تاریخ رقم کردینے والا پاکستانی فراڈیا

14,628

انتہائی مفلس اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ کسی نہ کسی طرح بی ایس سی اور بی ایڈ کرکے وزیرآباد کےقریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی سکول میں سائنس کا استاد بھرتی ہو گیا. 2004ء میں اس نے نوکری چھوڑ دی اور دوبئی چلا گیا.وہ چھ ماہ دوبئی رہا.واپس آیا اورایک ایسا کام شروع کیا کہ جس نے اسے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی مشہور کردیا.اس نے اپنے ایک دوست جو کہ ماربل کا کام کرتا تھا سے رقم مانگی اور یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے اُسے واپس کردی ،محلے کے مزید دو لوگ اس کےاگلے گاہک بنے‘یہ بھی پندرہ دنوں میں دوگنی رقم کے مالک ہو گئے‘یہ دو گاہک اس کے پاس پندرہ گاہک لے آئےاور پھریہ پندرہ گاہک مہینے میں ڈیڑھ سو گاہک ہو گئے.پھر تولوگوں کی لائین لگ گئی محلہ سے شروع اس کام کی بھنک جس جس کے کان میں پہنچی لالچ اور طمع اسے اس شخص کے پاس لے آئی اور رقم دو گنا کروانے کا یہ لالچ وزیرآباد‘ سیالکوٹ گجرات اور گوجرانوالہ تک پھیل گیااور چند ہزار روپے تنخواہ لینے والامعمولی سکول ماسٹر چند ماہ کے اندر ارب پتی ہو گیا.

اس کا یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا.اس شخص نے ان 18 مہینوں میں 48 ہزار لوگوں سے سات ارب روپے جمع کر لئے.جب کاروبار پھیل گیا تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا ۔یہ رشتے دار پورے گوجرانوالہ ڈویژن سے رقم جمع کرتے تھے،پانچ فیصد اپنے پاس رکھتے اور باقی رقم اسے دے دیتے.وہ شروع میں پندرہ دنوں میں رقم ڈبل کرتا تھا.یہ مدت بعدازاں ایک مہینہ ہوئی.پھر دو مہینے.اور آخر میں 70 دن ہو گئی.یہ سلسلہ چلتا رہا،درصل وہ شخص”پونزی سکیم’چلا رہا تھا.پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں رقم دینے والاگاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے.شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے.لیکن آخری گاہک سارے سرمائےسے محروم ہو جاتے ہیں.اس کا نام سید سبط الحسن تھا لیکن وہ ڈبل شاہ کے نام سے مشہور ہوا اور ہمشہ کیلئے پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کے طور پر اپنا نام رقم کرگیا اس نے صرف ڈیڑھ سال میں تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔آپ اب اس شخص کی چالاکی ملاحظہ کیجئے.یہ 2007ءمیں نیب کے شکنجے میں آ گیا.نیب نے اس کی جائیداد‘ زمینیں‘ اکاؤنٹس اور سیف پکڑ لئے‘یہ رقم تین ارب روپے بنی،اور اس نے یہ تین ارب روپےچپ چاپ اور بخوشی نیب کے حوالے کر دیئے.

ڈبل شاہ کا کیس چلا.اسے یکم جولائی 2012ءکو 14 سال قید کی سزا ہو ئی.جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہےچنانچہ ڈبل شاہ کے 14 سال عملاً 7 سال تھے.عدالتیں پولیس حراست‘ حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں.ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ءکو گرفتار ہوا تھا‘وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا‘یہ پانچ سال بھی اس کی مجموعی سزا سے نفی ہو گئے‘پیچھے رہ گئے دو سال‘
ڈبل شاہ نے محسوس کیاچار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں،چنانچہ اس نے بارگین کی بجائے سزا قبول کر لی.جیل میں اچھے چال چلن‘ عید‘ شب برات اور خون دینے کی وجہ سے بھی
قیدیوں کو سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے.ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی.چنانچہ وہ عدالتی فیصلے کے 2ماہ بعدجیل سے رہا ہوگیا.ڈبل شاہ 15مئی 2014ءکوکوٹ لکھپت جیل سے رہا ہواتو ساتھیوں نے گیٹ پر اس کا استقبال کیا.یہ لوگ اسے جلوس کی شکل میں وزیر آباد لے آئے.وزیر آباد میں ڈبل شاہ کی آمد پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوا.پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کو ہار پہنائے گئے.اس پر پھولوں کی منوں پتیاں برسائی گئیںاور اسے مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی۔ حیرت یہ ہے کہ وزیرآباد میں آج تک کبھی کسی سیاسی مذہبی اور کھلاڑی شخصیت کو اتنی پزیرائی نہیں ملی تھی جتنی اس شخص کو ملی ،آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں ہمارا معاشرہ اندر سے کتنا کھوکھلا ہے ہماری اقدارجو کسی دور میں ایک رشوت لینے والے شخص کو بھی دھتکار دیتی تھیں ایک ایسے شخص کے رہا ہونے کا خیر مقدم کررہی تھیں جس کا کیا ہوا کام نہ قانونی تھا نہ اخلاقی اور نہ ہی مذہب اس کی اجازت دیتا تھا ،وہ سرے عام لوگوں کو لوٹ رہا تھا اور ہر شخص یہ بھی جانتا تھا کہ ایک نہ ایک دن یہ گیم ختم ہوجانی ہے لیکن ہر کوئی یہی چاہ رہا تھا کہ ڈبل شاہ اپنا کاروبار دوبارہ سے شروع کردے۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد اس نے قانونی طورپر اب کسی کو کچھ ادا نہ کرنا تھااور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی.یہ چار ارب روپے اب اس کے تھے.یہ اس رقم کا بلا شرکت غیرے مالک تھاایک سابق سکول ٹیچر کےلئے چار ارب روپے کی رقم قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی.وہ وزیرآباد سے لاہور شفٹ ہوااور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈبل شاہ کے آگے پوری ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، نیب اور احتساب کے ادارے بے بس کیوں ہوگئے تھے؟ وہ کیوں سرےعام یوں عوام کو لوٹتا رہا؟ اسکی کئی وجوہات تھیں جن میں ایک تو یہ تھی کہ بڑے بڑے بیورو کریٹس یہاں تک کہ پولیس کے اعلی افسران بھی اس کے کلائنٹ تھے وہ انہیں پیسے ڈبل کرکے دے رہا تھا۔ گجرات کی ایک سیاسی فیملی بھی اس کے پیچھے تھی جس کے ایک فرد کو مبینہ طورڈبل شاہ ماہانہ علیحدہ دیتا تھا اورکوئی چانس نہیں تھا کہ کوئی اس پر ہاتھ ڈالے۔ یہ سیاسی حلقہ وزیرآباد کے ایک مشہورمسلم لیگی خاندان کا ہے اور یہ ان کی آبائی سیٹ سمجھی جاتی ہے، ڈبل شاہ تحصیل میں اس قدر اپنا اثر ورسوخ بنا چکا تھا کہ گاوں کے گاوں اس کے گرویدہ ہوچکے تھے اور اس کیلئے لڑنے مرنے کو تیار تھے ادھر کچھ لوگوں نے اسے سیاست میں حصہ لینے کا مشورہ دینا شروع کردیا جب یہ بات اس سیاسی خاندان کے سربراہ کے پاس پہنچی جو کہ اس وقت مشرف کے وزیر تھے تو وہ خصوصی طور پر مشرف کے پاس گئے اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا، جس پر مشرف نے بھی اس سیاسی شخصیت کی ناراضگی سے بچنے کے لیے نیب اور دوسرے اداروں کو الرٹ کردیا ۔گجرات سے جو فیملی اسے بچا رہی تھی اسے بھی مشرف ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن بات بہت آگے تک جاچکی تھی جس کا اندازہ آپ کو اس تحریر میں آگے جاکر پتہ چلے گا۔ پھر ایک رات اس کے گھر پر چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا گیا اس کی اصل کہانی ختم کرنے میں وزیر آباد کے اسی سیاسی خاندان کا ہاتھ تھا۔ یقیناً اگر اس کا راستہ صاف رہتا تو وہ اگلے الیکشن میں ایم این اے کا امیدوار تھا اور صاف نظر آرہا تھا کہ کوئی اس کو ہرا نہیں سکتا تھا۔

ایک دلچسپ بات آپ سے شئیرکرتا چلوں، کیونکہ میرا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اسلئے میں اس کے کئی متاثرین کو جانتا ہوں جن کے لاکھوں ڈوب گئے اور کئی ایسے بھی ہیں جو اس کی وجہ سے آج کروڑوںپتی ہیں۔ہمارے لوگ لالچی اور منافق ہیں اُس دور میں ضلع گوجرانوالہ کی ہر محفل میں ڈبل شاہ زیر بحث ضرور ہوتا تھا اور ان میں اگرکوئی بڑے احترام سے اسے شاہ صاحب کہہ کر پکارتا تو اس بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی تھی کہ ان صاحب نے پیسے دوگنے کرانے کیلئے دیے ہوئے ہیں اورجو شخص ڈبل شاہ کہتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ موصوف ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھاگ جانے کیلئے تیار تھا لیکن الیکشن میں حصہ لینے اور ایم این اے بننے کے چکر میں نا بھاگا اور نیب کے ہتھے چڑھ گیا۔ عین ممکن ہے کہ اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ ممبر پارلیمنٹ بن کروہ خود بااثرہوجائے گا اور پھر کوئی اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکے گا ان سیاسی اور انتظامی افسران کی بلیک میلنگ سے بھی بچ جائے گا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا

آئیں ذرا اب اس وقت وزیرآباد کے مالیاتی اداروں میں کیا ہورہا تھا اس کا بھی ذکر کرتے جائیں، کہتے ہیں کہ وزیرآباد کے اس وقت کے جتنے بینک تھے ان کے پاس سوائے بل جمع کرنے کےاور کوئی کام باقی نہ رہا فیکٹری مالکان سے لیکر معمولی دوکاندارتک بینک میں پیسے رکھنے کی بجائے ڈبل شاہ کے پاس جمع کرانے کو ترجیح دیتے، یہاں تک کہ بینک مینجر بھی اپنے پیسے نکال کر اسے دے رہے تھے ۔بینکوں کے مینجروں کو ان کے ہیڈ آفس سے شوکاز نوٹس جاری ہورہے تھے کہ ان کی برانچوں میں کوئی پیسہ کیوں نہیں آر؟ہا نیز یہ کہ کئی بینک تو اس پے بھی غور کررہے تھے کہ جب تک یہ مسئلہ ہے اپنی برانچوں کو عارضی طور پر بند کردیا جائے۔

اب ذرا پراپرٹی کی طرف آتے ہیں تو اس کھیل نے لوگوں کو اپنی املاک سے بھی محروم کردیا ۔گوجرانوالہ کی تاریخ میں اتنی سستی جائدادیں کبھی نہیں ہوئی ہونگی جتنی ان دونوں میں ہوگئیں تھیں۔ لوگ جائیدادیں اونے پونے بیچ کر ڈبل شاہ کو پیسے دے رہے تھے۔ گوجرانوالہ میں کئی پرائیویٹ رہاشی سکیمیں صرف اسی وجہ سے فلاپ ہورہی تھیں۔ لوگ اپنے پلاٹ بیچ رہے تھے اور خریدنے والاکوئی نہ تھا ۔وزیر آباد اور اس کے گرد ونواح میں پراپرٹی کا اس سے بھی برا حال تھا ۔دوکانوں ،مکانوں اور پلاٹوں کی قیمتیں آدھی سے بھی کم رہ گئیں تھیں ۔لیکن ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ جب اس بات کا چرچا دوسرے علاقوں تک پہنچا تو سم سمجھدارپراپرٹی اینوسٹر زجو کہ جانتے تھے کہ اس ڈرامہ کا فلاپ سین ہو ہی جانا ہے وہ وزیرآباد آکر جائیدادیں خرید کرنے لگے ۔

وزیر آباد کے دیہاتوں میں اس سے بھی برا حال تھا۔ لوگوں نے زیور،مویشی ،گاڑیاں اور ٹریکٹر غرض جو چیز ہاتھ لگی بیچ ڈالی اور ڈبل شاہ کے پاس جمع کروادی ۔رقم کی بھی کوئی حد نہ تھی پانچ ہزار سے لیکر پچاس لاکھ تک جو جتنا کرسکتا تھا لے آیا۔ جس کی جتنی بساط تھی اس نے اسی حساب سے پیسے جمع کروادیے۔ وہ کسی کوانکار نہیں کرتا تھا۔ اس کے دفتر میں بیٹھے اس کے کارندے ہر آنے والے سے پیسے لیتے ،گنتی کرتے اور ایک سادہ کاغذ پر رسید لکھ کر دے دیتے، اسی دور میں وہاں کے ایک ایم پی اے نے اس کےساتھ عجیب ڈرامہ کیا۔ اس نے کوئی پچیس لاکھ کے قریب پیسے ڈبل شاہ کو دیے اور اپنے دو گارڈ اس کے پاس چھوڑ دیے۔ اس وقت وہ رقم دوگنی کرنے میں ایک ماہ لگاتا تھا۔ یہ گارڈ اس عرصہ میں اس کے ساتھ رہے اور انہوں نے ایک منٹ کیلئے بھی ڈبل شاہ کو آنکھوں سے اوجل نہ ہونے دیا اور ہر وقت پیچھے ان ایم پی اے صاحب کو بھی اطلاع کرتے رہے یہاں تک کہ ایک ماہ بعد رقم ڈبل کرواکر وہ ایم پی اے اپنے پچاس لاکھ کے ساتھ اپنے گارڈوں کو بھی واپس لے گئے۔ ایک اور صاحب تو اس سے بھی بڑا ہاتھ ڈبل شاہ کے ساتھ کرگئے۔یہ بھی ایک سیاسی پارٹی کے عہدےدارتھے،ایک دن ایک بوڑھا شخص ڈبل شاہ کے پاس آیا اور اسے پرچی دکھائی جس کے تحت اُسے اب ڈبل شاہ نے بیس لاکھ کی رقم ادا کرنی تھی لیکن اس کے کارندوں نے اس پرچی کو جعلی قرار دے دیا ۔اس پر وہ بوڑھا شخص اس سیاسی شخصیت کو اپنے ساتھ لیکر ڈبل شاہ کے پاس آیا۔ اُس سیاسی شخصیت نے ڈبل شاہ کو کہا کہ تم اس غریب کے ساتھ زیادتی کررہے ہو جس پر ڈبل شاہ نے کہا کہ اگر یہ سچا ہے تو آپ اس کی قسم دے دیں میں پیسے دے دوں گا ۔ ڈبل شاہ کا خیال تھا کہ وہ کبھی اس کی قسم نہیں دے گا لیکن وہ اس وقت حیران رہ گیا جب اس اچھے کھاتے پیتے معزز گھرانے کے فرد نے اس بوڑھے شخص کی قسم دے دی۔ مجبوراً ڈبل شاہ کو رقم دینی پڑی بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ نوسربازی اُس سیاسی شخصیت کے اپنے ذہن کی پیدوار تھی اس نے اس غریب بابا جی کو بھی ایک یا دولاکھ دیےاور خود مفت میں اٹھارہ لاکھ کا چونا ڈبل شاہ کو لگا گیا لیکن ڈبل شاہ بہت بڑا فراڈیا ،چوراور نوسرباز تھا اس لیےاسے ان بیس لاکھ سے کیا فرق پڑنے والا تھا۔

بہت کم لوگ ایسے تھے جو اپنے پیسے جمع کرواتے اور مقررہ وقت پر واپس لے لیتے۔زیادہ تر مقررہ وقت پر اپنی رقم واپس لینے کی بجائے ڈبل کئی گئی رقم واپس اس کے پاس جمع کرواجاتے۔ جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو اصل رقم واپس لے جاتے اور دوگنی ہوئی رقم دوبارہ سے جمع کرواجاتے، یعنی یہ سمجھ لیں کہ اسی فیصد لوگ پیسہ واپس ہی نہیں لے رہے تھے بلکہ دوبارہ سے ڈبل کرنے کیلئے جمع کروا دیتے تھے۔

آپ کو ایک اور دلچسپی کی بات بھی بتاتا چلوں، ان دنوں میں ایک افواہ پھیلی کہ موبائل کے اندر ایک ایسا وائرس آیا ہوا ہے کہ جب کوئی موبائل سننے کیلئے آن کرتا ہے تو اس کا دل بند ہوجاتا ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہ افواہ تو خیر پورے ملک میں تھی لیکن اس قسم کا اگر کوئی واقع ہوا تھا تو اس کا تعلق ڈبل شاہ سے تھا ۔ہوا یوں تھا کہ جب ڈبل شاہ پکڑا گیا تو جن لوگوں نے پیسے اس کے پاس جمع کروائے تھے ان میں سے کچھ لوگوں کو جب یہ خبر موبائل پر بتائی گئی تو وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوگئے۔ ان میں ایسے بھی ہوں گے جن کے اپنے قریبی رشتے داروں کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے پیسےدیے ہوئے تھے۔لہذاانہوں نے اوپر نیچے ہوئی اموات کو وائرس یا کچھ نے تو جنوں کی کارستانی بھی بتایا۔ اگر آپ اس دور کے اخبارات دیکھیں تو آپ کو ایسی کئی خبریں ملے گئیں کہ کوئی موبائل سنتے سنتے اللہ کو پیارا ہوگیا ۔

جن دنوں میں ڈبل شاہ کا یہ کام عروج پر تھا ان دنوں اس کے ڈیرہ پر عجیب منظر ہوتا تھا ۔پیسے جمع کروانے والوں، لینے والوں یا اپنا کھاتہ دیکھنے والوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں۔ اس کے بے شمار کارندے بیٹھے نوٹ گن رہے ہوتے ،پرچیاں لکھنے والے اور چیک کرکے ڈبل شاہ سے سائن کروانے والے علیحدہ تھے۔ ارد گرد بوریوں ،تھیلوں ،الماریوں اور ٹیچی کیسوں میں پیسے سرے عام کھلے پڑے ہوتے تھے ۔شروع میں تو وہ اکیلا ہی تھا لیکن جیسے جیسے پیسے آنے شروع ہوئے اس نے ملازم اور گارڈ بھی رکھ لیے حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کبھی کسی نے اسے لوٹنے کی کوشش نہیں کی۔ رقم جمع کروانے والے اور نکلوانے والے کو بھی کوئی پرٹوکول نہیں دیا جاتا تھا، بس اس سے پرچی لی جاتی اور رقم ادا کردی جاتی یا پیسے گن کر پرچی گاہک کے حوالے کردی جاتی۔ چائے پانی تو دور کی بات کسی کو پانی بھی نہیں پوچھا جاتا تھا ۔

لیکن اب اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجئےسید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ کو رہائی کے 16 ماہ بعداکتوبر 2015ءمیں لاہور میں ہارٹ اٹیک ہوا. یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا‘اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی‘یہ گھر آیا،لیکن پھر یہ شخص اکتوبر 2015ءکو انتقال کر گیا.یہ شخص چار ارب روپے کا مالک ہونے کے باوجود دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا۔ آخر میں ایک اور دلچسپ بات آپ کو بتاتا چلوں کہ کسی صحافی نے امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا تھا کہ فرض کریں کہ آپ اپنی تمام دولت دولت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو آپ کون سا کاروبار کرنا چاہیں گے تو دنیا کے اس طاقت ور انسان نے جواب دیا کہ وہ پونزی کا کروبار کرنا پسند کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Shirazi کہتے ہیں

    جس جانفشانی سے آپ نے تحقیق کرکے میرے جیسے کم علموں کے لئے یہ نادر روزگار مضمون قلمبند کیا اسکے لئے آپ یقیناً قابل ستائش ہیں۔ آپ کا احسان یہ قابل رحم قوم آپکی ایک اور کاوش کو نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ اگر روزگار سیاست سے وابستہ چند افراد کی اسی نوع کی سرگرمیوں کی تحقیق کرکے انکے کھرب پتی بننے کی چند ایک داستانیں رقم کردیں۔ ہر چند اس قوم کا جاگنا کسی معجزے سے کم نہ ہوگا لیکن آپکی جگانے کی کوشش تاریخی سمجھی جائے گی۔ ۔روز حشر شاید یہ کوشش آپکی نجات کا سبب بن جائے۔ بازار سیاست کے ڈبل شاوں کی حقیقی کہانیاں قلمبند کرکے آپ امر ہو سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.