ہماراتعلیمی نصاب کیساہو؟

1,023

سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں ایک مرتبہ پھر تعلیم پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست فری اور معیاری تعلیم دینے میں ناکام رہی ہے۔عوامی حلقوں ہی کی جانب سے نہیں بلکہ ریاست کے دیگر موّقر ادارے بھی اب کئی حوالوں سے حکومت کی کارگردگی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔شعبۂ تعلیم کے احوال بھی کچھ مختلف نہیں ہیں وگرنہ سپریم کورٹ جیسے ادارے کو اس ضمن میں یکدم ”ریاست کی ناکامی” جیسے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

نظام و نصاب تعلیم کی جامع اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی کچھ کوششیں سامنے آئی ہیں ۔لیکن کچھ خرابیوں کو دور کیے بغیر اصلاحات کے کام کا آغاز بالآخر بے معنی ہو کررہ جائے گا۔ اگر اصلاح احوال کی ملکی و قومی سطح پر کوئی جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کوشش کی گئی تو 18ویں ترمیم کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکے گا کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم اب قومی نہیں صوبائی مسئلہ ہے۔ اگر صوبوں نے اپنی اپنی سطح پر کام کیا تو ملکی و قومی سطح کے فکری نظریاتی اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔

صوبائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کو اگر دیکھا جائے توا بھی گذشتہ ماہ پنجاب حکومت کے کچھ اقدامات سامنے آئے ہیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے سکیم آف اسٹڈی کی گائیڈ لائن جاری کر کے عوام الناس سے تجاویز مانگی گئی ہیں۔

2010ء میں 18ویں ترمیم کے نفاذ سے پہلے وفاقی وزارت تعلیم ،تعلیمی پالیسیوں ،سکیم آف سٹڈیز اور نصاب سازی وغیرہ پر کام کر رہی تھی ۔ مذکورہ ترمیم نے نظام و نصاب تعلیم سے متعلق تمام امور صوبوں کے سپرد کر دیے جس کے نتیجے میں حکومت پنجاب کو ”پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) ایکٹ بنانا پڑا جس کو پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے ”Act VI of 2015” کے عنوان سے پاس کر کے نافذ کر دیا ۔اور اس طرح سکیم آف سٹڈیز، نصاب سازی ،ٹیکسٹ بکس کے مسودے کی تیار ی اور مختلف کلاسز کے لیے سپلیمنٹری ریڈنگ مٹیریل وغیرہ کی تیاری کاکامPCTBکے سپرد ہوگیا۔
جب نصاب کے بارے میں یہ تسلیم کر لیا کہ یہ کسی قوم کی قدروں اور فلسفہ حیات کا عکاس ہوتا ہے (جیسا کہ مذکورہ دستاویز میں ذکر کیا گیا ہے) تو پھر نصاب کی تیاری صوبوں کے سپرد کیوں کی گئی؟
نصاب کے فکری اورنظریاتی خدوخال کی بنیاد ایک ہونی چاہیے تاکہ قومی اجتماعی شعور کی راہ ہموار ہوسکے۔جب صوبے اس منصوبے پر الگ الگ کام کریں گے تو قومی اجتماعی تصورات پر زد پڑے گی۔
وزارت تعلیم حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ سکیم آف سٹڈیز سے جو مراد لی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ پری پرائمری ایجوکیشن سے لے کر انٹرمیڈیٹ کی سطح تک پڑھائے جانے والے تمام مضامین کی updated outlineکا احاطہ کرے گی۔

بنیادی (Core) اور اختیاری مضامین ، ہر مضمون کا ذریعہ تعلیم،متعین وقت ،تھیوری اور پریکٹیکل کے لیے نمبروں کی تخصیص کے حوالے سے اشارے دے گی۔ نصاب کے بارے میں جو گائیڈ لائنز دی جائیں گی انہی کے مطابق ٹیکسٹ بکس تیار کی جائیں گی اور ان پر نظر ثانی کی جائے گی۔

اس ضمن میں پہلا تقاضا یہ ہے ”او” لیول اور ”اے” لیول کے نصاب اور امتحانات کو ختم کیاجائے تاکہ ایک خاص وجہ امتیاز ختم ہو جائے۔دینی مدارس کے نظام کا مکمل طور پر ملک کے دیگر تمام نصابوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ تعلیم کو تعلیم ہی ہونا چاہیے یہ جو دنیاوی تعلیم اور دینی تعلیم جیسی فضول اصطلاحات ہیں ان کا خاتمہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح ایک تعلیم کو ترقی کرنے کے لیے اور دوسری کو ترقی نہ کرنے کا ایک طے شدہ سا پروگرام سمجھ لیا جاتا ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی مستقل اہمیت کے پیش نظر گریڈ 3سے 10تک جنرل سائنس کے جس مضمون کو ”سائنس اور ٹیکنالوجی” کے نام سے متعارف کرایا جارہا ہے اس کا مواد آسان پیرائے میں ہو ،جن انگریزی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیا جائے وہاں انگریزی اصطلاحات بھی قوسین میں لکھ دی جائیں ۔عربی کو لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھا یا جائے تاکہ قرآن فہمی اور حدیث فہمی کے مقصد کے حصول کے ساتھ ساتھ اسے مسلم ممالک کے درمیان رابطے کی زبان بنایا جا سکے۔

ہر مضمون کے لیے ایک ہی کتاب ہونی چاہیے اور وہ بھی ضخیم نہ ہو ، ہر مضمو ن کا امتحان اس قدر مختصر اور آسان ہو کہ پوری کتاب کے مواد کا احاطہ کر لے ۔ ضروری اور غیر ضروری ،اہم یا غیر اہم مواد کی کوئی قسم سرے سے موجود ہی نہ ہو۔ جو اب کے مواد سے صرف یہ ظاہر ہونا کافی ہے کہ طالب علم کو پوچھے گئے سوال کے جواب کا پورا علم و شعور اور ادراک ہے۔ جوابی مواد میں طلبہ سے توقع نہ کی جائےکہ صفحے کے صفحے بھر کے دکھائیں تاکہ انھیں زیادہ نمبر مل سکیں ۔نمبروں کا تعلق مواد کی طوالت سے نہ ہو بلکہ اس بات سے ہو کہ اس کاجواب کس قدر متعلق اور بھرپور ہے۔ البتہ مضمون نگاری اور کہانی نویسی جیسے تخلیقی مواد میں طلبہ سے طویل تحریرکی توقع کی جاسکتی ہے۔

پری پرائمری کی سطح کی تعلیم میں انگریزی کو ہرگز ذریعہ تعلیم کے طور پر نہ گھسایا جائے ۔ در جہ I سے II میں بھی انگریزی نہیں ہونی چاہیے۔

تاریخ کے مضمون کو کسی لیول پر بھی اختیاری نہ بنایا جائے کیونکہ اپنی تاریخ سے آگاہی ہر طالب علم کی بنیادی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی شناخت کے بحران کا شکار نہ ہو ۔ تاریخ کے مضمون میں اس قدر تاریخی مواد ہو جو طلبہ میں ان کی قومی و ملی پہچان کی تکمیل کی ضرورت کو پورا کرے اور لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھا یا جائے تاکہ ہماری موجودہ نسلیں اس ماضی سے آگاہ ہو ں جس نے آج کے حال کو جنم دیا۔

مطالعہ پاکستان کے مضمون کو بچے رٹا لگا کر بغیر Conceptکے ہی پڑھنے پر مجبور ہیں۔ اسے واقعاتی ترتیب سے کہانی کے اندازمیں لکھا جائے کتاب کے صفحات کم کیے جائیں۔ جو چیزیں غیر اہم اور عدم دلچسپی کا باعث ہیں انھیں نصاب میں سے ختم کر دیا جائے ۔پاکستان کے بارے میں بچوں کو جتنا جاننا ضروری ہے وہی کچھ جاننے کا موقع دیں ۔غیر ضروری مواد کی بھر مارسے ضروری مواد بھی سمجھ میں آنے سے رہ جاتا ہے اور نہ ہی یاد ہو پاتا ہے ۔یہ تمام گزارشات بظاہر تو پنجاب حکومت کی سٹڈی سکیم کے حوالے سے کی گئی ہیں لیکن ان کا اطلاق تمام صوبوں کی سٹڈی لیکچر اور نصاب کے مواد ومزاج پر ہوسکتا ہے۔

دو کتابوں کے مصنف ہیں اورسماجی و سیاسی معمالات پر لکھتے رہتے ہیں۔ پی ایف یو جے اور پی ایف یو سی کے ممبر بھی ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.