ٹرمپ فلسطینیوں کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں !

850

صدر ٹرمپ۲۱ مارچ کو وائٹ ہاوس کی پریس کانفرنس میں شاہانہ طمطراق سے شام کے گولان کے پہاڑی علاقے کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے فرمان پر دستخط کرتے ہوئے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنے برابر میں بیٹھے خوشی سے نہال اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یہ فرمان ایسے دے رہے تھے کہ جیسے ایک داد گیر لوٹا ہوا مال غنیمت بانٹ رہا ہو۔

صدرٹرمپ نے بین الاقوامی قوانین کے منافی اپنے اس اقدام کا یہ جواز پیش کیا کہ یہ اقدام اسرائیل کی سلامتی اور دفاع کے لئے لازمی ہے کیونکہ شام کی خانہ جنگی میں ایران گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے فرمان میں کہا ہے کہ ” میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ امریکا گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرتا ہے ”۔ ان کا یہ ”تاریخٰی اعلان” اس بارے میں بالکل خاموش ہے کہ امریکا کو یہ اختیار کس نے اور کس قانون کے تحت دیا کہ وہ کسی ایک ملک کے ایک حصہ کو دوسرے ملک کا حصہ قرار دیں۔ لیکن صدر ٹرمپ طاقت کے نشہ میں اس قدر چور ہیں کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی بین الاقوامی قوانین پر نظر ڈالنے کے ہوش میں نہیں ہیں اور فرمان وصول کرنے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہوش کے عالم میں بھی کبھی بین الاقوامی قوانین کی پاس داری نہیں کی۔

اسرائیل نے ۱۹۶۷ کی جنگ کے دوران شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں اسے اسرائیل میں ضم کرلیا تھا۔ اس دوران اسرائیل نے گولان سے دسیوں ہزار شامیوں کو جبرا ًان کے وطن سے نکال دیا تھا اور ان کی جگہ یہاں یہودیوں کو بسانے کے لئے ۳۴ یہودی بستیاں تعمیر کی تھیں۔یوں گولان پر قبضہ کے ساتھ اس علاقے میں آبادی کی صورتحال یکسر تبدیل کر دی۔اسرائیل گولان پر اس وجہ سے بھی اپنا دیر پا قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے کہ دریاے اردن کا منبع انہی گولان کی پہاڑیوں میں ہے ۔ پھر فوجی لحاظ سے یہ اسرائیلوں کے لئے بے حد اہم ہے کہ گولان کی بلندی سے شام کے پورے مشرقی علاقہ پر کڑی نگاہ رکھی جا سکتی ہے ۔ تاہم پچھلے ۵۲ سال کے دوران ایک لمحہ کے لئے بھی بین الاقوامی برادری نے گولان پر اسرائیل کے حق کو تسلیم نہیں کیا اور خود اب تک امریکا کے کسی صدر نے اور ان کی انتظامیہ نے گولان پر اسرائیل کی حاکمیت تسلیم نہیں کی۔ گولان کے بارے میں ٹرمپ کے اعلان پر یورپی یونین نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کو ایک مقبوضہ علاقہ کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عرب لیگ نے بھی ٹرمپ کے اعلان پر کڑی تنقید کی ہے۔

جب سے ٹرمپ بر سراقتدار آئے ہیں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر مشرق وسطی میں دراندازی کا عمل شروع کیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کرنا، ان کی کمر توڑنا اور ان کا قلع قمع کرنا ہے۔ سب سے پہلے ٹرمپ نے ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ اس منقسم شہر میں منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ پھر اپنے وطن سے اجڑے ہوئے فلسطینیوں کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی فنڈ میں اپنا حصہ ادا کرنے سے صاف انکار کردیا ،یہی نہیں ٹرمپ نے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کی بھر پور حمایت کی ۔

گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا علاقہ تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کا مقصد دراصل ۹ اپریل کو ہونے والے اسرئیلی عام انتخابات میں نیتن یاہو کوجتوانے کی کوشش ہے۔ ان انتخابات میں نیتن یاہو کا مقابلہ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ بینی گانٹزسے ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑے کانٹے کامقابلہ رہے گا۔ نیتن یاہو کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں لیکن ان کے مقابلہ میں بینی گانٹز فوجی کامیابیوں کی وجہ سے بہت مقبول ہیں ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا کا کوئی صدر براہ راست کسی غیر ملک کے انتخابات میں کسی ایک فریق کی کھلم کھلا مدد اور حمایت کر رہا ہے۔

فلسطینیوں میں اس بات کا شدید خطرہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے گولان کے مقبوضہ علاقہ کو اسرائیل کا حصہ قرار دیاہے اسی طرح صدر ٹرمپ مغربی کنارے پرفلسطینی انتظامیہ کے علاقہ کوبھی اسرائیل کا حصہ قرار دے سکتے ہیں۔ ویسے بھی مغربی کنارے پر فلسطینوں کے اکسٹھ فی صد علاقہ پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعہ اسرائیل نے قبضہ جما لیا ہے ۔ یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بارے میں صدر ٹرمپ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یروشلم کے بارے میں فیصلہ کے وقت دنیا کے لیڈروں نے ان پر زور دیا کہ وہ یہ نہ کریں لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ اعلان کیا اور کچھ نہیں ہوا اور سب ٹھیک ہوگیا ۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یروشلم کے بارے میں فیصلہ کیا اور ان کا کچھ نہیں بگڑا اسی طرح گولان کے بارے میں بھی فیصلہ تسلیم کر لیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نہ صرف اس بات پر پھولے نہیں سماتے بلکہ وہ اس بات پر بھی اپنی طمانیت نہیں چھپاتے کہ وہ تمام عرب رہنما جنہیں مغربی ممالک کی پشت پناہی حاصل ہے وہ فلسطین کے بارے میں امریکی صدر کے اقدامات کو خوشنودی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ،ابو ظہبی کے حکمران محمد بن زاید اور مصر کے عبدالفتاح السیسی نے اسرائیل کے ساتھ کھلم کھلا سیکورٹی اور تجارتی تعلقات استوار کر لئے ہیں اور خلیج کی دوسری ریاستیں بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہیں۔ بلا شبہ ان عرب ممالک نے جوفلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی جدوجہد میں پیش پیش تھے اب ان کا ساتھ دینے کا پیمان بُھلا دیا ہے اور فلسطینیوں پر جو ظلم و ستم ہورہا ہے اس پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔

پچھلے دنوں امریکی وزیر خارجہ مایک پومپیو سے اسرائیل کے دورہ پر پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ خدانے ٹرمپ کو خاص طور پر اسرائیل کو ایران کے خطرہ سے بچانے کے لئے بھیجا ہے۔ اس کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ ایک عیسائی کی حیثیت سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی عوام کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت اور مدد میں جو پالیسی اختیار کی ہے اس کے پیچھے خدا کی رضا ہے۔

بہرحال اس وقت فلسطینی یکسر تنہا اور بے یار و مدد گار ہیں اور ٹرمپ اور نیتن یاہو طاقت کے نشہ میں چور، فلسطینیوں کے حقوق کو ملیامیٹ کرنے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لئے من مانی کاروائی کر رہے ہیں ۔ اگر اس وقت فلسطینیوں کا کوئی حامی و مدد گار ہے اور امریکا اور اسرائیل کی ریشہ دوانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے تو وہ ترکی اور ایران ہیں لیکن افسوس کہ مسلم ممالک کی طرف سے ان کی حمایت نہیں کی جارہی ہے۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.