لیبیا پھر ایک بارتباہ کن آفت کے گھیرے میں۔

3,751

برطانیہ کے دفتر خارجہ کے وزیر مارک فیلڈ اس حقیقت کونہ چھپا سکے کہ لیبیا میں آٹھ سال پہلے برطانیہ کی فوجی مداخلت کے نہایت تباہ کن نتائج بر آمد ہوئے تھے جس کے اب تک تاریک سائے منڈلارہے ہیں۔ 2011میں لیبیا میں عرب بہار کی آڑ میں معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور ان کی جان لینے کے لئے مغربی اتحادیوں نے جن میں برطانیہ، امریکا اور فرانس پیش پیش تھے، باغیوں کی مدد کے لئے ناٹو کے تابڑ توڑ حملے کر کے قیامت ڈھائی تھی۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا دعوی تھا کہ یہ فوجی مداخلت معمر قذافی کے باغیوں کا قتل عام روکنے کے لئے انسانی ہمدردی کا اقدام ہے۔ دراصل مغربی طاقتوں نے قذافی کا تختہ الٹنے اور لیبیا کے تیل اور سونے کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے باغیوں کی شورش برپا کی تھی جس کے دوران لیبیا کے شہر کھنڈر بن کر رہ گئے، کئی ہزار افراد ہلاک ہوگئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ لیبیائی جو پورے افریقہ میں سب سے زیادہ خوشحال مانے جاتے تھے نادار اور بے گھر ہوگئے۔

صدر بش کے دور کے نائب وزیر دفاع ڈگلس فیتھ نے عراق کی جنگ کے بارے میں اپنی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ 9/11سے بہت پہلے امریکا نے معمر قذافی کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادی 1969سے معمر قذافی سے سخت ناراض جلے بیٹھے تھے جب انہوں نے لیبیا میں غیر ملکی بنکوں کو قومی تحویل میں لے لیا تھا اور مغربی طاقتوں کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہوگیا جب قذافی نے لیبیا کے تیل کے ذخائر قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ لیبیا کے تیل کی دولت لیبیا کےعوام کی دولت ہے اوراسے انہیں اپنی خوشحالی کے لئے استعمال کرنے کا حق ہے۔

اسی وقت مغربی قوتوں نے قذافی کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لیبیا کا جوہری پروگرام اور جوہری اسلحہ بنانے کی صلاحیت تھی۔ مغربی اتحادیوں نے یہ مشن برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر کے سپرد کیا کہ وہ قذافی کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے اور جوہری تنصیبات امریکہ کے حوالہ کرنے پر آمادہ کریں۔ چنانچہ 2004میں ٹونی بلیر بھاگے بھاگے طرابلس گئے اور معمر قذافی کو ڈرایا کہ ان کا حشر بھی صدام حسین کی طرح ہو سکتا ہے۔ ٹونی بلیر نے ایسی عیاری سے معمر قذافی کو شیشے میں اتار ا کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات جہاز میں لادکر امریکا کے حوالے کرنے پر تیار ہوگئے۔

مغربی قوتیں اس وقت بھڑک اٹھیں جب انہیں پتہ چلا کہ معمر قذافی نے لیبیا کے سنٹرل بنک کو سو فی صد قومی ملکیت میں لینے اور دینار کی کرنسی کے اجرا کے بعد افریقہ کے مرکزی بنک کے قیام کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور اس مقصد کے لئے 150ٹن سونا مخصوص کیا ہے، اس منصوبہ کی وجہ سے امریکا کو اپنے ڈالر کے ڈوبنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔

2011میں معمر قذافی کے خلاف عوام کو بھڑکانا آسان نہیں تھا کیونکہ 1967میں جب شاہ ادریس کو تخت سے اتار کر فوج کے بل پر معمر قذافی بر سر اقتدار آئے تھے تو اس وقت لیبیا افریقہ کا غریب ترین ملک تھا لیکن چالیس سال کے دور میں قذافی نے تیل کی دولت کواور غیر ملکی بنکوں کو مغربی تسلط سے آزاد کرا کے ملک کو افریقہ کا سب سے زیادہ خوشحال ملک بنا دیا۔ قذافی کے دور میں ہر شہری کو مفت صحت کی سہولت حاصل تھی، ہر شہری کے لئے ہر سطح پر تعلیم مفت تھی، بجلی بالکل مفت تھی، نئے شادی شدہ جوڑوں کو حکومت کی طرف سے وافر مالی امداد دی جاتی تھی تاکہ وہ خوش حال زندگی بسر کر سکیں۔ شہریوں کو بلا سود قرضوں کی سہولت حاصل تھی۔ معمر قذافی کے دور سے پہلے گنی چنی لڑکیاں یونیورسٹی جاتی تھیں لیکن پچھلے چالیس برس میں یونیورسٹیوں میں طالبات کی تعداد نصف سے زیادہ ہے اور ساٹھ فیصد خواتیں بر سر روزگار ہیں۔ لیبیا نہ صرف شمالی افریقہ کے ملکوں کے شہریوں کو روزگار فراہم کرتا تھا بلکہ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے شہریوں کے لئے بھی روزگار کے دروازے کھلے تھے۔

معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور ان کے قتل کے بعد، لیبیا میں اس بُری طرح سے افرا تفری مچی اور علاقائی سرداروں کے درمیاں اقتدار کے لئے ایسی سخت جنگ بھڑک اٹھی کہ مغربی قوتیں لیبیا پر اپنا تسلط نہ جما سکیں۔ پچھلے آٹھ سال کے دوران لیبیا ۳ متحارب حکومتوں میں بٹا رہاہے۔ ایک طرف طبرق میں 2014کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت تھی اور دوسری جانب طرابلس میں قائم قومی نجات کی حکومت تھی اور تیسری قومی مفاہمت کی GNA حکومت جو در اصل مغربی قوتوں نے 2015کے آخر میں قائم کی تھی جس کو یورپی یونین اور امریکا کی حمایت حاصل ہے۔ اسی کے ساتھ مشرق میں ایوان نمائندگان کی حکومت کی حامی لیبین نیشنل آرمی ہے جس کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر ہیں۔ جنر ل حفتر، معمر قذافی کے پرانے ساتھی تھے لیکن وہ قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں پکڑے گئے تھے اور قید کر لئے گئے تھے۔ امریکا نے ان کو قذافی کی قید سے آزاد کرایا تھا اور 1993سے وہ امریکا میں مقیم تھے جہاں انہوں نے امریکی شہریت لے کر سکونت اختیار کر لی تھی لیکن 2011میں جب مغربی قوتوں نے قذافی کے خلاف شورش بھڑکائی تو جنرل حفتر فورا ًلیبیا واپس آگئے اور باغیوں کی قیادت سنبھال لی۔

اب مغربی قوتوں کی پشت پناہی اور مدد و اعانت کے ساتھ جنرل حفتر نے طرابلس میں قائم حکومت کو گرانے کے لئے خوں ریزفوج کشی شروع کر دی ہے، جس کے دوران کئی سو لیبیائی ہلاک ہو چکے ہیں۔جنرل حفتر کو فرانس کی کھلم کھلا حمایت حاصل ہے اور مصر کے فوجی آمر جنرل عبدالفتاح السیسی کی پشت پناہی اور مشورے بھی انہیں حاصل ہیں۔ پچھلے دنوں جنرل السیسی نے لیبیا کی صورت حال پر واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ جنرل حفتر کو امریکا کی شہہ پرسعودی عرب کی بھی حمایت اور مالی امداد بھی حاصل ہے۔

مغربی قوتیں اس وقت لیبیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ بلاشبہ ان کا اولین مقصد لیبیا کے تیل کی دولت پر قبضہ کرنے اور افریقہ میں اپنا اثر جمانے کا ہے اور اسی کے ساتھ کوشش ہے کہ لیبیا سے یورپ میں پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔ غرض لیبیا کو پھر ایک بار تباہ کن آفت کا سامنا ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.