شریف برادران کیلیے عدالتوں سے راحتیں

1,181

قانون کے متعلق پاکستان میں ایک بڑی تفریق پائی جاتی ہے، غریب ہمیشہ قانون کے شکنجے میں اور امیر قانون سے بالاتر سمجھا جاتا ہے ۔ پیٹ کی بھوک کو مٹانے کیلئے روٹی کی چوری کرنے والا نہ صرف پولیس کو مطلوب ہوتا ہے بلکہ اس کو پہلے عوام کے غیض و غضب کا سامنا بھی کرنا ہوتا ہے ۔ دوسری طرف ملک کے اربوں ، کھربوں بیرون ممالک منتقل کرنے والے کو نہ صرف قانون ہاتھ لگانے سے دور رہتا ہے بلکہ ہم عوام بھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہم یوں کہیں کہ اس ملک میں قانون کی تفریق کے ساتھ ہماری سوچ کی تفریق بھی شامل ہے تو غلط نہ ہو گا۔

سال 2019 ء میں قانون میں نئی انگڑائی نظرآئی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر پنجاب حکومت کی طرف سے بنائی جانے والیJIT جب اپنی تحقیق مکمل کرنے کے قریب پہنچی تو لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت کو نوٹس کیے بغیر ایک فل بنچ تشکیل دیا جس پر حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر سماعت کی تاریخ رکھی اور پہلی ہی سماعت میں JIT کو کام کرنے سے روک دیا ۔ اس کے ساتھ ہی چند دن میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزم شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا آڈر جاری ہوتا ہے۔ دوسری طرف سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سزا کے بعد 6ہفتوں کیلئے ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے ۔ ایسی ضمانت کی مثال پہلے کہیں نظر نہیں آتی۔ ضمانت قبل از گرفتاری تو سمجھ آتی ہےلیکن نیب، احتساب، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ ہر جگہ سے مجرم قرار دے جانے کے بعد سزا یافتہ نواز شریف کیلئے ایسی نرمی کیوں؟ نیب کے بعد سپریم کورٹ کا بارگین کرتے ہوئے ملک ریاض کے مقدمات کو ختم کرنا بھی پہلی بار سامنے آیا ہے۔

قانون کو پس پشت ڈال کر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ سب شریف خاندان کو بچانے کیلئے ہو رہا ہے۔ لیکن عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کرپشن اور قتل کے مقدمات میں نامزد ملزموں کیلئے ایسی قانونی سہولیات دینا ایک نہیں دو پاکستان کو ثابت کرتا ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں لاکھوں کیس سماعت کے منتظر ہیں ، لیکن اعلی عدلیہ ان کے بارے بے فکر ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ انہیں اگر فکر ہے تو صرف اشرافیہ کے تحفظ کی ، امیروں کیلئے جیلوں میں سہولیات کی ، ان کی سیکورٹی بڑھانے کی اوران کے علاج و معالجہ کی ۔ اس کیلئےقانون کی تشریحات تبدیل کرنی پڑے یا اپنے اختیارات سے تجاویز کرنا پڑے سب بلا خوف و خطر کیا جارہا ہے۔

پارلیمنٹ ہو یا عدلیہ کہیں سے بھی آپ کو غریب کیلئے آواز اٹھتی نظر نہیں آئے گی۔ اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات پر بل پاس ہوں گے لیکن غریب کی تنخواہ کی کسی کو کوئی فکر نہیں ۔ ہر سال بجٹ میں مہنگائی ہونے کا دور پرانا ہوا ، اب تو ملک کو چلانے اور خسارے سے نکالنے کے نام پر سال بھر مہنگائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہم عرف عام میں یہ جملہ سنتے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے ، جبکہ پاکستان میں رائج قانون اندھا نہیں منافقت کی علامت ہے جو کہ صرف غریب عوام کیلئے اندھا ہوسکتا ہے لیکن امیروں کیلئے غلامی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کی ہر مشکل میں کوئی نہ کوئی شق نکال ہی لیتا ہے ۔ اس نظام میں رہتے ہوئے غریب کیلئے دعوے اور اس ملک میں خوشحالی کے نعرے صرف نعرے ہی رہیں گے۔ اگر ان کو عملی شکل دینی ہے تو اس فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا ہو گا۔ جب تک قانون کے رکھوالے اپنی وفاداریاں اس ملک عزیز کے ساتھ نہیں رکھیں گے اس وقت تک ایک نہیں دو پاکستان رہیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.