ماحولیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات: کیا پاکستان محفوظ ہے؟

919

ماحولیاتی تبدیلی (یعنی گلوبل وارمنگ) کے عمل میں چند مخصوص گیسوں کا اخراج ہماری زمین کا عمومی درجہ حرارت بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ ان گیسوں کو سائنسی اصطلاح میں گرین ھاؤس گیسز کہتے ہیں اور ان میں میتھین، نائٹرس آکسائیڈ، کلورو فلورو کاربن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ تاہم کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنی اخراج کی مقدار کے لحاظ سے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

زمین پر موجود انسان، جانور اور سمندری حیاتیات سبھی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج کرتے ہیں، تاہم انکی مجموعی مقدار دوسرے ذرائع سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت بہت چھوٹی ہے۔ ان ذرائع میں تیل و گیس سے چلنے والے بجلی گھر، کاریں، سیمنٹ پلانٹ اور دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ صرف سال 2018 میں انسانی استعمال سے سینتیس کروڑ ٹن اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہماری فضا میں داخل ہوئی۔ تاہم اس میں پاکستان کا حصہ تقریبا ڈھائی لاکھ ٹن ہے، یعنی کل اخراج کے ایک فیصد سے بھی کہیں کم۔ جہاں یہ امر خوشی کا باعث ہے، وہیں حال ہی میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی نے پوری دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ صرف گزشتہ سال میں چھ کروڑ سے زائد افراد ماحولیاتی تبدیلی سے براہ راست متاثر ہوئے۔ جن میں سے بیس لاکھ افراد کو جانی نقصانات سے بچنے کیلئے نقل مکانی کرنا پڑی۔ حیران کن طور پر بیشتر متاثرہ ممالک کا تعلق افریقہ سے ہے جو کہ نہ صرف صنعتی اعتبار سے پسماندہ ہیں بلکہ ان ممالک سے فاصلاتی طور پر بہت دور ہیں، جن کو عمومی طور پر گلوبل وارمنگ کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بیشتر پاکستانی انجان ہیں۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ شاید یہ صرف اہل مغرب کا مسئلہ ہے اور ہم محفوظ ہیں۔ تاہم یہ سوچ قطعی غلط ہے۔ ہمارے ملک میں ماحولیاتی تبدیلی اسی طرح باعث نقصان ہے جس طرح کسی مغربی ملک میں۔ گزشتۂ کئی سال سے کراچی اور اندرون سندھ میں آنیوالی گرمی کی لہر سے اب تک پانچ ہزار افراد کی اموات ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہی ہیں۔ مزید برآں پاکستان میں بتدریج کم ہوتی برف باری، دریاؤں میں پانی کی کمی اور سرد دنوں کی گھٹتی ہوئی تعداد چند ایسے اعلامیے ہیں جو شاید عام پاکستانیوں کیلئے تعجب کا باعث نہ ہوں، مگر سائنسدانوں کیلئے پریشان کن ہیں۔ کیونکہ یہی موسم پاکستان میں ٹھنڈے موسم کے پھلوں (جیسے سیب، آڑو، خوبانی، وغیرہ) اور خشک میوہ جات (جیسے چلغوزہ، اخروٹ، بادام، وغیرہ) کی پیداوار کا سبب ہے۔ ابھی حال ہی میں میوہ جات (خاص کر چلغوزہ) کی بڑھتی قیمت کی ذمہ دار مانگ میں اضافہ کے ساتھ سالہاسال سے کم ہوتی پیداوار ہے، جس کا باعث ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ مزید برآں یہی ٹھنڈا موسم پانی کے ذخیرہ کا موجد ہے، اسی پگھلتی برف سے ہم پورا سال اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور سستی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر یہ برف مزید کم ہوئی، تو مستقبل قریب میں ہم پانی اور بجلی کی شدید قلت کا شکار ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ ایسا کچھ ہو، یہ ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عام عوام ایسی سادہ عادات اپنائیں، جن سے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے؛
۱)
زیادہ سے زیادہ درخت لگائیے۔ انکا خیال بھی رکھیں۔ ایک درخت سالانہ پچیس کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کرتا ہے۔
۲)
ایک بار استعمال والے پلاسٹک لفافے سے گریز کریں۔ مضبوط پلاسٹک سے بنے تھیلے لیجئیے جن کو بارہا استعمال کیا جا سکے۔ کپڑے سے بنا تھیلا مزید بہتر ہے۔
۳)
کم فاصلہ کیلئے پیدل جائیں یا سائیکل کا استعمال کریں۔ زیادہ لمبے سفر کیلئے بس کو فوقیت دیں۔ گاڑی کو صرف زیادہ سواریوں کی صورت میں استعمال کریں۔ دفتر آنے جانے کیلئے “کار پولنگ” کریں۔ یاد رکھئیے کہ ایک لیٹر پٹرول کی بچت سے آپ نہ صرف پیسے بچائیں گے، بلکہ تین کلو اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی فضا میں داخل نہیں ہو گی۔
۴)
بجلی اور پانی کم سے کم استعمال کریں۔ ہر اضافی یونٹ ایک کلو اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا باعث بنتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق ان چند تبدیلیوں کے ساتھ کم و بیش پندرہ ہزار روپے سالانہ بچت کی جا سکتی ہے اور پانچ لاکھ ٹن اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بچا جا سکتا ہے۔ اسطرح پاکستان ان چند خوش قسمت ممالک میں شامل ہو گا، جو اپنی پیداوار سے زیادہ اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تدارک کرتے ہیں۔ آئیے، ہم یہ چھوٹی چھوٹی معاشرتی تبدیلیاں اپنائیں، جن سے ماحولیاتی تبدیلی کو کم کیا جا سکے اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو جاۓ۔

ڈاکٹر حنبل سلیمان ٹیکنیکل یونیورسٹی آف ڈنمارک میں میری کیوری ریسرچ سکالر ہیں اور انسانی خون میں موجود کیمیائی اجزاء سے ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان سے رابطہ انکے درج ذیل لنکڈ ان اکاؤنٹ پر کیا جا سکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.