہوجاتے؟ کیا تیل نکلنا ہی ہمارے مسائل کا حل ہے؟

اگر تیل نکل آنا مسائل کا حل ہوتا تو دنیا میں تیل کی پیداوار میں ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ایران اور وینزویلا اس وقت دیوالیہ نہ ہوتے، عراق تباہ نہ ہوچکا ہوتا اور روس آج سے تین دہائیاں قبل متعدد ٹکڑوں میں بکھر نہ چکا ہوتا، رہ گئے امریکہ اور کینیڈا، تو کینیڈا کی حالت بہتر ہے لیکن امریکن قرضوں کی تفصیل میں جائیں تو بھیانک خواب دیکھنے کی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔

دنیا میں105ممالک میں گنا کاشت ہوتا ہے پاکستان میں پائی جانے والی گنے کی اقسام، موسمی حالات، آب و ہوا اور بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل زمین کی وجہ سےہم دنیا بھر میں گنے کی کاشت میں پانچویں نمبر پر ہیں جبکہ چینی پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا 14 واں نمبر ہے لیکن کیا ہمیں سستی چینی میسر ہے؟ پاکستان کا شمار دنیا کے ان خوش قسمت ملکوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف اپنی ضرورت کی تمام گندم اُگاتاہے بلکہ ایکسپورٹ بھی کرتاہے پچھلے سال کے عالمی سروے میں پاکستان سالانہ 25ملین ٹن گندم کی پیداوار کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے لیکن بطور شہری کیا آپکو سستی روٹی میسر ہے؟

چاول جسے سفید سونا بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا میں چاول پیدا کرنے والے 47 ممالک میں چین، بھارت اور انڈو نیشیا کے بعد پاکستان چوتھے نمبر پر ہے، پاکستان کے کل زرعی رقبے میں سے دس فیصد پر چاول کاشت ہوتا ہے۔ گندم اور کپاس کے بعد چاول پاکستان کی تیسری اہم ترین فصل ہے کیونکہ ملکی جی ڈی پی میں اس کا حصہ 1.6فیصد سے زائد ہے. ہم صرف چاول کی درآمد سے دو ارب امریکی ڈالر کماتے ہیں، اسکے باوجود ذرا بازار جایئے اور چاول کا نرخ پوچھیے آپکے چودہ طبق یوں روشن ہونگے جیسے زیادہ بجلی آجانے سے بلب پھٹنے سے چند سیکنڈ پہلے ہائی وولٹیج روشنی دیتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعے ملک کو کثیر زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑایئے آپکو ایسے لوگ بہت ملیں گے جو بآسانی اپنا تن ڈھانپنے میں بھی کامیاب نہیں۔

تیل نہیں نکلا تو کیا ہوا ہمارا ملک برف پوش پہاڑوں سے لیکر سبز میدانوں، صحراؤں اور خوبصورت سمندری کناروں پہ مشتمل ہے اس کا کیا فائدہ اٹھایا ؟ ہماری تو وہ مثال ہے کہ ہم سونے کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں اورغربت کو رو رہے ہیں. جتنے وسائل اللہ نے ہمیں دئیے ہیں کم ہی کسی قوم کو ملے ہیں. تیل بھی ذراعت و دویگر معدنیاتی وسائل جیسا ہی ہے اگر آپکے باقی وسائل پہ سیاسی مافیا قابض ہے تو تیل کا نکل آنا بھی آپکا کچھ نہیں سنوار پائے گا۔

اگر گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی بنیادی ضرورتوں کی پیداوار میں دنیا میں ٹاپ ٹین میں ہونے کے باوجود عوام خوشحال نہیں، تیل دریافت ہو بھی جاتا تو انہی شریفوں، قریشیوں، ترینوں, چوہدریوں, سومروں, ملکوں, خانوں, زرداریوں, جیلانیوں، سرداروں اور وڈیروں پہ مشتمل دو سو گھرانوں کی چمکی ہوئی قسمت کو مزید چمکانے کے علاوہ کوئی کرشمہ نہ کرپاتا۔ کیونکہ مسئلہ وسائل نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے ،ہمارا سیاسی نظام صرف طاقتور کے لیے ہے اس میں وہی کامیاب ہے جس کے پاس دھن، دھونس اور دھاندلی جیسے مضبوط ہتھیار ہیں۔ جو جتنا بڑا کرپٹ ہے وہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھنے اور وزیر مشیر بننے کے لیے اتنا ہی بہتر کوالیفائی کرتا ہے۔

پچھلے چالیس سال کی حکومتیں اٹھا کے دیکھ لیں یہی دو سو خاندان ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں جس کے پلڑے میں یہ اپنا وزن ڈالیں وہی سکندر بنتا ہے، سابقہ ادوار میں پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں بناتے رہے اس دفعہ تحریک انصاف پہ مہربان ہوئے لیکن کچھ نہ بدلا۔ ہمارا سیاسی نظام صرف اسی اشرافیہ کےمفادات کا تحفظ ہے، جس کی تازہ مثال ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے کالا دھن سفید کرنے کا چور راستہ کھولاجانا ہے۔

سابقہ حکومت کے سروے کے مطابق 60 ملین (6 کروڑ) پاکستانی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تیل ضرور ڈھونڈئیے صاحب، لیکن جو کچھ میسر ہے اسکی تقسیم تو منصفانہ کرلیجئے، اشرافیہ کا ناجائز قبضہ ہٹایئے عوامی وسائل عوام تک جانے دیجیئے. ہاتھ میں پکڑے نوالے کو کھانے کے بجائے آسمان پہ اڑتے کبوتر کھانے کے لیے رال ٹپکائیں گے تو سامنے پڑا نوالہ بھی کوا لے جائے گا۔ اس ناانصافی کے نظام میں سمندر سے تیل نکل بھی آئے تو اشرافیہ ہی نہال ہوگی۔ جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا مڈل کلاس کو کاروبار اور اسمبلیوں میں آنے کا راستہ نہیں ملے گا ،عوام کا تیل یونہی نکالاجاتا رہے گا اور حکومتیں کشکول گدائی لے کر آئی ایم ایف کے پیچھے پھرتی رہیں گی اور عوام مہنگائی میں پستے رہیں گے.

محمد منیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ ہیں۔ پاکستانی انتخابی نطام کی خامیوں کے ناقد ہیں لیکن جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

10 تبصرے

  1. محمدجاویدقریشی کہتے ہیں

    بہت عمدہ پہرائے میں آپ نے بحیثیت قوم ،قومی نفسیات کو اجاگر کیا اور ساتھ ساتھ وہ حقائق سامنے لائے جس سے عام شہری جانتے بوجھتے نظریں چرائے ہوئے ہے۔
    بیشک اس قوم کا المیہ یہ کرپٹ ترین نظام ہے۔ پاکستان جیسی سرزمین جہاں قدرت نے اپنے خزانوں کے انبار عطا کر رکھے ہیں۔ مگر وہ نفس پرست اور مفاد پرست اشرافیہ جو سسٹم پر تسلط جمائے بیٹھی ہے ان خزانوں کو انسانوں کے کام آنے کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

    1. باقر حسین کہتے ہیں

      یہ آرٹیکل ملک جہانگیر اقبال کا ہے جو انہوں نے چار دن پہلے لکھا تھا اور ان صاحب نے چوری کر کے اپنے نام کے ساتھ لکھ دیا۔ فیس بک سے تو انہوں نے اس آرٹیکل والی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے لیکن ابھی تک اساسیہاں سرقے کی یہاں معافی نہیں مانگی۔

  2. Shanzy Nazir کہتے ہیں

    Agree

  3. شاہد حمید گل کہتے ہیں

    بہت اچھا لکھا ہے۔ اللہ پاک سب لکھنے اور سچوں کے ساتھ رہنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی اور توفیق دے۔

  4. Asif کہتے ہیں

    چوری شدہ آرٹیکل
    ملک جہانگیر اقبال کا ہے فیسبک سے کاپی کیا گیا

    https://www.facebook.com/Jahan2585

  5. Usman کہتے ہیں

    Sharam kero Ramzan me b chori se baaz Nahi aatey Kisi or Ka Likha hua apna name se chori Ker ke chaapwana kon c ikhalqiyat ha … Chor likhari

  6. محمد عابد کہتے ہیں

    ملک جہانگیر اقبال کی تحریر کو اپنے نام سے لکھتے ہوئے شرم تو نہیں آتی ہوگی

  7. Hadi کہتے ہیں

    ملک جہانگیر کی وال سے چوری کی گئ تحریر

تبصرے بند ہیں.