نیا تعلیمی سال اور مغربی طرز تعلیم کا بڑھتا رجحان

749

دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو دوسروں کے نظام کو اپنائے بغیراپنے نظام کو بہتر سے بہتر کرنے میں کوشاں ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک اچھا اور کامیاب نظام وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔ آج آزادی کے کئی برس گزر جانے کے باوجود ہم مغربی کلچر کو نہیں بُھلا پائے۔ گزشتہ سال ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں یکساں نظامِ تعلیم کے لئے اسکولوں سے مغربی طرز تعلیم کو ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اُس پر عمل درآمد اب تک تو نہیں ہوسکا ہے لیکن بد قسمتی سے جس نظام کے خاتمے پر سوچا جارہا ہے اس کے فروغ پر تعلیمی ادارے (اسکول مافیا) ایک ہی مشن پر ہے۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر کراچی کے بیشتر اسکولوں میں مغربی طرز تعلیم کی بڑی دھوم مچائی جارہی ہے۔ والدین کو مغربی طرز تعلیم سے متاثر کر کے بچوں کے روشن مستقبل کے جو سبز باغ دیکھائے جارہے ہیں وہ طلباء و طالبات کے اچھے مستقبل سے کہیں زیادہ اِس مافیا کی جانب سے کمائی کا اچھا ذریعہ ہیں۔

۱۶۰ سے زائد ممالک میں تقریبا دس ہزار اسکولز مغربی تعلیم دے رہے ہیں اِ سی لئے آج کیمبرج نظام تعلیم دنیا بھر کی جدید تعلیم تصور کی جاتی ہے۔ اس طرز تعلیم سے متاثر بھی وہی والدین ہورہے ہیں جن کی جیبیں بھری ہوئی ہے اور کیوں نہ ہوں اس مہنگے ترین نظام تعلیم کےبر عکس ہمارے تعلیمی نظام میں بے انتہا خامیاں ہیں۔ مگر یہ تعلیمی نظام تمام والدین کی دسترس میں نہیں ہے۔ جہاں ایک ہی گھرانے کے کئی بچے تعلیمی مراحل میں ہوں وہاں اس مہنگائی کے دور میں مہنگی تعلیم والدین کے لیے ایک امتحان ہے۔ مغربی تعلیمی نظام کے فروغ سے یہ باورکرایا جانا کہ اچھے مستقبل کی ضمانت مغربی تعلیم اور کلچر ہے تو ایسا ہر گز نہیں ہے، ہم اپنے تعلیمی نظام میں بہتری لاکر بھی ترقی کر سکتے ہیں۔

آج ملک کے اعلٰی عہدوں پر فائز شخصیات کا مستقبل مغربی طرز تعلیم نے نہیں سنوارا بلکہ ان تعلیمی اداروں نے بنایا ہے جو کبھی غریبوں کی پہچان سمجھے جاتے تھے مگر آج کم فیسوں میں جدید تعلیم کا تصور تو مِٹ ہی گیا ہے۔مغرب کے عطا کردہ نظام سے متاثر ہو کر ہم اپنے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا بیٹھے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنا تعلیمی نظام بدلیں، ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہماری ترجیح ایسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے جہاں امیر و غریب کا بچہ یکساں تعلیم حاصل کر سکے۔ ایسی طرز تعلیم جس کا مقصد ڈگری کے حصول تک محدود نہ ہوبلکہ جس سے عملی طور پر بھی طلباء و طالبات کے مستقبل کو نکھارا جا سکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.