چین میں مچھلیاں باتیں کرتی ہیں

1,083

چین دنیا کا سب سے تیزی سے ابھرنے والا ملک ہےیہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ یہاں بہت سی حیران کن چیزیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں مچھلیاں باتیں کرتی ہیں۔ میں بیجنگ کی ایک یونیورسٹی میں رہتا ہوں اور ابھی تھوڑی دیر پہلے کی بات ہے میں مچھلیوں سے باتیں کر رہا تھا، آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن خدا کی قسم میں باتیں کر رہا تھا کبھی زبان سے اور کبھی ہاتھ کے اشاروں سے اور وہ جواب بھی دے رہی تھیں. میں آہستہ بولتا یا زور سے وہ اپنی حرکت سے مجھے بتا رہی تھیں کہ وہ سن سکتی ہیں، میرے ہاتھ کے اشارے پر وہ یہاں سے وہاں جارہی تھیں۔ مجھے لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی کسی انوکھی طاقت سے نوازا ہے اور شاید میں بھی کوئی سپر مین یا اسپائیڈر میں بن گیا ہوں۔ وہ ہی مچھلیاں جو کل تک مجھے لفٹ نہیں کراتی تھیں آج میرے اشاروں پر ناچ رہی تھیں۔

ہوا کچھ یوں کہ میں جس بلڈنگ میں رہتاہوں اس کے بالکل سامنے ایک چھوٹا سا نہایت ہی خوبصورت تالاب ہے، تالاب میں کئی اقسام کی چھوٹی مچھلیاں ہیں اور تالاب کو پانی سے بھرا رکھنے کیلئے کچھ فوارے لگے ہیں جو گرمیوں میں تقریبآ روز چلائے جاتے ہیں۔ یہاں سردیاں مکمل ختم نہیں ہوئیں دن میں گرمی کچھ دیر کو اپنا آپ دکھاتی ہے اور پھر سے نرم پڑ جاتی ہے گویا سردی گرمی دونوں ابھی ”تو چل میں آیا” والا کھیل کھیل رہے ہیں۔ گرمی کو یوں دستک دیتا سنا تو انتظامیہ نے فوارے ٹھیک کرنے کیلئے تالاب کو خالی کیا اور بہت تھوڑا سا پانی چھوڑ دیا جو کچھ روز سے مچھلیوں کا مسکن بنا ہوا ہے۔

مجھے اس تالاب میں دوڑتی مچھلیاں بہت پسند تھیں ،میں کئی بار اس تالاب کے کنارے بیٹھے انہیں دیکھتا رہتا تھا۔ اب جب تالاب ایک چھوٹا سا چھپڑ بن گیا ہے بلکہ ایک گڑھا جس میں ذرا سا پانی ہے اور آس پاس صرف گار ہی باقی رہ گیا ہے تو یہاں بھلا مچھلیاں کیسے زندہ رہ سکتی ہیں؟۔ گندگی کے ڈھیر کے پاس اور مری ہوئی مچھلیوں سے اٹھتے ہوئے تعفن کے پاس آپ کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟۔ میں جونہی جانے کیلئے کھڑا ہوا کافی مچھلیاں ایک دم بھاگ کر دوسرے کنارے پر چلی گئیں، میں یہ دیکھ کر حیران ہوا میں نےآواز لگائی تو انہوں نے پھر سے حرکت کی۔ مجھے عجیب لگا، میں دوسری طرف گیا وہ وہاں سے بھی بھاگیں، اب میں کبھی آواز لگاتا کبھی ہاتھ کو ہوا میں لہراتا ،وہ ہر بار حرکت کرتی یہاں وہاں بھاگتیں ۔ مجھے لگنے لگا تھا جیسے میں ان سے باتیں کررہاہوں ، کمیونیکیٹ کر رہاہوں اور وہ مجھے فیڈبیک دے رہی ہوں۔

تالاب کے ایک کنارے پر بہت سی مچھلیاں مر چکی تھیں اور کچھ گار میں پھنسی ہوئی موت کا انتظار کررہی تھیں، کچھ طاقتور مچھلیاں پانی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئیں۔ میں نے جونہی یہ منظر دیکھا تو مجھے پاکستان کی بہت یاد آئی، مجھے ان مچھلیوں میں اپنا عکس دکھائی دیا، میرے لوگ دکھائی دئیے، پاکستان کی عوام نظر آئی۔ ایک دم سے مچھلیاں عوام بن گئیں اور میری آواز سیاستدان کے نعرے بن گئے، میرے ایک ایک نعرے پر مچھلیوں کے جھمگٹے یہاں سے وہاں ہوتے رہے، میرے ہاتھ کے اشارے ڈکٹیٹر کی چھڑی بن گئے اور مچھلیاں الیکٹیبلز بن گئیں، میں جہاں کو ہاتھ ہلاتا وہ وہاں بھاگ جاتیں۔ انتظامیہ مجھے اس ملک کے کرتا دھرتا نظر آنے لگے وہ کرتا دھرتا جو ان مچھلیوں کو زندہ رکھنے کیلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن کچھ نہیں کرتے۔ تالاب کے باہر کھڑا میں اور مجھ جیسے کئی لوگ تماشبین بنے بیٹھے ہیں یا پاس سے گزرجاتے ہیں مچھلیاں زندہ رہیں یا مرجائیں ہماری زندگی میں کوئی خلل نہیں آئے گا اور نہ آنا چاہئے کیوں کہ ہم محفوظ ہیں۔

مجھے شدت سےاحساس ہوا کہ ہمارے ہاں یہی تو ہوتا ہے، ہم ہر سال الیکشن سے پہلے ملک اور سسٹم کو ٹھیک کرنے کے بہانے ایسا ماحول بناتے ہیں کہ صرف بڑی مچھلیاں ہی زندہ رہتی ہےاور چھوٹی تقریباً مرنے کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔ ہمیں فواروں جیسی ظاہری چیزوں کی فکر ہوتی ہے مچھلیوں کی تڑپ کوئی دیکھتا ہی نہیں۔ پھر اس کے بعد کسی بھی اپنی پسند کے شخص کو لیڈر کے طور پر سامنے لایا جاتا ہے جو عوام کو سبز باغ دکھاتا ہے، عوام کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کا یقین دلاتا ہے، ووٹ لیتا ہے اورایسے بھول جاتا ہے جیسے اس تالاب کی انتظامیہ فواروں کو ٹھیک کرنے کے بہانے پانی نکال کر بھول گئی اور کتنی ہی مچھلیاں موت کے منہ میں چلی گئیں۔

ہمیں اس بات کا قائل کردیا جاتاہے کہ فلاں منصوبہ عوام کی فلاح کیلئے ہے، فلاں منصوبہ مکمل ہوگیا تو ملک و قوم دن دگنی رات چگنی ترقی کرینگے لیکن حقیقت میں وہ منصوبہ آنے والے کئی سال مکمل نہیں ہوتا اور اس کے ساتھ ساتھ کئی اور مسائل سر اٹھا لیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ مسائل حل کرنے کا سوچتی ہی نہیں ہے صرف سیاست چمکانے کا سوچتی ہے۔ میرا تعلق لاہور سے ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے کہ میں نے جس جماعت اور شخص کو ووٹ دیا اس نے گزشتہ کئی سال سے لاہور کو پانی فراہم کرنے کا کوئی ایک بھی بہترین منصوبہ نہیں پیش کیا، کوئی بھی سیاسی جماعت کا رہنما، بیوروکریٹ یا کوئی بھی اور ذمہ دار شخص منصوبہ بندی سے کام ہی نہیں کرتا۔

مجھ سمیت میرے ملک کا ہر شخص صرف ڈنگ ٹپائو پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ بس وقتی فائدہ ہونا چاہئے بعد میں پتہ نہیں حکومت ملنی ہے یا نہیں۔ پانی یقنناً آنے والے وقت کا سنگین ترین مسئلہ ہے لیکن اس کے علاوہ اور بہت سے بحران ہیں جو بہت جلد سراٹھائیں گے۔ آنے والا وقت ایسا ہوگا جس میں صرف بڑی مچھلیاں ہی زندہ رہ سکیں گی اور چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تڑپ تڑپ کر جان دے دیں گی۔ کیوں کہ ہمارے ہاں ہر شخص اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کا کام کرنے میں مگن ہے، عدالتیں انصاف کرنے کے بجائے سیاست کرتی نظر آرہی ہیں، ملک کی حفاظت کرنے والے ملک کو چلاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، سیاست دان بھیگی بلی بن کر اپنی جان بچا رہے ہیں، جو عوام سے سر اٹھا کر ووٹ مانگا کرتے تھے آج وہی سر جھکا کر اپنی جان بخشی کی بھیگ مانگ رہے ہیں۔ بیوروکریسی تو پہلے ہی کسی کی سگی نہیں ہے۔

ہمارےہاں جو کچھ نہیں کرتا وہ سب سے اچھا سمجھا جاتا ہے، جو کچھ کرتا ہے وہ سب سے برا سمجھا جاتا ہے اور جو صرف باتیں کرتا ہے اسے تو ہم فرشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں ، آنکھوں پر پٹی باندھ کر یہ یقین کرلیتے ہیں کہ اتنی اچھی باتیں کرنے والا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے؟ کوئی نہ کوئی تو حل نکال ہی لے گا ، سارے مسائل حل کردے گا۔ لیکن دراصل وہ مسائل حل نہیں کر رہا ہوتا وہ صرف باتوں کا چورن بیچ رہا ہوتا ہے جو ہم ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے ہیں ۔ پاکستان سے تیل کے کنویں نکلیں، زمین سونا چاندی اگلےیا خدا ایک بار پھر سے من سلویٰ اتار دے، ہمارا حال ایسا ہی رہے گا کیوں کہ ہمارا مسئلہ بڑے بڑے مسائل نہیں بلکہ ہمارا مسئلہ ہم خود ہیں ، ہمارے ادارے خود ہیں۔

ہمارے ہاں کوئی شخص اپنا کام نہیں کر رہا دوسرے کےکا م میں ٹانگ اڑائے بیٹھا ہے۔ ڈاکٹر خود کو پیسہ کمانے کی مشین سمجھ بیٹھے ہیں، کمپوڈر ڈاکٹر بن کر عوام کو لوٹ رہاہے۔ چونا لگانے والا سیاستدان بن گیا ہے اور واعظ کرنے والاعوام کو چونا لگا رہا ہے۔ لوٹ مار کرنے والے رکھوالے بن گئے ہیں اور جنہیں رکھوالی کرنی ہے وہ اپنے ہی لوگوں پر ظلم کررہےہیں ان پر سرعام گولیاں برسا دیتے ہیں۔ علم والے سڑکوں پر جہالت پھیلا رہے ہیں اور جاہل گھر میں دبک کر بڑی بڑی علم و عقل کی باتیں کررہے ہیں بلکہ سڑک پر کھڑا ریڑھی بان اسد عمر کو معیشت چلانے کے مشورے دے رہا ہے۔ کوئی ایک شخص ایسا نہیں ہے جو اپنا کام کر رہا ہو یا جس کا فوکس اپنے کام پر ہو۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے الیکشنز میں یہ سوچ کر حصہ لیا تھا کہ پیسہ بنانا ہے۔ کیوں کہ جو بھی حکومت میں ہے وہ دھڑا دھڑ اپنوں کو نواز رہا ہے اور جن کے بل پر حکومت کی ہے وہ چھوٹی مچھلیوں کی طرح تڑپ رہے ہیں۔ ادویات مہنگی کرنے سے ٹھنڈ نہیں پڑی تو سرکاری اسپتالوں کی ادویات پر بھی قیمت وصول کی جانے لگی۔ سیکڑوں ارب روپے کی کرپشن روکنے والے مہنگائی نہیں روک پا رہے۔ اگر کوئی چوں چرا کرے تو ایسے سیاسی دشمن بنا کر ایسے ٹارگٹ کیا جاتا ہے کہ وہ ہم میں سے ہے ہی نہیں۔

اس وقت کچھ ایسی صورتحال بنی ہوئی ہے کہ میرے تالاب یعنی ملک میں چھوٹی مچھلیاں مرنے کے قریب ہیں اور ایسا تعفن اُٹھ رہا ہے کہ پاس سے گزرنے سے بھی ڈر لگ رہا ہے۔ لیکن یہ میرا تالاب ہے میں بھی اسی تالاب کی ایک چھوٹی سی مچھلی ہوں، جتنے مرضی بڑے سمندر میں رہ لوں آخر کار جانا تو اپنے تالاب میں ہی ہے، مجھے صاف دکھائی دے رہاہے کہ اپنے تالاب میں جاتے ہی میں سسک سسک کر جان دینے پر مجبور ہوجاؤں گا اور میری انتظامیہ صرف فواروں کی دیکھ بھال میں مصروف رہے گی۔

بہت سے لوگ کہیں گے ملک کی اتنی ہی فکر ہے تو یہاں آکر ملک و قوم کی خدمت کرو باہر کیوں جاکر بیٹھ گئے ہو؟۔ ان کے لئے ایک لائن اضافی لکھ رہاہوں، ملک و قوم کی خدمت تو ملک و قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والے نہیں کر رہے تو مجھ ناچیز سے کس بات کا شکوہ؟ سب باتوں سے کام چلا رہے ہیں تو مجھے بھی چلا لینے دو آخر ہوں تو اسی تالاب کی مچھلی نہ !

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.