خواتین صحافی اور جنسی ہراس

961

خواتین ویسے تو ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ مصروف عمل ہیں لیکن اگر شعبہ صحافت کی بات کی جائے تو اس شعبے میں بھی خواتین مردوں سے پیچھے نہیں ہیں ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خواتین رپورٹر ، سب ایڈیٹر ، فیچر رائٹر ، کالم نگار ، میزبان ، پروڈیوسر ، کاپی رائٹر ، اسائنمنٹ ایڈیٹر اور نیوز کاسٹر ایسے بہت سے کاموں میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ میڈیا انڈسٹری میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ دوسرے شعبوں کی طرح صحافت کے شعبہ میں بھی خواتین کے ساتھ ہراسگی کے واقعات کم نہیں ہیں، دھرنوں اور جلسوں کی سیاست کے بعد خواتین کے ساتھ ہراسگی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ایسے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں نامور اینکر پرسن خواتین کو دوران ڈیوٹی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قدیم اور تاریخی شہر ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں اگر خواتین صحافیوں کے ساتھ ہراسگی کے واقعات پر نظر دوڑائی جائے تو ایسے واقعات کم نہیں ہیں تاہم دیکھا گیا ہے کہ خواتین اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کے ڈر سے ایسے واقعات ریکارڈ پر لانے میں قاصر رہی ہیں جبکہ اگر خواتین صحافی اپنا واقعہ رپورٹ کروانا بھی چاہیں تو اداروں کی طرف سے معذرت کر لی جاتی ہے۔ سال 2018 میں ملتان میں ایک خاتون صحافی (ع) نے ہراسگی کے خلاف جنوبی پنجاب کے واحد خواتین کے تحفظ کے لئے بنائے گئے ادارے انسداد تشدد مرکز برائے خواتین میں رپورٹ کروانا چاہی تو انتظامیہ کی جانب سے یہ کہہ کر رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ آپ صحافی ہیں ہم یہ رپورٹ درج نہیں کر سکتے جس کے کچھ ہی عرصہ بعد چند ذاتی وجوہات کے باعث خاتون نوکری سے استعفیٰ دے کر چلی گئیں۔

ضلع ملتان میں اس وقت پریس کلب میں 37 خواتین صحافی بطور ممبر رجسٹرڈ ہیں ان میں سے 9 خواتین رپورٹرکے فرائض سرانجام دے رہی ہیں ۔ کچھ خواتین ایسی ہیں جن کو دوران فیلڈ ، آفس ورک اور گھر سے آفس آتے ہوئے مختلف انداز میں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ خاتون صحافی شائرین رانا کا کہنا تھا کہ خواتین صحافیوں کے ساتھ ہراسگی کے مختلف طریقے دیکھنے میں آئے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ نے کسی ادارے میں بطور رپورٹر اپنی ملازمت کا آغاز کیا ہے اس دوران ایک سینئر ساتھی آپ کے کاموں میں مدد کرتاہے اور آپ اسے ان کی خوش اخلاقی سمجھتی ہیں لیکن پھر محسوس کرتی ہیں کہ اس ساتھی کا رویہ آپ کو پریشان کررہا ہے کبھی کوئی ذومعنی بات کہہ دیتا ہے اور کبھی آپ کو چھو لیتا ہے ۔ آپ اس خیال کو ذہن سے نکال کر کام میں مگن ہوجاتی ہیں اور پھر ایک دن کچھ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو لگتا ہے اس نے حد پار کرلی ہے۔

آفس یا دوران ڈیوٹی خواتین کے اوپر جھکنا ، ناپسندیدہ جنسی حرکات ، کسی سے جنسی فائدہ اٹھانے کی کوشش یا جنسی نوعیت کا لفظی یا جسمانی برتاؤ جو کام میں مداخلت کرے یا نوکری برقرار رکھنے کی شرط بن جائے یا آفس میں جارحانہ ماحول پیدا کردے یہ ساری باتیں جنسی ہراس کے زمرے میں آتی ہیں.

عام طور پر جنسی ہراس کسی ایک بات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ نامناسب رویوں کے سلسلے پر مشتمل ہوتا ہے اور دفاتر میں ہراساں ہونے والے شخص کی طرف سے منع کرنے کے باوجود بھی یہ رویہ جاری رہتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بار ہونے والا واقعہ بھی جنسی ہراس ہی ہے اور اس بات سے قطعاً فرق نہیں پڑتا کہ کسی دوسرےکو یہ فعل غلط لگ رہا ہے یا نہیں۔ جنسی نوعیت کی باتیں یا مذاق، جنسی پیش قدمی کرنا یا کسی کو چھونا، بری نظر سے دیکھنا، گھورنا، ذاتی نوعیت کے جنسی سوالات کرنا، جنسی افواہیں پھیلانا اور جنسی نوعیت کی تصویریں بھیجنا جنسی ہراس کے زمرے میں آتے ہیں۔

ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کیلئے قائم صوبائی خاتون محتسب پنجاب اور پنجاب کمیشن برائے حیثت نسواں ہراسمنٹ ایکٹ کو بھی حقیقی معنوں میں فعال نہیں کرا سکے اور جنوبی پنجاب سمیت صوبہ کی ملازمت پیشہ خواتین کا تحفظ کر نے میں ناکام ہو گئے۔ اداروں میں ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم نہیں کی جا سکیں اور نہ ہی خواتین کی رسائی متعلقہ محتسب تک یقینی بنا ئی جا سکی۔ جس سے ہراسمنٹ کے واقعات میں اضافہ ہوا اور قانون کی غیر فعالی سے ملازمت پیشہ خواتین بدستور ذہنی ،جسمانی اور جنسی ہراسمنٹ کے سبب تشدد کا شکار ہیں ۔ اس سلسلہ میں صوبائی خاتون محتسب پنجاب کی رپورٹ کے مطابق 3 سالوں میں صوبہ بھر سے صرف 899 خواتین کی شکایات موصول کی گئیں جن میں سے 2016 میں 354 ، سال2018،380،2017 میں450 جبکہ رواں سال کے تقریبا ًپہلے دو ماہ کے دوران 19 شکایات کا اندراج کیا گیا ہے کل صرف 110کے قریب کیس حل کیے جا سکے جن میں سے زیادہ تر ہیلپ لا ئن 1043 کے ذریعے درج ہوئے اور بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیتے ہو ئے ختم کر دیئے گئے۔

کیسز میں جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع ملتان، مظفرگڑھ، وہاڑی، رحیم یار خاں اور ڈیرہ غازی خاں میں 25سے زائد ملازمت پیشہ خواتین کی شکایات بھی شامل ہیں ۔واضح رہے کہ شکایات کا اندراج کرانے والی تمام خوا تین اعلٰی تعلیم یا فتہ اور مختلف شعبہ جات سے وابستہ ہیں۔ خصوصاً حال ہی میں محکمہ صحت کی ڈاکٹرز اور نرسوں سمیت محکمہ تعلیم میں ہراسانی کے خلاف متعدد خواتین اساتذہ نے آواز اٹھائی ہے۔ بیشتر کے کیس صوبائی خاتون محتسب کے پا س بدستور زیر سماعت ہیں جبکہ ان سے کئی گنا زیادہ تعداد ایسی خواتین کی ہے جو روز ہراسمنٹ جیسی ذہنی اور جسمانی اذیت سے دوچار ہو تی ہیں مگر اس ظلم کے خلا ف آواز بلند کر نے کا حوصلہ نہیں کر پا تیں کہ ان کے سامنے اب تک شکایات اندراج کرانے پر ازالہ کیے جانے والی مثالیں نہ ہو نے کے برابر ہیں ۔ جس کی اہم ترین وجوہات میں ملازمت پیشہ خواتین کو صوبا ئی محتسب اور قانون بارے آگا ہی نہ ہونا، خاتون محتسب کا دفتر صرف لا ہور میں ہونا، اداروں کی جانب سے ہراسمنٹ کمیٹیاں قائم نہ کر نا شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تعزیرات پا کستان 1860 کے ایکٹ کی دفعہ509 اور ہراسمنٹ ایکٹ 2010 کے مطابق ملازمت پیشہ خواتین کو جنسی اور ذ ہنی طور پر ہراساں کر نے کی سزا 3 سال قید،5 ہزار سے 1لاکھ روپے تک جرمانہ۔ جبری ریٹائرنمنٹ،ملازمت سے برخاستگی اور دیگر شامل ہیں اس کے باوجود خاندانی و معاشرتی دباؤ اور اخراجات کے سبب بیشتر خواتین ہراسمنٹ کے خلا ف آواز بلند کر نے کے بعد مسائل کے ڈر سے کیس واپس لینے پر مجبور ہو جا تی ہیں۔ صوبائی خاتون محتسب فوزیہ وقار کا کہنا ہے کہ خواتین ہراسگی کے بہت کم کیسز رجسڑڈ کرواتی ہیں جس کی بنیادی وجہ خاندانی، معاشرتی دباؤ اور خواتین کے اندر کا خوف ہے کہ نوکری ہاتھ سے نہ چلی جائے۔

خاتون صحافی میمونہ سعید کا کہنا ہے کہ خواتین کسی بھی شعبہ میں کام کر رہی ہوں انہیں وہاں کے ماحول کے مطابق مختلف اقسام کی ہراسگی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اگر ہم جرنلزم کی فیلڈ کی بات کریں تو اب تک جنوبی پنجاب میں ملتان واحد اسٹیشن ہے جہاں خواتین صحافی کام کر رہی ہیں ، مردوں سے کم تنخواہ میں مردوں کے برابر کام کرنے کے علاوہ سب سے اہم اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں مرد صحافی خواتین کی کردار کشی کرتے ہیں ، آپ فیلڈ میں نیوز کے متعلق سورس ( صنف مخالف ) سے معلومات لیں ، آپ کسی تقریب کا حصہ ہوں ، آپ کسی کولیگ سے ہنس کر بات کریں ، تو آپ کا تعلق جوڑ دیا جاتا ہے ، جس کا براہ راست اثر خواتین کی ذاتی اور گھریلو زندگیوں پر پڑتا ہے ، خواتین کے لباس حتی کہ ان کے میک اپ اور لپ اسٹک کے رنگ کو بھی ڈسکس کیا جاتا ہے ، میرا خیال ہے کہ یہ سب ہراساں کرنے کی بدترین مثالیں ہیں ہمیں اب اس سے آگے بڑھنا ہے کیونکہ اگر ہم خواتین کو کام کے معاملہ میں رعائیت نہیں دینا چاہتے تو ان کی ذاتی آزادی ، پسند و نا پسند پر بحث بھی بلا ضرورت ہے۔

خاتون صحافی سعدیہ تبسم کا کہنا ہے کہ ہمارے شعبے میں خواتین کی جسمانی ساخت پر بھپتیاں کسنے، کردار پر الزام تراشی، زیادتی اور قتل کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں جبکہ خواتین صحافیوں کے خلاف بہت زیادہ گری ہوئی زبان استعمال کی جاتی ہے ، شدید جنسی اشارے کئے جاتے ہیں اور ان کی جنس پر حملہ کیا جاتا ہے جس سے خواتین نفسیاتی طور پر متاثر ہوتی ہیں ۔

صحافی علشبا کہتی ہیں کہ ہمارا کام ایسا ہے کہ ہمیں مسلسل سوشل میڈیا استعمال کرنا پڑتا ہے ایسے میں یوں لگتا ہے کہ خواتین مسلسل نشانے پر اور غیر محفوظ ہیں ان کا کہنا ہے دوران ڈیوٹی ہمیں بعض اوقات جسمانی ساخت کے حوالے سے ہراسگی سامنا کرنا پڑتا ہے ، چھوٹا قد ، کمسنی کی عمر اور خوبصورتی کو لے کر بھی مردوں کی نامناسب باتیں سننے کو ملتی ہیں جو کہ ہراسگی کے زمرے میں آتی ہیں۔ان کا کہنا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں 70 فیصد خواتین اپنی زندگی کے دوران جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ 93 فیصد خواتین کو عوامی مقامات پر کسی نہ کسی طرح جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے حکومت کو چاہئے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قوانین پر موثر عملدرآمد کروائے تاکہ خواتین کو معاشرے میں کام کرنے کی آزادی حاصل ہوسکے ۔

خاتون صحافی سہیرا طارق کا کہنا ہے کہ ہمیں شعبہ صحافت میں دوران رپورٹنگ ، آفس میں غیر مساوی سلوک ، جنسی فائدہ نہ دینے کی صورت میں اہم کوریج سے دور رکھنا ، اسائنمنٹ یا پروگرام نہ دینے اور دفتری اوقات کار تبدیل کردینے ایسے مسائل کا سامنا رہتا ہے دفاتر میں ہراسگی سے متعلق آگاہی بورڈ ، پمفلٹ یا بینر آویزاں بھی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مرد حضرات انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

ملتان یونین آف جرنلٹس کے صدر شہادت حسین کا کہنا ہے خواتین صحافیوں کے ساتھ ہراسگی کے واقعات لمحہ فکریہ ہیں ۔ خواتین کے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت ملک کے تمام ادارے پابند ہیں کہ وہ تین رکنی داخلی کمیٹیاں بنائیں اس قانون میں سزاؤں اور تحقیقات کا طریقہ واضح ہے اس لئے قانون پر عملدرآمد کی ضرورت ہے اس کے ساتھ دفاتر میں ہراسگی روکنے کے لئے دفاتر میں آگاہی پمفلٹ ، بینر یا بورڈ بھی آویزاں کیے جانے چاہیئے تاکہ خواتین صحافیوں کو نہ صرف تحفظ کا احساس ہو بلکہ انہیں آزادی سےکام کرنےکے مواقع بھی میسر آسکیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.