فیصلے کی عبارت سے ’’پھانسی ‘‘کا لفظ غائب ہو گیا

2,080

خوف سے جج کاچہرہ متغیر ہو گیا۔ یہ کیسے ہو گیا۔ وہ زیر لب بڑ بڑایا۔ کئی اور ججوں کی نگاہیں کاغذ پر جمی ہوئی تھیں ، جیسے وہ فیصلے کی تحریر سے چپک کر رہ گئی تھیں۔اسے تختہ دارسے اتارو۔اسے بری کیا جاتا ہے۔جج کی آواز گونجی۔ یہ تب کی بات ہے جب پاکستانی روپیہ ڈالر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا کرتا تھا۔ واقعہ کہیں ہمارے گاؤں کے پاس کا تھا۔ متاثرہ خاندان کے کسی فرد نے سنایاتھا۔ تب مجھے یہ بات سمجھ نہ آئی ۔اب تو اس نظام پرمیں نے کئی کتابیں لکھ دی ہیں۔ پورا واقعہ بیان کرنے سے پہلے کچھ آنکھوں دیکھی سنا دوں۔

راؤ جمشیدواپڈا میں ایک معقول آفیسرتھے۔ قد کاٹھ مناسب تھا۔ سنجیدہ اور قابل احترام تھے۔ ایک دن میرے پاس آئے ۔ صورت سے وہ اداس اور دکھی لگ رہے تھے ۔ان کے والد راؤ خورشید بھی میرے پاس آتے رہتے تھے۔ میں ان کے گھر بھی جا چکا ہوں۔ پرانی حویلیوں کی روایتی طرز پر بیرونی دروازہ ایک بڑے کمرے میں کھلتا ہے۔ معروف نعت گو شاعرراجہ رشید محمودسے میری ملاقات انہی نے کرائی۔راؤ صاحب ،راجہ صاحب کے قریب ہی رہتے تھے۔ میں نے ان کی صورت دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ بہادرراجپوت کوکسی پریشانی نے آلیا ہے۔ میں نے پوچھا توکہنے لگے، کیا بتاؤں سکندر صاحب ایک کورس کے لئے میرا نام منظور ہوا تھا، مگر میرے آفیسر نے اپنا نام لکھوا دیا۔ میں نے کہا کہ کورس توآپ کے کام سے متعلق ہوگا ،پھرافسر وہ کورس کر کے کیا کرے گا؟۔اس نے کہا:وہ کورس کرنے تھوڑا جا رہا ہے،وہ تو محکمے کے خرچ پردو ہفتے کے لئے فیملی کو جرمنی کی سیر کرانے لے جا رہا ہے۔ یہ ہے ہمارا نظام ۔ حق دار کو پیچھے دھکیل کر خود آگے ہو جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا تو اس سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟۔اس نے کہا :اس کورس کے بعد ترقی اور تنخواہ میں بڑھوتری ہو جاتی۔ میں نے کہا :اب آپ کیاکریں گے؟ اس نے دکھی آواز میں کہا:اب کیا ہو سکتاہے، پرسوں روانگی ہے،ایک دن میں کیا بھگ دوڑ ہو سکتی ہے؟ وہ افسرہے اس کے خلاف میری بات کون سنے گا؟ پھر افسر سے دشمنی لے کرنقصان ہی ہو گا؟

میں نے کہا آپ جانا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا:بیرون ملک تربیت کے لئے جانے کا موقع روز روزنہیں ملتا ۔عہدے میں ترقی ،تنخواہ کا بڑھنااورپھر کسی کام میں بیرون ملک تربیت کی کلغی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ میں نے مسکرا کرکہا آپ جانا چاہتے ہیں؟ کہنے لگے اب کیساجانا ؟ اس کے نام کے کاغذات مکمل ہو چکے۔میں نے کہاجانا چاہتے ہیں توطریقہ ہم بتا دیتے ہیں ،تھوڑی محنت آپ کر لیں۔اسے میری بات کا شاید یقین نہیں آرہا تھامگراسے اس بات کایقین تھاکہ ہم جو کہہ رہے ہیں وہ شک و شبہ سے بالاہے۔اس نے سوچاہو گا کہ ایک دن کی بات ہے ،کر کے دیکھ لو۔پرسوں تو میلہ اجڑ ہی جائے گا۔اس نے کہا،آپ بتائیے ،میں کروں گا۔میں نے کہا:رات کوعشا کے بعد دو رکعت صلٰوۃ الحاجات کی نیت کیجئے۔ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ۴۵۰(چار سو پچاس ) بار’’حَسْبُنَااللہُ ونِعمَ الْوَکِیْل ‘‘کا ذکر کیجئے۔ دونوں رکعتوں میں یہ تعداد۹۰۰(نو سو)ہو جائے گی۔ کسی سے بات نہ کیجئے گا اوراپنے بستر پر جا کرسو جا ئیےگا۔ اگلی رات پھر پڑھ لیجئے۔ جاتے ہوئے اس کے چہر ے پروہ پریشانی نہیں تھی۔ کوئی ہفتے دس دن بعد جرمنی سے اس کا خط آیا۔ بہت شکریہ ادا کیا۔ وہ بہت خوش تھا۔اس نے پوری تفصیل لکھی تھی۔ اس نے لکھا تھا کہ جانے کیوں افسر نے جانے سے خودہی انکار کردیا۔ سو میرا نام تو پہلے ہی تھا۔ میں بہت خوش ہوں۔ آپ کے لئے جرمنی سے کیا تحفہ لاؤں۔ میں نے کہا :میرا تحفہ آ پ کی خوشی ہے۔

ایک اور واقعہ سن لیجئے ۔ ہمارے ایک قریبی رشتہ دار (میں نام نہیں لوں گا)زرعی بنک کے منیجر تھے۔غبن یا رشوت لے کرقرضے جاری کرنے کے الزام میں ان پر مقدمہ بنا۔ پہلے تو تبادلہ گھر سے بہت دور کر دیا گیا پھر کیس چلا۔ سب کا خیال تھا کہ اب وہ جلد ہی نوکری سے فارغ ہو جائے گا اور قید وبند بھی بھگتنا پڑے گی۔ وہ روتا پیٹتا والد گرامی کے پاس آیا اور کہنے لگا، سب تباہ ہوگیا۔آپ کچھ کیجئے۔ والد گرامی نے کہا۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل ۔۔ سوا لاکھ کر لے۔اول آخر گیارہ گیارہ بار درود شریف پڑھنا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔اس نے منت کرتے ہوئے کہا۔آپ بھی کچھ کیجئے۔ والد صاحب نے کہا :جا! کر تو دیا۔کیس بھی ختم ہو جائے گا نوکری بھی رہ جائے گی۔ پھرجلد ہی ،کیس بھی ختم ہوااور واپس اسی سیٹ پر تبادلہ ہو گیا۔

میرے دوست قاضی امداد الحق کا چھوٹا بھائی نصیر الحق ایل ڈی اے میں کسی دستخط کرنے والی سیٹ پرکام کر رہا تھا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ بھلا شریف لڑکا تھا۔اب تو وہ پوراآدمی ہے۔ ایک دن امداد صاحب کہنے لگے۔ سکندر بہت برا ہو گیا۔ نصیرپر ناجائز کیس بن گیاہے۔ وہ بے قصور ہے مگر وہ ایسا پھنسا ہے کہ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتا۔اس کے دستخط ہیں۔ فراڈ کرنے والے کب
کے نوکری چھوڑ کر ملک سے باہرجا چکے۔ دستخط نصیر کے بھی ہیں مگر وہ اس ہیرا پھیری میں شامل نہیں تھا۔لا پرواہی میں پھنس گیا۔ میں نے کہا،پھرکیا ہوا،دستخط ہیں تو ہوتے پھریں۔ یہی عمل میں نے انہیں بتایا۔ نصیر الحق باعزت بری ہوااور ملازمت کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہوا۔

اب اس واقعہ کی طرف آتے ہیں کہ پھانسی کا لفظ کیسے غائب ہو گیا۔ایک جوان لڑکے کوقتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ہو گئی۔ماں باپ روتے پیٹتے ایک عامل کے پاس گئے۔ سات ہزارمیں سودا ہو گیا۔عامل نے فیصلے کی نقل منگا ئی اورپڑھائی شروع کر دی۔ وہ آٹے کا ایک پیڑا لیتا۔ سلام قولا من ر ب رحیم اس کے اعداد کے مطابق پڑھتا ،آٹے کے پیڑے پر دم کرتا اورپیڑے کوپھانسی کے لفظ پر رکھ دیتا۔ کچھ عرصہ بعد کاغذ سے پھانسی کا لفظ غائب ہو گیا۔عامل نے گھر والوں سے کہا:جاؤ تمہارا بیٹا بری ہو گیا۔ پھانسی کے دن فیصلے کو پڑھنے کے لئے لایا گیا تو اس میں لفظ پھانسی غائب تھا ۔ ججوں نے سوچاانہوں نے ضرور غلط فیصلہ دیا تھا ،اسی لئے قدرت نے لفظ پھانسی مٹا دیا۔انہوں نے مجرم کو وہیں رہا کر دیا۔

یہ ہے وہ باطنی نظام جس کے آگے فرعون ایسے سر کش دم نہیں مار سکتے۔ وہ گھوڑے کو دریائے نیل میں ڈالنا نہی چاہتا تھا مگر اسے کیا معلوم تھا کہ سر کش گھوڑا آگے جاتی ہوئی ایک خوبصورت گھوڑی کے پیچھے لپکتا بپھرے ہوئے دریائے نیل میں اترجائے گا۔ وہ گھوڑ ی فرعون کے گھوڑے کے سوا کوئی نہیں دیکھ سکا تھا۔ فرعون اترا تو لشکر نہ چاہتے ہوئے بھی دریا میں اتر گیا اورغرق ہو گیا۔ یہ نظام کیا ہے؟اس پر ہم اپنی کتابوں میں تفصیل سے بات کر چکے ہیں۔ میرے اپنے کئی واقعات ایسے ہیں کہ وہ اگر کسی اور پربیتی ہوتی اورمیں اس باطنی نظام کو نہ جانتا تو اس کی بات پر کبھی اعتبار نہ کرتا ۔اپنے واقعات آئندہ پر رہے۔
٭٭٭

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.