اے نا پسندیدہ مہمان، مت آو۔

2,081

پچھلے سال جب صدر ٹرمپ برطانیہ کے مختصر دورے پر آئے تھے تو ان کا جی نہیں بھرا تھا۔ مخالف مظاہرین کی وجہ سے انہیں ہیلی کاپٹر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا پڑا، پھر نہ تو شاہی بکنگھم محل میں ملکہ کی ضیافت میں مدعو کئے گئے، نہ شاہی بگھی میں لندن کی سڑکوں پر جلوہ افروز ہوئے اور نہ انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع ملا جیسے کہ ان سے پہلے صدر اوباما اور صدر بش کو یہ اعزاز دیا گیا۔

اب صدر ٹرمپ کے بے حد اصرار پر اور بریگزٹ کے بعد امریکا سے تجارتی معاہدہ کی خواہش اور امید کی وجہ سے وزیر اعظم ٹریسا مے ٹرمپ کو دوبارہ برطانیہ کے سرکاری دورہ کی دعوت دینے پر مجبور ہوئی ہیں۔ اعلان کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملکہ ایلزبتھ کی دعوت پر تین جون سے تین روزہ سرکاری دورہ پر برطانیہ کا دورہ کریں گے۔ جواز اس دعوت کا یہ پیش کیا گیا ہے کہ جون میں دوسری عالم گیر جنگ کے ڈی ڈے کاجشن منایا جائے گا جس میں برطانیہ کے گہرے دوست امریکا کے صدر کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ٹریسا مے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اس دورہ سے برطانیہ اور امریکا کے خاص تعلقات کی تجدید ہوگی۔ لیکن اس اعلان کے فورا ًبعد حزب مخالف کی لیبر پارٹی اور ٹرمپ کے مخالفین نے ٹرمپ کو صلواتیں سنانی شروع کردی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی حکومت اس بات پر سخت ناراض ہے کہ اس دورہ کے بارے میں اس سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ گذشتہ سال جب ٹرمپ دو روز کے لئے اسکاٹ لینڈ گئے تھے جہاں ان کے گولف کے میدان ہیں، تو اسکاٹ لینڈ کی حکومت کو ان کے تحفظ کے لئے چھ ہزار پولیس اہکار تعینات کرنا پڑےتھے اور ۲۳ لاکھ پونڈ خرچ کرنے پڑے تھے۔

War on Want کے ڈائریکٹر اسد رحمان نے کہا ہے کہ ٹرمپ کایہ دورہ برطانیہ کے عوام کی بڑی تعداد کے لئے شدید ناراضگی کا باعث ہوگااور توقع ہے ڈھائی لاکھ سے زیادہ عوام ٹرمپ کے خلاف لندن کی سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیبر پارٹی کے ممتاز ممبر پارلیمنٹ اسٹیون ڈاوٹی نے ٹرمپ کے دورہ کے خلاف عوامی دستخطوں کی مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ یہ دورہ منسوخ کردیا جائے کیونکہ ٹرمپ نسل پرست اور انتہا پسند شخص ہیں جو برطانیہ میں ناپسندیدہ مہمان ہوں گے۔ ایک اور لیبر رہنما ڈیوڈ لیمے نے ٹرمپ کو بے ایمان، دروغ گو اور خود پسند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ملکہ کی ضیافت میں شرکت کا اعزاز دینا ناانصافی ہوگی۔

دارالعوام کے اسپیکر جان برکو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت نہیں دی جائے گی۔یہ اعزاز اس سے پہلے امریکا کے تین صدور کو حاصل رہا ہے۔ ان کا واضح طور پر کہنا تھا کہ ٹرمپ نسل پرست ہیں اور خواتین کے ساتھ بد تہذیبی سے پیش آتے ہیں ،یہ برطانیہ کی اقدار کے منافی ہے اور ایسے شخص کو پارلیمنٹ میں دعوت دے کر اعزاز نہیں دیا جا سکتا۔

روزنامہ گارڈین نے ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ برطانیہ کے دوست نہیں ہیں۔ انہوں نے بار بار برطانیہ کے سیاست دانوں پر حملے کئے ہیں اور خاص طور پر لندن کے مئیر صادق خان کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ گارڈین نے لکھا ہے کہ ٹرمپ خطرناک دروغ گو ہیں جنہیں نسل پرست اپنوں میں شمار کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے دورہ کے مخالفین نے وہ بڑا سا ٹرمپ کی شکل کا غبارہ جھاڑ پونچھ کر باہر نکال لیا ہے جس نے گذشتہ سال ٹرمپ کے دورہ میں ان کا تعاقب کیا تھا۔

trump's baloon

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.